<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ جنگ کے باعث لوڈ شیڈنگ میں شدت، پاکستان نے گرے مارکیٹ کے جنریٹرز کا رخ کر لیا، رپورٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286493/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;توانائی کی سپلائی میں بڑھتے ہوئے بگاڑ کے باعث جہاں ایک طرف طویل لوڈ شیڈنگ نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے وہیں دوسری طرف شہریوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے کام کاج کو جاری رکھنے کے لیے غیر رسمی مائیکرو یوٹیلیٹیز  اور گرے مارکیٹ کے ڈیزل جنریٹرز کا رخ کر لیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی کے مختلف علاقوں میں مستقل لوڈ شیڈنگ سے نبردآزما شہریوں کی مشکلات کے پیشِ نظر غیر معتبر سرکاری گرڈ کے متبادل کے طور پر نجی طور پر چلنے والے بیک اپ پاور نیٹ ورکس (لوکل کنکشنز) سامنے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیشہ ورانہ طور پر درزی کا کام کرنے والے محمد مظہر، مین سپلائی بند ہونے پر قریبی جنریٹر سے بجلی لینے کے لیے ماہانہ فیس ادا کرتے ہیں۔ مظہر نے بتایا کہ یہ کنکشن میرے کاروبار کے لیے ایک لائف لائن ہے۔ ہم زیادہ بجلی تو استعمال نہیں کرتے لیکن اس کے بغیر ہمیں گاہکوں کے کپڑے استری کرنے کے لیے لائٹ آنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ برابر والا جنریٹر ہمیں روزی روٹی کمانے میں مدد دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات نافذ کرنے کے باوجود اگر یہ تنازع طول پکڑتا ہے تو پاکستان کی معیشت اب بھی سب سے زیادہ خطرے کی زد میں رہنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان کو ایک ایسی معیشت کے طور پر نامزد کیا ہے جسے مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازع کی صورت میں سب سے زیادہ میکرو فنانشل اسٹریس (بڑے پیمانے پر معاشی دباؤ) کے خطرے کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس آؤٹ لک کے مطابق مالی سال 2027 میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی  نمو سست ہو کر 3.2 فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے خطرات کا پلہ نیچے کی طرف جھکا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلومبرگ کے مطابق پاکستان کے امیر طبقات پہلے ہی متبادل ذرائع خاص طور پر سولر پاور (شمسی توانائی) کا رخ کر چکے ہیں۔ تاہم اب زیادہ سے زیادہ عام شہری بجٹ کے موافق متبادلات کا انتخاب کر رہے ہیں  اور وہ ان چھوٹے سپلائرز کی طرف رجوع کر رہے ہیں جو ڈیزل جنریٹر چلاتے ہیں اور معمولی فیس وصول کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماہرینِ اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ گلی محلوں میں چلنے والے ان ڈیزل جنریٹرز پر بڑھتا ہوا انحصار پہلے سے کمزور ملکی معیشت کے لیے مزید مسائل پیدا کر سکتا ہے، جس سے مہنگائی بڑھے گی اور قیمتی غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیپٹل اکنامکس کے سینئر ایشیا اکانومسٹ گیریٹ لیدر کا کہنا ہے کہ   مستقل لوڈ شیڈنگ پاکستان کی معاشی ترقی کو محدود کر دیتی ہے۔ یہ بحران معیشت کے دونوں سروں پر ضرب لگاتا ہے۔ یہ ملکی کھپت کو متاثر کرتا ہے کیونکہ آسمان کو چھوتے بجلی کے بلوں اور ایندھن کے اخراجات کی وجہ سے خاندانوں کے پاس خرچ کرنے کے لیے پیسے کم بچتے ہیں اور یہ برآمدات کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے، کیونکہ ٹیکسٹائل جیسے اہم شعبے مستقل پیداوار یا بین الاقوامی ڈیڈ لائنز کو پورا کرنے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی میں کاروباری اداروں نے اپنے طور پر حل نکال لیے ہیں، مثال کے طور پر کراچی کے صنعتی علاقے کورنگی کی ایک مقامی مارکیٹ کے صدر شہزاد عالم راجپوت دو بڑے ڈیزل جنریٹرز کے ذریعے سینکڑوں دکانوں کو بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ شہزاد راجپوت نے سوال کیا کہ اگر بجلی نہیں ہوگی تو یہ لوگ اپنے کاروبار کیسے چلائیں گے؟ ہم یہاں اس لیے ہیں کیونکہ اس کی مانگ ہے۔ اگر گرڈ سے بلا تعطل سپلائی مل رہی ہوتی تو ہم یہ کام نہ کر رہے ہوتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان نے ایک ہفتے میں خلیج فارس سے ایل این جی کے دو بحری جہاز درآمد کیے ہیں لیکن سپلائی کے معمول پر نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ طویل بحران کے خطرات برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جنریٹرز ہر مسئلے کا حل نہیں ہیں خاص طور پر زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے۔ لوہے اور ایلومینیم کی ویلڈنگ کی دکان پر کام کرنے والے عبد الستار کا کہنا ہے کہ چھوٹے پیمانے پر جنریٹر فراہم کرنے والے دکانوں اور گھروں میں ایل ای ڈی لائٹس جلانے میں تو مدد کر سکتے ہیں لیکن ان میں بھاری سامان چلانے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ حتیٰ کہ ان لوگوں کے لیے بھی  جو کسی نہ کسی طرح گزارا کرنے میں خوش قسمت رہے ہیں آنے والے ہفتے اور مہینے چیلنجز سے بھرپور ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>توانائی کی سپلائی میں بڑھتے ہوئے بگاڑ کے باعث جہاں ایک طرف طویل لوڈ شیڈنگ نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے وہیں دوسری طرف شہریوں اور چھوٹے کاروباری اداروں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے کام کاج کو جاری رکھنے کے لیے غیر رسمی مائیکرو یوٹیلیٹیز  اور گرے مارکیٹ کے ڈیزل جنریٹرز کا رخ کر لیا ہے۔</strong></p>
