<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:24:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:24:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی فوج کا حملے دوبارہ شروع ہونے پر امریکہ کے خلاف نئے محاذ کھولنے کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286496/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملے شروع کیے تو وہ اس کے خلاف نئے محاذ کھول دے گی۔ یہ انتباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے ایک نئے معاہدے کی امید میں فوجی کارروائی فی الحال روک دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی ایسنا نیوز ایجنسی کے مطابق فوج کے ترجمان محمد اکرام نیا نے کہا اگر دشمن نے دوبارہ صیہونی جال میں پھنسنے کی حماقت کی اور ہمارے پیارے ملک ایران کے خلاف نئی جارحیت کا آغاز کیا تو ہم نئے آلات اور نئے طریقوں کے ساتھ اس کے خلاف نئے محاذ کھول دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن اور تہران 28 فروری کو شروع ہونے والی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کو تجاویز بھیج رہے ہیں۔ 8 اپریل سے نافذ العمل ایک نازک جنگ بندی کے دوران دونوں فریقین اب تک مذاکرات کا صرف ایک دور ہی کر سکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے ان سے درخواست کی ہے کہ  وہ اسلامی جمہوریہ ایران پر کل کے لیے طے شدہ فوجی حملے کو مؤخر کر دیں، کیونکہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں لیکن ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت کی ہے کہ اگر کوئی قابلِ قبول معاہدہ طے نہ پا سکا تو وہ پلک جھپکتے ہی ایران پر ایک مکمل اور بڑے پیمانے پر حملے کے لیے تیار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو ایرانی فوج کے ترجمان اکرام نیا نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ ان کے ملک نے جنگ بندی کو اپنی جنگی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ’ایسنا‘ کے مطابق انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل خلیجِ ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار ہے، جسے اس نے بند کر رکھا ہے اور اب وہ وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹیکس عائد کرنا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دشمن کے لیے واحد راستہ یہی ہے کہ وہ ایرانی قوم کا احترام کرے اور اسلامی جمہوریہ کے جائز حقوق تسلیم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کو ایران نے کہا تھا کہ اس نے امریکہ کی ایک نئی تجویز کا جواب دے دیا ہے اور ایرانی میڈیا کی ان رپورٹس کے باوجود سفارتی تبادلے جاری ہیں جن میں واشنگٹن کے مطالبات کو حد سے زیادہ قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک دن قبل ایران کی ’فارس‘ نیوز ایجنسی نے بتایا تھا کہ واشنگٹن نے ایک پانچ نکاتی فہرست پیش کی ہے، جس میں یہ مطالبات شامل ہیں کہ ایران صرف ایک جوہری سائٹ فعال رکھے اور اپنے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ امریکہ کے حوالے کر دے۔ ’فارس‘ نے مزید بتایا کہ امریکہ نے بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کا 25 فیصد بھی  بحال کرنے یا جنگی نقصانات کا کوئی ہرجانہ ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ جارحیت صرف اسی صورت میں ختم کرے گا جب تہران باقاعدہ امن مذاکرات کا حصہ بنے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف ایران نے اپنے مطالبات پر اصرار کیا ہے، جن میں منجمد اثاثوں کی بحالی، ملک پر عائد دیرینہ پابندیوں کا خاتمہ اور جنگی نقصانات کا ہرجانہ شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملے شروع کیے تو وہ اس کے خلاف نئے محاذ کھول دے گی۔ یہ انتباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے ایک نئے معاہدے کی امید میں فوجی کارروائی فی الحال روک دی ہے۔</strong></p>
<p>ایران کی ایسنا نیوز ایجنسی کے مطابق فوج کے ترجمان محمد اکرام نیا نے کہا اگر دشمن نے دوبارہ صیہونی جال میں پھنسنے کی حماقت کی اور ہمارے پیارے ملک ایران کے خلاف نئی جارحیت کا آغاز کیا تو ہم نئے آلات اور نئے طریقوں کے ساتھ اس کے خلاف نئے محاذ کھول دیں گے۔</p>
<p>واشنگٹن اور تہران 28 فروری کو شروع ہونے والی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کو تجاویز بھیج رہے ہیں۔ 8 اپریل سے نافذ العمل ایک نازک جنگ بندی کے دوران دونوں فریقین اب تک مذاکرات کا صرف ایک دور ہی کر سکے ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں نے ان سے درخواست کی ہے کہ  وہ اسلامی جمہوریہ ایران پر کل کے لیے طے شدہ فوجی حملے کو مؤخر کر دیں، کیونکہ اس وقت سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں لیکن ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت کی ہے کہ اگر کوئی قابلِ قبول معاہدہ طے نہ پا سکا تو وہ پلک جھپکتے ہی ایران پر ایک مکمل اور بڑے پیمانے پر حملے کے لیے تیار رہیں۔</p>
<p>منگل کو ایرانی فوج کے ترجمان اکرام نیا نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ ان کے ملک نے جنگ بندی کو اپنی جنگی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ’ایسنا‘ کے مطابق انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اسٹریٹیجک اہمیت کی حامل خلیجِ ہرمز پر ایران کا کنٹرول برقرار ہے، جسے اس نے بند کر رکھا ہے اور اب وہ وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹیکس عائد کرنا چاہتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دشمن کے لیے واحد راستہ یہی ہے کہ وہ ایرانی قوم کا احترام کرے اور اسلامی جمہوریہ کے جائز حقوق تسلیم کرے۔</p>
<p>پیر کو ایران نے کہا تھا کہ اس نے امریکہ کی ایک نئی تجویز کا جواب دے دیا ہے اور ایرانی میڈیا کی ان رپورٹس کے باوجود سفارتی تبادلے جاری ہیں جن میں واشنگٹن کے مطالبات کو حد سے زیادہ قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس سے ایک دن قبل ایران کی ’فارس‘ نیوز ایجنسی نے بتایا تھا کہ واشنگٹن نے ایک پانچ نکاتی فہرست پیش کی ہے، جس میں یہ مطالبات شامل ہیں کہ ایران صرف ایک جوہری سائٹ فعال رکھے اور اپنے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ امریکہ کے حوالے کر دے۔ ’فارس‘ نے مزید بتایا کہ امریکہ نے بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کا 25 فیصد بھی  بحال کرنے یا جنگی نقصانات کا کوئی ہرجانہ ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ جارحیت صرف اسی صورت میں ختم کرے گا جب تہران باقاعدہ امن مذاکرات کا حصہ بنے گا۔</p>
<p>دوسری طرف ایران نے اپنے مطالبات پر اصرار کیا ہے، جن میں منجمد اثاثوں کی بحالی، ملک پر عائد دیرینہ پابندیوں کا خاتمہ اور جنگی نقصانات کا ہرجانہ شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286496</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 18:11:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/19180013217ac86.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/19180013217ac86.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
