<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:30:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیسکو، گیپکو، آئیسکو کی نجکاری کیلئے اظہار دلچسپی طلب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286508/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نجکاری کمیشن نے تین بڑی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں — فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) — کی نجکاری کے لیے ممکنہ سرمایہ کاروں سے اظہارِ دلچسپی (ای او آئیز) طلب کر لیے ہیں، جس کے تحت 51 فیصد سے 100 فیصد تک شیئر ہولڈنگ اور انتظامی کنٹرول کی پیشکش کی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) پہلے ہی ان تینوں ڈسکوز کے لیے ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی منظوری دے چکی ہے۔ ای او آئیز جاری ہونے سے قبل اس فیصلے کی باقاعدہ توثیق بھی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام حکومت کے وسیع تر پاور سیکٹر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا، نقصانات میں کمی لانا اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیسکو، گیپکو اور آئیسکو، جنہیں اجتماعی طور پر بیچ-ون ڈسکوز کہا جا رہا ہے، مکمل طور پر سرکاری ملکیتی پبلک لمیٹڈ کمپنیاں ہیں جو پنجاب اور اسلام آباد کے اہم علاقوں میں بجلی کی تقسیم کی ذمہ دار ہیں۔ فیسکو وسطی پنجاب میں 5.7 ملین سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہے، گیپکو گوجرانوالہ اور گردونواح میں تقریباً 5.1 ملین صارفین کو بجلی فراہم کرتی ہے، جبکہ آئیسکو اسلام آباد، راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں بشمول آزاد جموں و کشمیر میں تقریباً 4.1 ملین صارفین کو بجلی سپلائی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کمیشن کے مطابق دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں یا کنسورشیمز کو ہر ڈسکو کے لیے الگ ای او آئی جمع کرانا ہوگی۔ درخواست دہندگان کو اسٹیٹمنٹس آف کوالیفکیشن (ایس او کیوز) بھی جمع کرانا ہوں گے، جن کی بنیاد پر سرمایہ کاروں کو اگلے مرحلے کے لیے پری کوالیفائی کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر ڈسکو کے لیے 5,000 امریکی ڈالر یا 1.4 ملین روپے کی نان ریفنڈیبل پروسیسنگ فیس مقرر کی گئی ہے۔ کنسورشیم کی صورت میں صرف ایک رکن کو یہ فیس ادا کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای او آئیز جمع کرانے کی آخری تاریخ فیسکو کے لیے 7 جولائی 2026، گیپکو کے لیے 6 اگست 2026 اور آئیسکو کے لیے 7 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے واضح کیا کہ صرف پری کوالیفائیڈ فریقین کو ورچوئل ڈیٹا روم تک رسائی دی جائے گی تاکہ وہ ڈیو ڈیلیجنس مکمل کر سکیں اور بولی کے عمل میں حصہ لے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے زور دیا کہ یہ دعوت کسی حتمی یا لازمی پیشکش کے مترادف نہیں بلکہ اس کا مقصد سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا اندازہ لگانا ہے۔ حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی مرحلے پر ٹرانزیکشن اسٹرکچر، ٹائم لائنز یا شرائط میں تبدیلی کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکنہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک آن لائن بریفنگ بھی شیڈول کی جا چکی ہے، جس میں نجکاری کمیشن اور اس کے مالیاتی مشیر سرمایہ کاری کے اہم نکات اور ٹرانزیکشن کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت اور نجکاری کمیشن کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی یا تمام ای او آئیز کو قبول یا مسترد کر دیں یا کسی بھی مرحلے پر پورا عمل منسوخ کر دیں۔ تفصیلی ٹرانزیکشن دستاویزات، بشمول انفارمیشن میمورنڈم اور ڈرافٹ بڈنگ ڈاکومنٹس، بعد میں پری کوالیفائیڈ فریقین کو فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسکوز کی نجکاری پاکستان کے توانائی شعبے کی اصلاحات کا ایک مرکزی ستون سمجھی جا رہی ہے، اور حکام کو توقع ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے گورننس بہتر ہوگی، ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات کم ہوں گے اور مجموعی سروس ڈیلیوری میں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نجکاری کمیشن نے تین بڑی پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں — فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو)، گجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) — کی نجکاری کے لیے ممکنہ سرمایہ کاروں سے اظہارِ دلچسپی (ای او آئیز) طلب کر لیے ہیں، جس کے تحت 51 فیصد سے 100 فیصد تک شیئر ہولڈنگ اور انتظامی کنٹرول کی پیشکش کی گئی ہے۔</strong></p>