<p>بلومبرگ کے مطابق پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی کے مختلف علاقوں میں مستقل لوڈ شیڈنگ سے نبردآزما شہریوں کی مشکلات کے پیشِ نظر غیر معتبر سرکاری گرڈ کے متبادل کے طور پر نجی طور پر چلنے والے بیک اپ پاور نیٹ ورکس (لوکل کنکشنز) سامنے آئے ہیں۔</p>
<p>پیشہ ورانہ طور پر درزی کا کام کرنے والے محمد مظہر، مین سپلائی بند ہونے پر قریبی جنریٹر سے بجلی لینے کے لیے ماہانہ فیس ادا کرتے ہیں۔ مظہر نے بتایا کہ یہ کنکشن میرے کاروبار کے لیے ایک لائف لائن ہے۔ ہم زیادہ بجلی تو استعمال نہیں کرتے لیکن اس کے بغیر ہمیں گاہکوں کے کپڑے استری کرنے کے لیے لائٹ آنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ برابر والا جنریٹر ہمیں روزی روٹی کمانے میں مدد دے رہا ہے۔</p>
<p>امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات نافذ کرنے کے باوجود اگر یہ تنازع طول پکڑتا ہے تو پاکستان کی معیشت اب بھی سب سے زیادہ خطرے کی زد میں رہنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان کو ایک ایسی معیشت کے طور پر نامزد کیا ہے جسے مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازع کی صورت میں سب سے زیادہ میکرو فنانشل اسٹریس (بڑے پیمانے پر معاشی دباؤ) کے خطرے کا سامنا ہے۔</p>
<p>اس آؤٹ لک کے مطابق مالی سال 2027 میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی  نمو سست ہو کر 3.2 فیصد تک رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے خطرات کا پلہ نیچے کی طرف جھکا ہوا ہے۔</p>
<p>بلومبرگ کے مطابق پاکستان کے امیر طبقات پہلے ہی متبادل ذرائع خاص طور پر سولر پاور (شمسی توانائی) کا رخ کر چکے ہیں۔ تاہم اب زیادہ سے زیادہ عام شہری بجٹ کے موافق متبادلات کا انتخاب کر رہے ہیں  اور وہ ان چھوٹے سپلائرز کی طرف رجوع کر رہے ہیں جو ڈیزل جنریٹر چلاتے ہیں اور معمولی فیس وصول کرتے ہیں۔</p>
<p>تاہم ماہرینِ اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ گلی محلوں میں چلنے والے ان ڈیزل جنریٹرز پر بڑھتا ہوا انحصار پہلے سے کمزور ملکی معیشت کے لیے مزید مسائل پیدا کر سکتا ہے، جس سے مہنگائی بڑھے گی اور قیمتی غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>کیپٹل اکنامکس کے سینئر ایشیا اکانومسٹ گیریٹ لیدر کا کہنا ہے کہ   مستقل لوڈ شیڈنگ پاکستان کی معاشی ترقی کو محدود کر دیتی ہے۔ یہ بحران معیشت کے دونوں سروں پر ضرب لگاتا ہے۔ یہ ملکی کھپت کو متاثر کرتا ہے کیونکہ آسمان کو چھوتے بجلی کے بلوں اور ایندھن کے اخراجات کی وجہ سے خاندانوں کے پاس خرچ کرنے کے لیے پیسے کم بچتے ہیں اور یہ برآمدات کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے، کیونکہ ٹیکسٹائل جیسے اہم شعبے مستقل پیداوار یا بین الاقوامی ڈیڈ لائنز کو پورا کرنے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ کراچی میں کاروباری اداروں نے اپنے طور پر حل نکال لیے ہیں، مثال کے طور پر کراچی کے صنعتی علاقے کورنگی کی ایک مقامی مارکیٹ کے صدر شہزاد عالم راجپوت دو بڑے ڈیزل جنریٹرز کے ذریعے سینکڑوں دکانوں کو بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ شہزاد راجپوت نے سوال کیا کہ اگر بجلی نہیں ہوگی تو یہ لوگ اپنے کاروبار کیسے چلائیں گے؟ ہم یہاں اس لیے ہیں کیونکہ اس کی مانگ ہے۔ اگر گرڈ سے بلا تعطل سپلائی مل رہی ہوتی تو ہم یہ کام نہ کر رہے ہوتے۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان نے ایک ہفتے میں خلیج فارس سے ایل این جی کے دو بحری جہاز درآمد کیے ہیں لیکن سپلائی کے معمول پر نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ طویل بحران کے خطرات برقرار ہیں۔</p>
<p>تاہم جنریٹرز ہر مسئلے کا حل نہیں ہیں خاص طور پر زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے۔ لوہے اور ایلومینیم کی ویلڈنگ کی دکان پر کام کرنے والے عبد الستار کا کہنا ہے کہ چھوٹے پیمانے پر جنریٹر فراہم کرنے والے دکانوں اور گھروں میں ایل ای ڈی لائٹس جلانے میں تو مدد کر سکتے ہیں لیکن ان میں بھاری سامان چلانے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔</p>
<p>رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ حتیٰ کہ ان لوگوں کے لیے بھی  جو کسی نہ کسی طرح گزارا کرنے میں خوش قسمت رہے ہیں آنے والے ہفتے اور مہینے چیلنجز سے بھرپور ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286493</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 15:46:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/191530182f8b403.webp" type="image/webp" medium="image" height="638" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/191530182f8b403.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
