<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی تا اپریل غیر ملکی مالی معاونت میں 67.7 فیصد اضافہ، 11.068 ارب ڈالر تک پہنچ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286516/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جولائی 2025 سے اپریل 2026 کے دوران پاکستان میں غیر ملکی مالی معاونت کی آمد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 6.6 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 11.068 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، یعنی 67.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں پاکستان کو کثیرالجہتی، دوطرفہ قرضوں اور گرانٹس کی مد میں مجموعی طور پر 395.63 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ مارچ 2026 میں یہ رقم 339.84 ملین ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں دوطرفہ قرضوں اور گرانٹس کی مد میں مجموعی طور پر 103.39 ملین ڈالر موصول ہوئے، جن میں سے 101.68 ملین ڈالر سعودی عرب سے قرض اور 0.09 ملین ڈالر جرمنی سے حاصل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیرالجہتی قرضوں کے تحت اپریل میں مجموعی طور پر 273.01 ملین ڈالر موصول ہوئے، جن میں اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ڈی بی) کی جانب سے 203.93 ملین ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی جانب سے 35.27 ملین ڈالر، انٹرنیشنل بینک فار ریکنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ (آئی بی آر ڈی) سے 24.36 ملین ڈالر اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) سے 9.44 ملین ڈالر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا اپریل 2025-26 کے دوران دوطرفہ قرضوں اور گرانٹس کی مجموعی مالیت 1.27 ارب ڈالر رہی، جس میں 2.62 ملین ڈالر گرانٹس اور 1.226 ارب ڈالر قرضوں کی صورت میں شامل تھے۔ اسی عرصے میں کثیرالجہتی گرانٹس اور قرضوں کی مجموعی مالیت 2.878 ارب ڈالر رہی، جن میں 74.01 ملین ڈالر گرانٹس اور 2.804 ارب ڈالر قرضے شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرانٹس کا بڑا حصہ جاپان (19.20 ملین ڈالر) سے حاصل ہوا، اس کے بعد چین (10.57 ملین ڈالر)، سعودی عرب (3.31 ملین ڈالر) اور جرمنی (3.32 ملین ڈالر) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی تا اپریل 2025-26 کے دوران دوطرفہ قرضوں کی مجموعی مالیت 2.804 ارب ڈالر رہی، جس میں چین سے گارنٹی شدہ قرضے 292.82 ملین ڈالر اور 72.28 ملین ڈالر براہ راست قرض شامل ہیں۔ اسی طرح ڈنمارک سے 71.15 ملین ڈالر، فرانس سے 49.99 ملین ڈالر اور سعودی عرب سے 1.011 ارب ڈالر کا بڑا قرض حاصل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی عرصے میں کثیرالجہتی گرانٹس 74.01 ملین ڈالر رہیں، جن میں آئی بی آر ڈی سے 42.85 ملین ڈالر، آئی ڈی اے سے 13.17 ملین ڈالر، آئی ایف اے ڈی سے 2.72 ملین ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 15.16 ملین ڈالر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کثیرالجہتی قرضوں کی مجموعی مالیت 2.804 ارب ڈالر رہی، جس میں آئی ڈی اے سب سے بڑا قرض دہندہ رہا جس نے 1.024 ارب ڈالر فراہم کیے۔ اس کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک نے 747.12 ملین ڈالر، اسلامی ترقیاتی بینک نے 483.78 ملین ڈالر کا قلیل مدتی قرض، آئی بی آر ڈی نے 374.76 ملین ڈالر، اے آئی آئی بی نے 98.30 ملین ڈالر، آئی ڈی بی نے 56.13 ملین ڈالر اور آئی ایف اے ڈی نے 18.67 ملین ڈالر فراہم کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیا پاکستان سرٹیفکیٹ (این پی سی) اسکیم کے تحت اپریل 2026 میں 330.49 ملین ڈالر کی کمرشل بیرونی قرض گیری ریکارڈ کی گئی، جس میں 87.23 ملین ڈالر روایتی اور 243.26 ملین ڈالر اسلامی فنانسنگ شامل تھی، جبکہ جولائی تا اپریل مجموعی این پی سی سرمایہ کاری 2.037 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں ایک اہم پیش رفت سعودی عرب کے 3 ارب ڈالر کے ٹائم ڈپازٹس کی صورت میں سامنے آئی، جس نے ماہانہ مالی بہاؤ کو نمایاں طور پر بڑھا دیا۔ یہ واحد آمد پاکستان کی مجموعی اپریل فنڈنگ کا بڑا حصہ بنی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی نوعیت کے لحاظ سے اپریل میں نان پراجیکٹ ایڈ 4.21 ارب ڈالر رہی، جس میں 4.075 ارب ڈالر بجٹ سپورٹ اور 100 ملین ڈالر ایس ایف ڈی آئل فسیلٹی شامل تھی، جو میکرو اکنامک استحکام کے لیے پروگرام بیسڈ مالی معاونت پر انحصار کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جولائی 2025 سے اپریل 2026 کے دوران پاکستان میں غیر ملکی مالی معاونت کی آمد میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 6.6 ارب ڈالر کے مقابلے میں بڑھ کر 11.068 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، یعنی 67.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</strong></p>