<p>ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) پہلے ہی ان تینوں ڈسکوز کے لیے ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی منظوری دے چکی ہے۔ ای او آئیز جاری ہونے سے قبل اس فیصلے کی باقاعدہ توثیق بھی کی گئی۔</p>
<p>یہ اقدام حکومت کے وسیع تر پاور سیکٹر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا، نقصانات میں کمی لانا اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>فیسکو، گیپکو اور آئیسکو، جنہیں اجتماعی طور پر بیچ-ون ڈسکوز کہا جا رہا ہے، مکمل طور پر سرکاری ملکیتی پبلک لمیٹڈ کمپنیاں ہیں جو پنجاب اور اسلام آباد کے اہم علاقوں میں بجلی کی تقسیم کی ذمہ دار ہیں۔ فیسکو وسطی پنجاب میں 5.7 ملین سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہے، گیپکو گوجرانوالہ اور گردونواح میں تقریباً 5.1 ملین صارفین کو بجلی فراہم کرتی ہے، جبکہ آئیسکو اسلام آباد، راولپنڈی اور ملحقہ علاقوں بشمول آزاد جموں و کشمیر میں تقریباً 4.1 ملین صارفین کو بجلی سپلائی کرتی ہے۔</p>
<p>نجکاری کمیشن کے مطابق دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں یا کنسورشیمز کو ہر ڈسکو کے لیے الگ ای او آئی جمع کرانا ہوگی۔ درخواست دہندگان کو اسٹیٹمنٹس آف کوالیفکیشن (ایس او کیوز) بھی جمع کرانا ہوں گے، جن کی بنیاد پر سرمایہ کاروں کو اگلے مرحلے کے لیے پری کوالیفائی کیا جائے گا۔</p>
<p>ہر ڈسکو کے لیے 5,000 امریکی ڈالر یا 1.4 ملین روپے کی نان ریفنڈیبل پروسیسنگ فیس مقرر کی گئی ہے۔ کنسورشیم کی صورت میں صرف ایک رکن کو یہ فیس ادا کرنا ہوگی۔</p>
<p>ای او آئیز جمع کرانے کی آخری تاریخ فیسکو کے لیے 7 جولائی 2026، گیپکو کے لیے 6 اگست 2026 اور آئیسکو کے لیے 7 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>کمیشن نے واضح کیا کہ صرف پری کوالیفائیڈ فریقین کو ورچوئل ڈیٹا روم تک رسائی دی جائے گی تاکہ وہ ڈیو ڈیلیجنس مکمل کر سکیں اور بولی کے عمل میں حصہ لے سکیں۔</p>
<p>حکام نے زور دیا کہ یہ دعوت کسی حتمی یا لازمی پیشکش کے مترادف نہیں بلکہ اس کا مقصد سرمایہ کاروں کی دلچسپی کا اندازہ لگانا ہے۔ حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی مرحلے پر ٹرانزیکشن اسٹرکچر، ٹائم لائنز یا شرائط میں تبدیلی کر سکے۔</p>
<p>ممکنہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک آن لائن بریفنگ بھی شیڈول کی جا چکی ہے، جس میں نجکاری کمیشن اور اس کے مالیاتی مشیر سرمایہ کاری کے اہم نکات اور ٹرانزیکشن کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔</p>
<p>حکومت اور نجکاری کمیشن کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی یا تمام ای او آئیز کو قبول یا مسترد کر دیں یا کسی بھی مرحلے پر پورا عمل منسوخ کر دیں۔ تفصیلی ٹرانزیکشن دستاویزات، بشمول انفارمیشن میمورنڈم اور ڈرافٹ بڈنگ ڈاکومنٹس، بعد میں پری کوالیفائیڈ فریقین کو فراہم کیے جائیں گے۔</p>
<p>ڈسکوز کی نجکاری پاکستان کے توانائی شعبے کی اصلاحات کا ایک مرکزی ستون سمجھی جا رہی ہے، اور حکام کو توقع ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے گورننس بہتر ہوگی، ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات کم ہوں گے اور مجموعی سروس ڈیلیوری میں بہتری آئے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286508</guid>
      <pubDate>Wed, 20 May 2026 08:58:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/20085645977c0f7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/20085645977c0f7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
