<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:19:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:19:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی فورسز کی غزہ فلوٹیلا پر فائرنگ، تمام بحری جہاز روک دئیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286524/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی فورسز نے منگل کو غزہ کی جانب امداد لے جانے والے  فلوٹیلا (بحری قافلے) کے کم از کم دو بحری جہازوں پر فائرنگ کی، تاہم اسرائیل نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی لائیو گولہ بارود استعمال نہیں کیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلوٹیلا منتظمین اور جاری کردہ ویڈیو فوٹیج کے مطابق یہ بحری قافلہ غزہ کے لیے امداد پہنچانے کی ایک نئی کوشش کر رہا تھا، اس سے قبل بھی اس نوعیت کے قافلوں کو اسرائیل بین الاقوامی پانیوں میں روک چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلوٹیلا کی لائیو اسٹریم ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی اہلکار دو کشتیوں پر فائرنگ کر رہے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ استعمال ہونے والا گولہ بارود کس نوعیت کا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا کہ کسی بھی موقع پر لائیو گولہ بارود استعمال نہیں کیا گیا۔ بیان کے مطابق متعدد وارننگز کے بعد غیر مہلک ہتھیار استعمال کیے گئے، اور یہ کارروائی مظاہرین کے خلاف نہیں بلکہ وارننگ کے طور پر تھی۔ کسی بھی شخص کو نقصان نہیں پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں گلوبل سمود فلوٹیلا نے کہا کہ اس کے تمام 50 بحری جہاز مشرقی بحیرہ روم میں روک لیے گئے ہیں اور 428 شرکا کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں 40 سے زائد ممالک کے شہری شامل ہیں، جن میں 78 ترک شہری بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ مجموعی طور پر 430 کارکنوں کو اسرائیلی بحری جہازوں پر منتقل کر دیا گیا ہے اور انہیں اسرائیل لے جایا جا رہا ہے، جہاں انہیں اپنے قونصلر نمائندوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فلوٹیلا اور اسرائیلی حکام کی جانب سے شرکا کی تعداد میں فرق کیوں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزارت  خارجہ نے ایکس پر کہا تھا کہ وہ غزہ پر قانونی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ان کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے فلوٹیلا کو امید کے مسافر قرار دیا اور عالمی برادری سے اسرائیلی اقدامات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فلوٹیلا پہلے بھی غزہ کی جانب امداد لے جانے کی کوشش کر چکا تھا، تاہم اسے بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خزانہ نے اس دوران اس فلوٹیلا سے منسلک چار افراد پر پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں، جنہیں وہ حماس نواز قرار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فلسطینی اور امدادی ادارے کہتے ہیں کہ غزہ میں امداد کی ترسیل اب بھی ناکافی ہے، اگرچہ اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کے شہریوں کے لیے امداد روک نہیں رہا، اور وہ تمام دعووں کو مسترد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی فورسز نے منگل کو غزہ کی جانب امداد لے جانے والے  فلوٹیلا (بحری قافلے) کے کم از کم دو بحری جہازوں پر فائرنگ کی، تاہم اسرائیل نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی لائیو گولہ بارود استعمال نہیں کیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔</strong></p>
<p>فلوٹیلا منتظمین اور جاری کردہ ویڈیو فوٹیج کے مطابق یہ بحری قافلہ غزہ کے لیے امداد پہنچانے کی ایک نئی کوشش کر رہا تھا، اس سے قبل بھی اس نوعیت کے قافلوں کو اسرائیل بین الاقوامی پانیوں میں روک چکا ہے۔</p>
<p>فلوٹیلا کی لائیو اسٹریم ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فوجی اہلکار دو کشتیوں پر فائرنگ کر رہے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ استعمال ہونے والا گولہ بارود کس نوعیت کا تھا۔</p>
<p>اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے بیان میں کہا کہ کسی بھی موقع پر لائیو گولہ بارود استعمال نہیں کیا گیا۔ بیان کے مطابق متعدد وارننگز کے بعد غیر مہلک ہتھیار استعمال کیے گئے، اور یہ کارروائی مظاہرین کے خلاف نہیں بلکہ وارننگ کے طور پر تھی۔ کسی بھی شخص کو نقصان نہیں پہنچا۔</p>
<p>بعد ازاں گلوبل سمود فلوٹیلا نے کہا کہ اس کے تمام 50 بحری جہاز مشرقی بحیرہ روم میں روک لیے گئے ہیں اور 428 شرکا کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں 40 سے زائد ممالک کے شہری شامل ہیں، جن میں 78 ترک شہری بھی ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ مجموعی طور پر 430 کارکنوں کو اسرائیلی بحری جہازوں پر منتقل کر دیا گیا ہے اور انہیں اسرائیل لے جایا جا رہا ہے، جہاں انہیں اپنے قونصلر نمائندوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔</p>
<p>یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فلوٹیلا اور اسرائیلی حکام کی جانب سے شرکا کی تعداد میں فرق کیوں ہے۔</p>
<p>اسرائیلی وزارت  خارجہ نے ایکس پر کہا تھا کہ وہ غزہ پر قانونی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گی۔</p>
<p>ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے ان کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے فلوٹیلا کو امید کے مسافر قرار دیا اور عالمی برادری سے اسرائیلی اقدامات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>یہ فلوٹیلا پہلے بھی غزہ کی جانب امداد لے جانے کی کوشش کر چکا تھا، تاہم اسے بین الاقوامی پانیوں میں روک لیا گیا تھا۔</p>
<p>امریکی محکمہ خزانہ نے اس دوران اس فلوٹیلا سے منسلک چار افراد پر پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں، جنہیں وہ حماس نواز قرار دیتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب فلسطینی اور امدادی ادارے کہتے ہیں کہ غزہ میں امداد کی ترسیل اب بھی ناکافی ہے، اگرچہ اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہوئی۔</p>
<p>اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کے شہریوں کے لیے امداد روک نہیں رہا، اور وہ تمام دعووں کو مسترد کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286524</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 12:53:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/20124953deda5d4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/20124953deda5d4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