<p>اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں پاکستان کو کثیرالجہتی، دوطرفہ قرضوں اور گرانٹس کی مد میں مجموعی طور پر 395.63 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ مارچ 2026 میں یہ رقم 339.84 ملین ڈالر تھی۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں دوطرفہ قرضوں اور گرانٹس کی مد میں مجموعی طور پر 103.39 ملین ڈالر موصول ہوئے، جن میں سے 101.68 ملین ڈالر سعودی عرب سے قرض اور 0.09 ملین ڈالر جرمنی سے حاصل ہوئے۔</p>
<p>کثیرالجہتی قرضوں کے تحت اپریل میں مجموعی طور پر 273.01 ملین ڈالر موصول ہوئے، جن میں اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ڈی بی) کی جانب سے 203.93 ملین ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی جانب سے 35.27 ملین ڈالر، انٹرنیشنل بینک فار ریکنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ (آئی بی آر ڈی) سے 24.36 ملین ڈالر اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) سے 9.44 ملین ڈالر شامل ہیں۔</p>
<p>جولائی تا اپریل 2025-26 کے دوران دوطرفہ قرضوں اور گرانٹس کی مجموعی مالیت 1.27 ارب ڈالر رہی، جس میں 2.62 ملین ڈالر گرانٹس اور 1.226 ارب ڈالر قرضوں کی صورت میں شامل تھے۔ اسی عرصے میں کثیرالجہتی گرانٹس اور قرضوں کی مجموعی مالیت 2.878 ارب ڈالر رہی، جن میں 74.01 ملین ڈالر گرانٹس اور 2.804 ارب ڈالر قرضے شامل تھے۔</p>
<p>گرانٹس کا بڑا حصہ جاپان (19.20 ملین ڈالر) سے حاصل ہوا، اس کے بعد چین (10.57 ملین ڈالر)، سعودی عرب (3.31 ملین ڈالر) اور جرمنی (3.32 ملین ڈالر) شامل ہیں۔</p>
<p>جولائی تا اپریل 2025-26 کے دوران دوطرفہ قرضوں کی مجموعی مالیت 2.804 ارب ڈالر رہی، جس میں چین سے گارنٹی شدہ قرضے 292.82 ملین ڈالر اور 72.28 ملین ڈالر براہ راست قرض شامل ہیں۔ اسی طرح ڈنمارک سے 71.15 ملین ڈالر، فرانس سے 49.99 ملین ڈالر اور سعودی عرب سے 1.011 ارب ڈالر کا بڑا قرض حاصل ہوا۔</p>
<p>اسی عرصے میں کثیرالجہتی گرانٹس 74.01 ملین ڈالر رہیں، جن میں آئی بی آر ڈی سے 42.85 ملین ڈالر، آئی ڈی اے سے 13.17 ملین ڈالر، آئی ایف اے ڈی سے 2.72 ملین ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 15.16 ملین ڈالر شامل ہیں۔</p>
<p>کثیرالجہتی قرضوں کی مجموعی مالیت 2.804 ارب ڈالر رہی، جس میں آئی ڈی اے سب سے بڑا قرض دہندہ رہا جس نے 1.024 ارب ڈالر فراہم کیے۔ اس کے بعد ایشیائی ترقیاتی بینک نے 747.12 ملین ڈالر، اسلامی ترقیاتی بینک نے 483.78 ملین ڈالر کا قلیل مدتی قرض، آئی بی آر ڈی نے 374.76 ملین ڈالر، اے آئی آئی بی نے 98.30 ملین ڈالر، آئی ڈی بی نے 56.13 ملین ڈالر اور آئی ایف اے ڈی نے 18.67 ملین ڈالر فراہم کیے۔</p>
<p>نیا پاکستان سرٹیفکیٹ (این پی سی) اسکیم کے تحت اپریل 2026 میں 330.49 ملین ڈالر کی کمرشل بیرونی قرض گیری ریکارڈ کی گئی، جس میں 87.23 ملین ڈالر روایتی اور 243.26 ملین ڈالر اسلامی فنانسنگ شامل تھی، جبکہ جولائی تا اپریل مجموعی این پی سی سرمایہ کاری 2.037 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔</p>
<p>اپریل میں ایک اہم پیش رفت سعودی عرب کے 3 ارب ڈالر کے ٹائم ڈپازٹس کی صورت میں سامنے آئی، جس نے ماہانہ مالی بہاؤ کو نمایاں طور پر بڑھا دیا۔ یہ واحد آمد پاکستان کی مجموعی اپریل فنڈنگ کا بڑا حصہ بنی۔</p>
<p>مالیاتی نوعیت کے لحاظ سے اپریل میں نان پراجیکٹ ایڈ 4.21 ارب ڈالر رہی، جس میں 4.075 ارب ڈالر بجٹ سپورٹ اور 100 ملین ڈالر ایس ایف ڈی آئل فسیلٹی شامل تھی، جو میکرو اکنامک استحکام کے لیے پروگرام بیسڈ مالی معاونت پر انحصار کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286516</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 10:32:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/20103041862e1c3.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/20103041862e1c3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
