<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:32:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:32:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعوی، خام تیل کی قیمتوں میں کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286510/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باوجود بدھ کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ تاہم سرمایہ کار اب بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کی قیمت 45 سینٹ یا 0.4 فیصد کمی کے بعد 110.83 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 27 سینٹ یا 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 103.88 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کے روز دونوں بینچ مارکس تقریباً ایک ڈالر گر گئے تھے، جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق فوجی کارروائیوں کی بحالی نہیں چاہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجیٹومی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار توشیتاکا تزاوا کے مطابق سرمایہ کار یہ جاننے کے خواہاں ہیں کہ آیا واشنگٹن اور تہران واقعی کسی مشترکہ نکتے پر پہنچ سکتے ہیں یا نہیں، کیونکہ امریکی مؤقف روزانہ تبدیل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ امن معاہدہ ہو بھی جائے، تب بھی ایران سے تیل کی سپلائی فوری طور پر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہونے کا امکان کم ہے، اسی لیے قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ٹرمپ نے امریکی قانون سازوں سے گفتگو میں کہا کہ ایرانی قیادت معاہدے کے لیے بے چین ہے، تاہم اگر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو آئندہ چند دنوں میں ایران پر نئی امریکی کارروائی ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہو چکی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصہ تیل سپلائی گزرتی ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یہ صورتحال عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں سب سے بڑا خلل بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باوجود بدھ کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ تاہم سرمایہ کار اب بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کی قیمت 45 سینٹ یا 0.4 فیصد کمی کے بعد 110.83 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 27 سینٹ یا 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 103.88 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔</p>
<p>منگل کے روز دونوں بینچ مارکس تقریباً ایک ڈالر گر گئے تھے، جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق فوجی کارروائیوں کی بحالی نہیں چاہتے۔</p>
<p>فوجیٹومی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار توشیتاکا تزاوا کے مطابق سرمایہ کار یہ جاننے کے خواہاں ہیں کہ آیا واشنگٹن اور تہران واقعی کسی مشترکہ نکتے پر پہنچ سکتے ہیں یا نہیں، کیونکہ امریکی مؤقف روزانہ تبدیل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ امن معاہدہ ہو بھی جائے، تب بھی ایران سے تیل کی سپلائی فوری طور پر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہونے کا امکان کم ہے، اسی لیے قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب ٹرمپ نے امریکی قانون سازوں سے گفتگو میں کہا کہ ایرانی قیادت معاہدے کے لیے بے چین ہے، تاہم اگر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو آئندہ چند دنوں میں ایران پر نئی امریکی کارروائی ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہو چکی ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصہ تیل سپلائی گزرتی ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق یہ صورتحال عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں سب سے بڑا خلل بن چکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286510</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 09:23:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/20091504cecd9c3.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/20091504cecd9c3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
