<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 18:13:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 18:13:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>منگلا ڈیم متاثرین، وزارتِ دفاع کی وزیرِ اعظم آفس اور وزارتِ خزانہ کو وارننگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286643/</link>
      <description>&lt;p&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزارتِ دفاع نے وزیرِاعظم آفس اور وزارتِ خزانہ کو خبردار کیا ہے کہ منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کے متاثرین کے زیر التوا معاوضہ جات کی ادائیگی میں ناکامی احتجاجی مظاہروں کو جنم دے سکتی ہے جس سے علاقے کی سیکیورٹی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کے واجب الادا معاوضے کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے وزارتِ دفاع نے واضح کیا کہ جون 2004 سے ستمبر 2007 تک جاری رہنے والے اس منصوبے کا مقصد مٹی اور گاد جمع ہونے کی وجہ سے کم ہو جانے والی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کو بحال کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق اس منصوبے کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر کے ضلع میرپور میں 15,780 ایکڑ (64 مربع کلومیٹر) زمین زیرِ آب آ گئی تھی جس کی وجہ سے 118 دیہاتوں کے رہائشی بے گھر (متاثر) ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون 2003 میں واپڈا اور آزاد جموں و کشمیرحکومت کے درمیان زمین کے حصول، گھروں کے معاوضے اور آباد کاری کے اخراجات پورے کرنے کے لیے 26 ارب روپے کے معاوضے کے پیکیج پر اتفاق ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرین کو کی جانے والی ادائیگیوں کا ایک بڑا حصہ اب بھی بقایا ہے۔ اب تک 449 کیسز میں سے صرف 46 افراد کو جزوی معاوضہ ملا ہے جبکہ 4.4 ارب روپے کی رقم کی ادائیگی وزارتِ مالیات کے پاس پھنسی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزارتِ دفاع نے وزیرِاعظم آفس اور وزارتِ خزانہ کو خبردار کیا ہے کہ منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کے متاثرین کے زیر التوا معاوضہ جات کی ادائیگی میں ناکامی احتجاجی مظاہروں کو جنم دے سکتی ہے جس سے علاقے کی سیکیورٹی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کے واجب الادا معاوضے کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے وزارتِ دفاع نے واضح کیا کہ جون 2004 سے ستمبر 2007 تک جاری رہنے والے اس منصوبے کا مقصد مٹی اور گاد جمع ہونے کی وجہ سے کم ہو جانے والی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کو بحال کرنا تھا۔</p>
<p>وزارت کے مطابق اس منصوبے کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر کے ضلع میرپور میں 15,780 ایکڑ (64 مربع کلومیٹر) زمین زیرِ آب آ گئی تھی جس کی وجہ سے 118 دیہاتوں کے رہائشی بے گھر (متاثر) ہوئے تھے۔</p>
<p>جون 2003 میں واپڈا اور آزاد جموں و کشمیرحکومت کے درمیان زمین کے حصول، گھروں کے معاوضے اور آباد کاری کے اخراجات پورے کرنے کے لیے 26 ارب روپے کے معاوضے کے پیکیج پر اتفاق ہوا تھا۔</p>
<p>تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرین کو کی جانے والی ادائیگیوں کا ایک بڑا حصہ اب بھی بقایا ہے۔ اب تک 449 کیسز میں سے صرف 46 افراد کو جزوی معاوضہ ملا ہے جبکہ 4.4 ارب روپے کی رقم کی ادائیگی وزارتِ مالیات کے پاس پھنسی ہوئی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286643</guid>
      <pubDate>Sat, 23 May 2026 14:16:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/23140134669e6d8.webp" type="image/webp" medium="image" height="625" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/23140134669e6d8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
