<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گرین سکوک سے حاصل فنڈز کا 35 فیصد تین ماحولیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286515/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے اپنے پہلے ملکی سطح کے گرین سکوک سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تقریباً 35 فیصد حصہ مختص کر دیا ہے، جس کا زیادہ تر استعمال آبی وسائل اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام بڑھتی ہوئی ماحولیاتی مالی ضروریات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کی ڈومیسٹک گرین سکوک الاکیشن اینڈ امپیکٹ رپورٹ برائے مالی سال 2025-26 کے مطابق حکومت نے اب تک 32 ارب روپے میں سے 11.256 ارب روپے استعمال کیے ہیں، جو تین سالہ ویری ایبل رینٹل ریٹ (وی آر آر) جی او پی اجارہ گرین سکوک کے تحت حاصل کیے گئے تھے۔ یہ سکوک پاکستان کے سسٹین ایبل انویسٹمنٹ سکوک فریم ورک کے تحت جاری کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق باقی 20.744 ارب روپے آئندہ 24 ماہ میں مختص کیے جائیں گے اور یہ رقم جاری ماحولیاتی انفراسٹرکچر منصوبوں پر خرچ کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرین سکوک کی رقم تین بڑے منصوبوں کے لیے مختص کی گئی ہے، جن میں بلوچستان میں گارک اسٹوریج ڈیم، سندھ میں نائگاج ڈیم، اور گلگت بلتستان میں 26 میگاواٹ شگرتھنگ ہائیڈرو پاور منصوبہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کا مقصد آبی تحفظ کو بہتر بنانا، صاف توانائی کی پیداوار بڑھانا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے خلاف مزاحمت کو مضبوط بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ منصوبے پاکستان کی قومی ماحولیاتی تبدیلی پالیسی، نیشنل اڈاپٹیشن پلان اور نیشنل کلائمیٹ فنانس اسٹریٹیجی سے ہم آہنگ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تینوں منصوبوں میں سے گارک اسٹوریج ڈیم میں سکوک فنڈز کا سب سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ڈیم ضلع خاران میں واقع ہے اور اس کی تکمیل 81.68 فیصد ہو چکی ہے جبکہ پلگنگ کا کام جاری ہے۔ اس منصوبے سے 5,059 ہیکٹر رقبے کی آبپاشی اور 2 لاکھ 16 ہزار سے زائد افراد کو پانی کی سہولت فراہم ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق گارک ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 65.41 ملین کیوبک میٹر ہوگی اور یہ سالانہ 9.14 ملین کیوبک میٹر زیر زمین پانی کی ری چارجنگ میں مدد دے گا، جس سے صوبے میں خشک سالی کے اثرات کم ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ میں نائگاج ڈیم منصوبہ سب سے زیادہ تاخیر کا شکار ہے، جس کی مالی سال 2025-26 کے لیے رقم کی تقسیم ابھی تک زیر التوا ہے کیونکہ اس کا نظرثانی شدہ پی سی-1 تیار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کی فزیکل پیش رفت 48.3 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے میں 4.2 میگاواٹ ہائیڈرو پاور جنریشن، سالانہ 17.67 گیگا واٹ آور صاف توانائی کی پیداوار اور تقریباً 23 ہزار ہیکٹر رقبے پر پانی کے پائیدار انتظام کی صلاحیت شامل ہے۔ حکام کے مطابق نظرثانی شدہ منصوبہ بندی کی منظوری کے بعد اس کی تکمیل جون 2028 کے بعد جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا منصوبہ، 26 میگاواٹ شگرتھنگ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اسکردو میں زیر تعمیر ہے، جس کی پیش رفت 32.11 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ مکمل ہونے پر یہ منصوبہ سالانہ 160.39 گیگا واٹ آور بجلی پیدا کرے گا اور تقریباً 82 ہزار ٹن کاربن اخراج میں کمی کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ تقریباً 40 ہزار گھروں کو بجلی فراہم کرے گا اور تعمیر کے دوران تقریباً 