<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 18:14:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 18:14:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ کے دوران بھارت میں ایندھن کی قیمتوں میں تیسری بار اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286653/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کی سرکاری تیل ریٹیل کمپنیوں نے ہفتے کے روز رواں ماہ تیسری بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ڈیلرز کے مطابق کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ہونے والے مالی نقصانات کی تلافی کے لیے کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی دہلی میں پیٹرول کی قیمت 0.87 روپے اضافے کے بعد 99.51 روپے فی لیٹر ہو جائے گی، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 0.91 روپے اضافہ کر کے اسے 92.49 روپے فی لیٹر کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت، جو تیل کا دنیا کا تیسرا سب سے بڑا درآمدی و استعمال کنندہ ملک ہے، ان بڑی معیشتوں میں سے ایک تھا جس نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود کافی تاخیر سے ریٹیل قیمتوں میں رد و بدل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر ان تین اضافوں کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 5 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ 15 مئی کو کیا گیا اضافہ گزشتہ چار برس میں پہلی مرتبہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنیاں پمپ پر قیمتوں میں مرحلہ وار اضافہ کر رہی ہیں، بالکل اسی طرز پر جیسے اپریل 2022 میں کیا گیا تھا، جب کچھ اہم ریاستوں، بشمول شمالی اتر پردیش میں انتخابات کے بعد ریٹیل قیمتیں بڑھائی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت نے حالیہ ریاستی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے قیمتوں میں اضافے کو عارضی طور پر مؤخر رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ریفائنری ذرائع کے مطابق نقصانات کی تلافی کے لیے مزید قیمتوں میں اضافے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت پیٹرولیم (بی پی سی ایل) کے چیئرمین کے مطابق کمپنی کو موجودہ قیمتوں کے باوجود ڈیزل پر 25 سے 30 روپے فی لیٹر اور پیٹرول پر 10 سے 14 روپے فی لیٹر تک آمدنی کا نقصان ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی وزارتِ تیل نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ریفائنریوں کو کسی قسم کی مالی معاونت فراہم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت پیٹرولیم ( بی پی سی ایل )، انڈین آئل کارپوریشن اور ہندستان پیٹرولیم مل کر ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ تین ہزار پیٹرول پمپس کے نیٹ ورک کے 90 فیصد سے زائد حصے کو کنٹرول کرتے ہیں، اور عموماً ایندھن کی قیمتوں کا تعین بھی باہمی ہم آہنگی سے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کی سرکاری تیل ریٹیل کمپنیوں نے ہفتے کے روز رواں ماہ تیسری بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ڈیلرز کے مطابق کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ہونے والے مالی نقصانات کی تلافی کے لیے کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>نئی دہلی میں پیٹرول کی قیمت 0.87 روپے اضافے کے بعد 99.51 روپے فی لیٹر ہو جائے گی، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 0.91 روپے اضافہ کر کے اسے 92.49 روپے فی لیٹر کر دیا جائے گا۔</p>
<p>بھارت، جو تیل کا دنیا کا تیسرا سب سے بڑا درآمدی و استعمال کنندہ ملک ہے، ان بڑی معیشتوں میں سے ایک تھا جس نے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود کافی تاخیر سے ریٹیل قیمتوں میں رد و بدل کیا ہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر ان تین اضافوں کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 5 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو چکا ہے۔ 15 مئی کو کیا گیا اضافہ گزشتہ چار برس میں پہلی مرتبہ تھا۔</p>
<p>کمپنیاں پمپ پر قیمتوں میں مرحلہ وار اضافہ کر رہی ہیں، بالکل اسی طرز پر جیسے اپریل 2022 میں کیا گیا تھا، جب کچھ اہم ریاستوں، بشمول شمالی اتر پردیش میں انتخابات کے بعد ریٹیل قیمتیں بڑھائی گئی تھیں۔</p>
<p>حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم نریندر مودی کی حکومت نے حالیہ ریاستی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لیے قیمتوں میں اضافے کو عارضی طور پر مؤخر رکھا تھا۔</p>
<p>تاہم ریفائنری ذرائع کے مطابق نقصانات کی تلافی کے لیے مزید قیمتوں میں اضافے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>بھارت پیٹرولیم (بی پی سی ایل) کے چیئرمین کے مطابق کمپنی کو موجودہ قیمتوں کے باوجود ڈیزل پر 25 سے 30 روپے فی لیٹر اور پیٹرول پر 10 سے 14 روپے فی لیٹر تک آمدنی کا نقصان ہو رہا ہے۔</p>
<p>بھارت کی وزارتِ تیل نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ریفائنریوں کو کسی قسم کی مالی معاونت فراہم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔</p>
<p>بھارت پیٹرولیم ( بی پی سی ایل )، انڈین آئل کارپوریشن اور ہندستان پیٹرولیم مل کر ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ تین ہزار پیٹرول پمپس کے نیٹ ورک کے 90 فیصد سے زائد حصے کو کنٹرول کرتے ہیں، اور عموماً ایندھن کی قیمتوں کا تعین بھی باہمی ہم آہنگی سے کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286653</guid>
      <pubDate>Sat, 23 May 2026 16:32:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/23161634a7a9514.webp" type="image/webp" medium="image" height="682" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/23161634a7a9514.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
