<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 14:44:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 14:44:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز سے تیل کی مکمل سپلائی 2027 کی پہلی سہ ماہی تک بحال نہیں ہوگی، متحدہ عرب امارات کی بڑی ائل کمپنی کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286589/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سرکاری تیل کمپنی  ایڈنوک  کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع ابھی بھی ختم ہو جائے، تب بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی مکمل سپلائی 2027ء کی پہلی یا دوسری سہ ماہی سے پہلے بحال نہیں ہو سکے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت کے اعلیٰ حکام کی جانب سے سامنے آنے والا یہ منظرنامہ اب تک کے مایوس کن ترین تخمینوں میں سے ایک ہے، جو ایرانی جنگ کے طویل مدتی معاشی اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے یہ آبنائے تقریباً بند ہو چکی ہے، جسے بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے تاریخ کا سب سے بڑا توانائی کا بحران قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے اس آبی گزرگاہ پر اپنا عملی (ڈی فیکٹو) کنٹرول قائم کر لیا ہے، جو دنیا بھر کی تیل کی سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے ایک اہم ترین راستہ (چوک پوائنٹ) ہے۔ اس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں ہونے والے غیر معمولی اضافے نے مہنگائی کو بڑھا دیا ہے اور معاشی کساد بازاری کے خطرات کو گہرا کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو اٹلانٹک کونسل کی ایک تقریب کے دوران ایڈنوک کے سی ای او سلطان الجابر نے کہا کہ اگر یہ تنازع کل بھی ختم ہو جائے تو جنگ سے پہلے کی ترسیل کے 80 فیصد حصے کو بحال کرنے میں کم از کم چار ماہ لگیں گے اور مکمل سپلائی 2027ء کی پہلی یا دوسری سہ ماہی سے پہلے لوٹ کر نہیں آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمسایہ ملک سعودی عرب کی بڑی تیل کمپنی  آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے بھی پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر یہ صورتحال جون کے وسط تک برقرار رہتی ہے تو تیل کی مارکیٹ شاید 2027ء تک بحال نہ ہو سکے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران چیک پوسٹوں، سخت جانچ پڑتال اور بعض اوقات فیس لگا کر اس آبنائے پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد تہران نے اس آبنائے میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا، تاکہ ایک عملی ناکہ بندی کی جا سکے۔ تب سے اب تک  ایران نے اس آبی گزرگاہ کی تعریف کو وسیع کرتے ہوئے اس میں متحدہ عرب امارات کی خلیجِ عمان کی ساحلی پٹی کو بھی شامل کر لیا ہے جو کہ آبنائے کے بالکل باہر واقع ہے اور یو اے ای کے لیے ایک لائف لائن بن کر ابھری ہے۔ خام تیل کی ایک پائپ لائن جو اسی ساحلی پٹی پر واقع فجیرہ کی بندرگاہ پر ختم ہوتی ہے، اس نے اماراتی خام تیل کی کچھ مقدار کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلطان الجابر نے کہا کہ یہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں ہے۔ درحقیقت یہ ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے۔ جب آپ ایک بار یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ کوئی ایک ملک دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہ کو یرغمال بنا سکتا ہے تو جہاز رانی کی آزادی (فریڈم آف نیوی گیشن)، جیسا کہ ہم اسے جانتے ہیں، بالکل ختم ہو جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم نے آج اس اصول کا دفاع نہ کیا تو ہم اگلی پوری دہائی اس کے نتائج کا سامنا کرتے ہوئے گزاریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلطان الجابر نے کہا کہ اس تنازع نے سپلائی چین کی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ  فیول کی قیمتوں میں 30 فیصد، کھاد کی قیمتوں میں 50 فیصد اور ہوائی جہازوں کے کرایوں میں پچیس فیصد (ایک چوتھائی) اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے عالمی توانائی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نئے سرمایہ کاری کے اقدامات پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہر فارم، ہر فیکٹری اور ہر خاندان اس کی قیمت ادا کر رہا ہے اور جو سب سے زیادہ کمزور ہیں وہی سب سے بھاری بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس تنازع کو شروع ہوئے ابھی صرف 80 سے کچھ زائد دن ہوئے ہیں اور اب تک تقریباً 80 ممالک اپنی معیشتوں کو سہارا دینے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سرکاری تیل کمپنی  ایڈنوک  کے سربراہ نے کہا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع ابھی بھی ختم ہو جائے، تب بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی مکمل سپلائی 2027ء کی پہلی یا دوسری سہ ماہی سے پہلے بحال نہیں ہو سکے گی۔</strong></p>