300 روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے اپنے پہلے ملکی سطح کے گرین سکوک سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تقریباً 35 فیصد حصہ مختص کر دیا ہے، جس کا زیادہ تر استعمال آبی وسائل اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام بڑھتی ہوئی ماحولیاتی مالی ضروریات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>وزارتِ خزانہ کی ڈومیسٹک گرین سکوک الاکیشن اینڈ امپیکٹ رپورٹ برائے مالی سال 2025-26 کے مطابق حکومت نے اب تک 32 ارب روپے میں سے 11.256 ارب روپے استعمال کیے ہیں، جو تین سالہ ویری ایبل رینٹل ریٹ (وی آر آر) جی او پی اجارہ گرین سکوک کے تحت حاصل کیے گئے تھے۔ یہ سکوک پاکستان کے سسٹین ایبل انویسٹمنٹ سکوک فریم ورک کے تحت جاری کیا گیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق باقی 20.744 ارب روپے آئندہ 24 ماہ میں مختص کیے جائیں گے اور یہ رقم جاری ماحولیاتی انفراسٹرکچر منصوبوں پر خرچ کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>گرین سکوک کی رقم تین بڑے منصوبوں کے لیے مختص کی گئی ہے، جن میں بلوچستان میں گارک اسٹوریج ڈیم، سندھ میں نائگاج ڈیم، اور گلگت بلتستان میں 26 میگاواٹ شگرتھنگ ہائیڈرو پاور منصوبہ شامل ہیں۔</p>
<p>اس اقدام کا مقصد آبی تحفظ کو بہتر بنانا، صاف توانائی کی پیداوار بڑھانا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے خلاف مزاحمت کو مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ منصوبے پاکستان کی قومی ماحولیاتی تبدیلی پالیسی، نیشنل اڈاپٹیشن پلان اور نیشنل کلائمیٹ فنانس اسٹریٹیجی سے ہم آہنگ ہیں۔</p>
<p>تینوں منصوبوں میں سے گارک اسٹوریج ڈیم میں سکوک فنڈز کا سب سے زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ڈیم ضلع خاران میں واقع ہے اور اس کی تکمیل 81.68 فیصد ہو چکی ہے جبکہ پلگنگ کا کام جاری ہے۔ اس منصوبے سے 5,059 ہیکٹر رقبے کی آبپاشی اور 2 لاکھ 16 ہزار سے زائد افراد کو پانی کی سہولت فراہم ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق گارک ڈیم کی پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 65.41 ملین کیوبک میٹر ہوگی اور یہ سالانہ 9.14 ملین کیوبک میٹر زیر زمین پانی کی ری چارجنگ میں مدد دے گا، جس سے صوبے میں خشک سالی کے اثرات کم ہوں گے۔</p>
<p>سندھ میں نائگاج ڈیم منصوبہ سب سے زیادہ تاخیر کا شکار ہے، جس کی مالی سال 2025-26 کے لیے رقم کی تقسیم ابھی تک زیر التوا ہے کیونکہ اس کا نظرثانی شدہ پی سی-1 تیار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کی فزیکل پیش رفت 48.3 فیصد ہے۔</p>
<p>اس منصوبے میں 4.2 میگاواٹ ہائیڈرو پاور جنریشن، سالانہ 17.67 گیگا واٹ آور صاف توانائی کی پیداوار اور تقریباً 23 ہزار ہیکٹر رقبے پر پانی کے پائیدار انتظام کی صلاحیت شامل ہے۔ حکام کے مطابق نظرثانی شدہ منصوبہ بندی کی منظوری کے بعد اس کی تکمیل جون 2028 کے بعد جا سکتی ہے۔</p>
<p>تیسرا منصوبہ، 26 میگاواٹ شگرتھنگ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ اسکردو میں زیر تعمیر ہے، جس کی پیش رفت 32.11 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ مکمل ہونے پر یہ منصوبہ سالانہ 160.39 گیگا واٹ آور بجلی پیدا کرے گا اور تقریباً 82 ہزار ٹن کاربن اخراج میں کمی کرے گا۔</p>
<p>یہ منصوبہ تقریباً 40 ہزار گھروں کو بجلی فراہم کرے گا اور تعمیر کے دوران تقریباً 300 روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286515</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 10:21:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/20102017409743e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/20102017409743e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
