<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 14:35:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 14:35:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا 2035 تک خوردنی تیل میں 70 فیصد خود کفالت حاصل کرنے کا ہدف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286699/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور 2035 تک 70 فیصد تک خود کفالت حاصل کرنے کے لیے مقامی آئل سیڈز اور زیتون کی کاشت بڑھانے کا اسٹریٹجک منصوبہ تیار کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی ایئر بک 2024-25 کے مطابق پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ نے ایک اسٹریٹجک ڈیولپمنٹ پلان مرتب کیا ہے جس کے تحت 2035 تک ملک کی خوردنی تیل کی 70 فیصد ضروریات مقامی پیداوار سے پوری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے تحت سالانہ خوردنی تیل کی پیداوار اور درآمدی متبادل کو 2035 تک 4.578 ملین ٹن سے زائد تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس سے سالانہ 7.017 ارب ڈالر کی درآمدی بچت متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان اب بھی خوردنی تیل کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران ملک نے 4.169 ملین ٹن خوردنی تیل درآمد کیا، جس میں درآمدی آئل سیڈز سے حاصل کردہ 0.542 ملین ٹن تیل بھی شامل تھا۔ ان درآمدات پر 1,407 ارب روپے یعنی 4.971 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے مقابلے میں مقامی سطح پر خوردنی تیل کی پیداوار صرف 0.474 ملین ٹن رہی جبکہ درآمدات اور مقامی پیداوار سمیت مجموعی دستیابی 4.643 ملین ٹن تک پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایئر بک کے مطابق شعبے کی ترقی کے لیے دو بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں نیشنل آئل سیڈ انہانسمنٹ پروگرام اور پروموشن آف اولیو کلٹیویشن آن کمرشل اسکیل اِن پاکستان فیز-2 شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طویل المدتی منصوبے کے تحت آئل سیڈز کے زیرِ کاشت رقبے کو 1.240 ملین ہیکٹر سے بڑھا کر 4.600 ملین ہیکٹر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2035 تک 1,000 منی ایکسپیلرز اور 1,500 زرعی مشینیں فراہم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیتون کے شعبے میں بھی پیش رفت جاری ہے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران 822,452 زیتون کی قلمیں لگائی گئیں تاکہ معیاری اور بیماری سے پاک نرسری پودے تیار کیے جا سکیں۔ بلوچستان میں مختلف اضلاع میں 108,859 زیتون کے پودے کسانوں کے 33 فیصد لاگتی اشتراک سے لگائے گئے جبکہ 737 ایکڑ رقبے پر ڈرپ اریگیشن سسٹم نصب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق زیتون کی کاشت، باغات اور نرسری مینجمنٹ، ویلیو ایڈیشن اور آئل پراسیسنگ سے متعلق 45 تربیتی پروگرام بھی منعقد کیے گئے جن میں خواتین اور نوجوانوں سمیت 2,684 افراد نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور 2035 تک 70 فیصد تک خود کفالت حاصل کرنے کے لیے مقامی آئل سیڈز اور زیتون کی کاشت بڑھانے کا اسٹریٹجک منصوبہ تیار کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی ایئر بک 2024-25 کے مطابق پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ نے ایک اسٹریٹجک ڈیولپمنٹ پلان مرتب کیا ہے جس کے تحت 2035 تک ملک کی خوردنی تیل کی 70 فیصد ضروریات مقامی پیداوار سے پوری کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>منصوبے کے تحت سالانہ خوردنی تیل کی پیداوار اور درآمدی متبادل کو 2035 تک 4.578 ملین ٹن سے زائد تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس سے سالانہ 7.017 ارب ڈالر کی درآمدی بچت متوقع ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان اب بھی خوردنی تیل کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران ملک نے 4.169 ملین ٹن خوردنی تیل درآمد کیا، جس میں درآمدی آئل سیڈز سے حاصل کردہ 0.542 ملین ٹن تیل بھی شامل تھا۔ ان درآمدات پر 1,407 ارب روپے یعنی 4.971 ارب ڈالر خرچ ہوئے۔</p>
<p>اس کے مقابلے میں مقامی سطح پر خوردنی تیل کی پیداوار صرف 0.474 ملین ٹن رہی جبکہ درآمدات اور مقامی پیداوار سمیت مجموعی دستیابی 4.643 ملین ٹن تک پہنچی۔</p>
<p>ایئر بک کے مطابق شعبے کی ترقی کے لیے دو بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں نیشنل آئل سیڈ انہانسمنٹ پروگرام اور پروموشن آف اولیو کلٹیویشن آن کمرشل اسکیل اِن پاکستان فیز-2 شامل ہیں۔</p>
<p>طویل المدتی منصوبے کے تحت آئل سیڈز کے زیرِ کاشت رقبے کو 1.240 ملین ہیکٹر سے بڑھا کر 4.600 ملین ہیکٹر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 2035 تک 1,000 منی ایکسپیلرز اور 1,500 زرعی مشینیں فراہم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔</p>
<p>زیتون کے شعبے میں بھی پیش رفت جاری ہے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران 822,452 زیتون کی قلمیں لگائی گئیں تاکہ معیاری اور بیماری سے پاک نرسری پودے تیار کیے جا سکیں۔ بلوچستان میں مختلف اضلاع میں 108,859 زیتون کے پودے کسانوں کے 33 فیصد لاگتی اشتراک سے لگائے گئے جبکہ 737 ایکڑ رقبے پر ڈرپ اریگیشن سسٹم نصب کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق زیتون کی کاشت، باغات اور نرسری مینجمنٹ، ویلیو ایڈیشن اور آئل پراسیسنگ سے متعلق 45 تربیتی پروگرام بھی منعقد کیے گئے جن میں خواتین اور نوجوانوں سمیت 2,684 افراد نے شرکت کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286699</guid>
      <pubDate>Mon, 25 May 2026 09:47:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/2509461457e6864.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/2509461457e6864.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