<p>صنعت کے اعلیٰ حکام کی جانب سے سامنے آنے والا یہ منظرنامہ اب تک کے مایوس کن ترین تخمینوں میں سے ایک ہے، جو ایرانی جنگ کے طویل مدتی معاشی اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے یہ آبنائے تقریباً بند ہو چکی ہے، جسے بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے تاریخ کا سب سے بڑا توانائی کا بحران قرار دیا ہے۔</p>
<p>ایران نے اس آبی گزرگاہ پر اپنا عملی (ڈی فیکٹو) کنٹرول قائم کر لیا ہے، جو دنیا بھر کی تیل کی سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے ایک اہم ترین راستہ (چوک پوائنٹ) ہے۔ اس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں ہونے والے غیر معمولی اضافے نے مہنگائی کو بڑھا دیا ہے اور معاشی کساد بازاری کے خطرات کو گہرا کر دیا ہے۔</p>
<p>بدھ کو اٹلانٹک کونسل کی ایک تقریب کے دوران ایڈنوک کے سی ای او سلطان الجابر نے کہا کہ اگر یہ تنازع کل بھی ختم ہو جائے تو جنگ سے پہلے کی ترسیل کے 80 فیصد حصے کو بحال کرنے میں کم از کم چار ماہ لگیں گے اور مکمل سپلائی 2027ء کی پہلی یا دوسری سہ ماہی سے پہلے لوٹ کر نہیں آئے گی۔</p>
<p>ہمسایہ ملک سعودی عرب کی بڑی تیل کمپنی  آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے بھی پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اگر یہ صورتحال جون کے وسط تک برقرار رہتی ہے تو تیل کی مارکیٹ شاید 2027ء تک بحال نہ ہو سکے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران چیک پوسٹوں، سخت جانچ پڑتال اور بعض اوقات فیس لگا کر اس آبنائے پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کر رہا ہے۔</p>
<p>28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد تہران نے اس آبنائے میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا، تاکہ ایک عملی ناکہ بندی کی جا سکے۔ تب سے اب تک  ایران نے اس آبی گزرگاہ کی تعریف کو وسیع کرتے ہوئے اس میں متحدہ عرب امارات کی خلیجِ عمان کی ساحلی پٹی کو بھی شامل کر لیا ہے جو کہ آبنائے کے بالکل باہر واقع ہے اور یو اے ای کے لیے ایک لائف لائن بن کر ابھری ہے۔ خام تیل کی ایک پائپ لائن جو اسی ساحلی پٹی پر واقع فجیرہ کی بندرگاہ پر ختم ہوتی ہے، اس نے اماراتی خام تیل کی کچھ مقدار کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔</p>
<p>سلطان الجابر نے کہا کہ یہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں ہے۔ درحقیقت یہ ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے۔ جب آپ ایک بار یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ کوئی ایک ملک دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہ کو یرغمال بنا سکتا ہے تو جہاز رانی کی آزادی (فریڈم آف نیوی گیشن)، جیسا کہ ہم اسے جانتے ہیں، بالکل ختم ہو جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم نے آج اس اصول کا دفاع نہ کیا تو ہم اگلی پوری دہائی اس کے نتائج کا سامنا کرتے ہوئے گزاریں گے۔</p>
<p>سلطان الجابر نے کہا کہ اس تنازع نے سپلائی چین کی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ  فیول کی قیمتوں میں 30 فیصد، کھاد کی قیمتوں میں 50 فیصد اور ہوائی جہازوں کے کرایوں میں پچیس فیصد (ایک چوتھائی) اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے عالمی توانائی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے نئے سرمایہ کاری کے اقدامات پر زور دیا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہر فارم، ہر فیکٹری اور ہر خاندان اس کی قیمت ادا کر رہا ہے اور جو سب سے زیادہ کمزور ہیں وہی سب سے بھاری بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس تنازع کو شروع ہوئے ابھی صرف 80 سے کچھ زائد دن ہوئے ہیں اور اب تک تقریباً 80 ممالک اپنی معیشتوں کو سہارا دینے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھا چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286589</guid>
      <pubDate>Thu, 21 May 2026 19:39:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/21193101820fee5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/21193101820fee5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
