<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:19:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:19:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز سے 60 لاکھ بیرل خام تیل سے لدے سپر ٹینکرز کی روانگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286523/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز سے دو سپر ٹینکر بدھ کے روز باہر نکل گئے جبکہ ایک اور ٹینکر بھی راستے میں ہے۔ یہ بحری جہاز دو ماہ سے زائد عرصے تک خلیج میں انتظار کرتے رہے اور ان میں مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ بیرل مشرقِ وسطیٰ کا خام تیل موجود تھا۔ یہ معلومات ایل ایس ای جی اور کلپر  کے شپنگ ڈیٹا سے حاصل ہوئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ بحری جہاز ان چند سپر ٹینکروں میں شامل ہیں جو اس ماہ خلیج سے اس ٹرانزٹ روٹ کے ذریعے باہر نکل رہے ہیں جس کے استعمال کی ہدایت ایران نے بحری جہازوں کو دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ میں شدید کمی آئی ہے، جبکہ یہی راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصے تیل اور توانائی کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کے پرچم بردار وی ایل سی سی یونیورسل ونر نے 4 مارچ کو 20 لاکھ بیرل کویتی خام تیل لوڈ کیا تھا اور اب یہ آبنائے ہرمز سے باہر نکل رہا ہے۔ اس  جہاز سے 9 جون کو جنوبی کوریا کے شہر السان  پہنچ کر اپنا کارگو اتارنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جہاز کے مالک اور آپریٹر ایچ ایم ایم  کے ترجمان سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح چین کے پرچم بردار وی ایل سی سی یوان گُئی یانگ نے 27 فروری کو 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لوڈ کیا تھا، ایک دن قبل جب جنگ شروع ہوئی۔ یہ جہاز یونیپیک کے زیرِ چارٹر ہے اور توقع ہے کہ 4 جون کو چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر شُوئی ڈونگ بندرگاہ پر پہنچ کر تیل اتارے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہانگ کانگ کے پرچم بردار وی ایل سی سی اوشن للی نے فروری کے آخر اور مارچ کے آغاز کے دوران قطر کے الشہین اور عراقی خام تیل کے مجموعی طور پر 20 لاکھ بیرل لوڈ کیے تھے۔ یہ جہاز چینی کمپنی سنو کیم کی ملکیت ہے اور 5 جون کو چین کے فوجیان صوبے کی کوانژو بندرگاہ پر پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کمپنیوں — سینوپیک، سنو کیم اور کوسکو شپنگ — نے ان جہازوں کے حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے بھی وی ایل سی سی یوان ہوا ہو آبنائے ہرمز سے باہر نکلا تھا اور 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لے کر چین کے ژوشان بندرگاہ کی جانب روانہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران قبرصی پرچم بردار وی ایل سی سی گرانڈ لیڈی بھی آبنائے ہرمز میں داخل ہوا ہے، تاہم اس کا ٹرانسپونڈر بند ہے، جس کی وجہ سے اس کی نقل و حرکت کا سراغ مشکل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایس ای جی کے مطابق یہ خالی ٹینکر ایران کے جزیرے لارک کے قریب سے گزر رہا ہے۔ اس کے انتظامی ادارے ایسٹرن میڈیٹیرینین میری ٹائم سے بھی فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آبنائے ہرمز سے دو سپر ٹینکر بدھ کے روز باہر نکل گئے جبکہ ایک اور ٹینکر بھی راستے میں ہے۔ یہ بحری جہاز دو ماہ سے زائد عرصے تک خلیج میں انتظار کرتے رہے اور ان میں مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ بیرل مشرقِ وسطیٰ کا خام تیل موجود تھا۔ یہ معلومات ایل ایس ای جی اور کلپر  کے شپنگ ڈیٹا سے حاصل ہوئی ہیں۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ بحری جہاز ان چند سپر ٹینکروں میں شامل ہیں جو اس ماہ خلیج سے اس ٹرانزٹ روٹ کے ذریعے باہر نکل رہے ہیں جس کے استعمال کی ہدایت ایران نے بحری جہازوں کو دی تھی۔</p>
<p>27 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ میں شدید کمی آئی ہے، جبکہ یہی راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصے تیل اور توانائی کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔</p>
<p>جنوبی کوریا کے پرچم بردار وی ایل سی سی یونیورسل ونر نے 4 مارچ کو 20 لاکھ بیرل کویتی خام تیل لوڈ کیا تھا اور اب یہ آبنائے ہرمز سے باہر نکل رہا ہے۔ اس  جہاز سے 9 جون کو جنوبی کوریا کے شہر السان  پہنچ کر اپنا کارگو اتارنے کی توقع ہے۔</p>
<p>اس جہاز کے مالک اور آپریٹر ایچ ایم ایم  کے ترجمان سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔</p>
<p>اسی طرح چین کے پرچم بردار وی ایل سی سی یوان گُئی یانگ نے 27 فروری کو 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لوڈ کیا تھا، ایک دن قبل جب جنگ شروع ہوئی۔ یہ جہاز یونیپیک کے زیرِ چارٹر ہے اور توقع ہے کہ 4 جون کو چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر شُوئی ڈونگ بندرگاہ پر پہنچ کر تیل اتارے گا۔</p>
<p>ہانگ کانگ کے پرچم بردار وی ایل سی سی اوشن للی نے فروری کے آخر اور مارچ کے آغاز کے دوران قطر کے الشہین اور عراقی خام تیل کے مجموعی طور پر 20 لاکھ بیرل لوڈ کیے تھے۔ یہ جہاز چینی کمپنی سنو کیم کی ملکیت ہے اور 5 جون کو چین کے فوجیان صوبے کی کوانژو بندرگاہ پر پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>ان کمپنیوں — سینوپیک، سنو کیم اور کوسکو شپنگ — نے ان جہازوں کے حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے بھی وی ایل سی سی یوان ہوا ہو آبنائے ہرمز سے باہر نکلا تھا اور 20 لاکھ بیرل عراقی تیل لے کر چین کے ژوشان بندرگاہ کی جانب روانہ ہوا تھا۔</p>
<p>اسی دوران قبرصی پرچم بردار وی ایل سی سی گرانڈ لیڈی بھی آبنائے ہرمز میں داخل ہوا ہے، تاہم اس کا ٹرانسپونڈر بند ہے، جس کی وجہ سے اس کی نقل و حرکت کا سراغ مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p>ایل ایس ای جی کے مطابق یہ خالی ٹینکر ایران کے جزیرے لارک کے قریب سے گزر رہا ہے۔ اس کے انتظامی ادارے ایسٹرن میڈیٹیرینین میری ٹائم سے بھی فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286523</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 12:44:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/20124053827628b.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/20124053827628b.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
