<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 18:14:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 18:14:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف سے بجٹ مذاکرات جاری رہنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286549/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے لیے محصولات میں اضافے اور مالیاتی اہداف سے متعلق اہم امور پر بجٹ مذاکرات آئندہ دنوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس رپورٹ کے فائل ہونے تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مذاکرات، جو 13 مئی کو اسلام آباد میں مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل باضابطہ طور پر شروع ہوئے، پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا کی سربراہی میں ہونے والے وفد کے درمیان جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذاکرات میں میکرو اکنامک استحکام، آئندہ وفاقی بجٹ کی تیاریوں، اور مالیاتی و بیرونی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، تاکہ پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن، جس سے توقع تھی کہ بدھ کو مذاکرات مکمل کر لے گا، اب کئی اہم معاملات پر بات چیت جاری رہنے کے باعث ممکنہ طور پر مزید یہ مشن طویل ہو سکتا ہے اور بات چیت ورچوئل انداز میں بھی جاری رہ سکتی ہے، اگرچہ بیشتر بجٹ تجاویز پر وسیع اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان پر زور دے رہا ہے کہ وہ جاری پروگرام کے تحت مالیاتی استحکام کے اہداف حاصل کرنے کے لیے زیادہ مضبوط اور پائیدار ریونیو اقدامات یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے صوبوں سے بھی سخت مالیاتی وعدوں کا مطالبہ کیا ہے، جن میں اضافی 430 ارب روپے کی محصولات جمع کرنے اور وفاقی مالیاتی فریم ورک کی معاونت کے لیے تقریباً 2 کھرب روپے کے مشترکہ صوبائی کیش سرپلس کا ہدف شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ میں اخراجات کے تخمینوں کے مطابق دفاعی بجٹ آئندہ مالی سال میں 2.564 کھرب روپے سے بڑھ کر 2.665 کھرب روپے تک جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے ممکنہ طور پر 986 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے مزید بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت سہ ماہی ادائیگیوں کو 14,500 روپے سے بڑھا کر 18,000 روپے کرنے پر ایک عبوری سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق مذاکرات کا جاری رہنا اس مشکل توازن کی عکاسی کرتا ہے جس کا پاکستان کو سامنا ہے، جہاں ایک جانب آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ سخت مالیاتی اقدامات پر عملدرآمد ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب اقتصادی استحکام برقرار رکھنے، ترقی کی بحالی اور وفاقی بجٹ کے اعلان سے قبل مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے لیے محصولات میں اضافے اور مالیاتی اہداف سے متعلق اہم امور پر بجٹ مذاکرات آئندہ دنوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔</strong></p>
<p>تاہم، اس رپورٹ کے فائل ہونے تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>یہ مذاکرات، جو 13 مئی کو اسلام آباد میں مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل باضابطہ طور پر شروع ہوئے، پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا کی سربراہی میں ہونے والے وفد کے درمیان جاری ہیں۔</p>
<p>مذاکرات میں میکرو اکنامک استحکام، آئندہ وفاقی بجٹ کی تیاریوں، اور مالیاتی و بیرونی استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا، تاکہ پائیدار اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن، جس سے توقع تھی کہ بدھ کو مذاکرات مکمل کر لے گا، اب کئی اہم معاملات پر بات چیت جاری رہنے کے باعث ممکنہ طور پر مزید یہ مشن طویل ہو سکتا ہے اور بات چیت ورچوئل انداز میں بھی جاری رہ سکتی ہے، اگرچہ بیشتر بجٹ تجاویز پر وسیع اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔</p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان پر زور دے رہا ہے کہ وہ جاری پروگرام کے تحت مالیاتی استحکام کے اہداف حاصل کرنے کے لیے زیادہ مضبوط اور پائیدار ریونیو اقدامات یقینی بنائے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے صوبوں سے بھی سخت مالیاتی وعدوں کا مطالبہ کیا ہے، جن میں اضافی 430 ارب روپے کی محصولات جمع کرنے اور وفاقی مالیاتی فریم ورک کی معاونت کے لیے تقریباً 2 کھرب روپے کے مشترکہ صوبائی کیش سرپلس کا ہدف شامل ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ میں اخراجات کے تخمینوں کے مطابق دفاعی بجٹ آئندہ مالی سال میں 2.564 کھرب روپے سے بڑھ کر 2.665 کھرب روپے تک جا سکتا ہے۔</p>
<p>وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے ممکنہ طور پر 986 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔</p>
<p>ذرائع نے مزید بتایا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت سہ ماہی ادائیگیوں کو 14,500 روپے سے بڑھا کر 18,000 روپے کرنے پر ایک عبوری سمجھوتہ طے پا گیا ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق مذاکرات کا جاری رہنا اس مشکل توازن کی عکاسی کرتا ہے جس کا پاکستان کو سامنا ہے، جہاں ایک جانب آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ سخت مالیاتی اقدامات پر عملدرآمد ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب اقتصادی استحکام برقرار رکھنے، ترقی کی بحالی اور وفاقی بجٹ کے اعلان سے قبل مہنگائی کے دباؤ کو قابو میں رکھنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286549</guid>
      <pubDate>Thu, 21 May 2026 08:45:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/2108433560c6c32.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/2108433560c6c32.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
