<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی بجلی کے درآمدی ٹیرف پر کاروباری برادری کو تشویش، فی یونٹ 44 روپے سے تجاوز کرنے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286487/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کاروباری برادری نے ایران سے بجلی کی درآمد  کیلئے حال ہی میں منظور کیے گئے ٹیرف پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ لائن لاسز، سرچارجز اور ڈسٹری بیوشن چارجز شامل ہونے کے بعد اس اقدام سے صنعتی بجلی کی لاگت 44 روپے فی یونٹ سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حال ہی میں بلوچستان کے مکران ریجن کیلئے ایران کے سرکاری ادارے  توانیرسے 204 میگاواٹ بجلی کی درآمد کیلئے 12.40 امریکی سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ کے ٹیرف کی منظوری دی ہے۔ موجودہ شرحِ مبادلہ کے مطابق گھریلو چارجز شامل کیے جانے سے پہلے بنیادی سطح پر یہ ٹیرف تقریباً 35 روپے فی یونٹ بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی چیمبر کے بزنس مین پینل کے چیئرمین میاں انجم نثار نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت تک برآمدات پر مبنی معاشی ترقی حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ صنعتیں جنوبی ایشیا میں بجلی کی بھاری  قیمتیں ادا کرتی رہیں گی۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ خطے کی حریف معیشتیں صنعتی بجلی نمایاں طور پر کم نرخوں پر فراہم کررہی ہیں جس میں چین 20 سے 28 روپے، بنگلہ دیش 18 سے 25 روپے اور ویتنام 16 سے 22 روپے فی یونٹ چارج کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس مین پینل نے انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو سالانہ 3.4 ٹریلین (34 کھرب) روپے کی ادائیگیوں اور گردشی قرضوں کے بدتر ہوتے ہوئے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے توانائی  شعبے کی ازسرِنو تشکیل کے اپنے مطالبے کو بھی دہرایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ بجلی کے بڑھتے ٹیرف صنعتی مانگ کو دبا رہے ہیں جس سے ایک ایسا سائیکل جنم لے رہا ہے جو صارفین کے لیے فی یونٹ مقررہ لاگت  میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کاروباری برادری نے ایران سے بجلی کی درآمد  کیلئے حال ہی میں منظور کیے گئے ٹیرف پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ لائن لاسز، سرچارجز اور ڈسٹری بیوشن چارجز شامل ہونے کے بعد اس اقدام سے صنعتی بجلی کی لاگت 44 روپے فی یونٹ سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔</strong></p>
<p>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے حال ہی میں بلوچستان کے مکران ریجن کیلئے ایران کے سرکاری ادارے  توانیرسے 204 میگاواٹ بجلی کی درآمد کیلئے 12.40 امریکی سینٹ فی کلوواٹ گھنٹہ کے ٹیرف کی منظوری دی ہے۔ موجودہ شرحِ مبادلہ کے مطابق گھریلو چارجز شامل کیے جانے سے پہلے بنیادی سطح پر یہ ٹیرف تقریباً 35 روپے فی یونٹ بنتا ہے۔</p>
<p>وفاقی چیمبر کے بزنس مین پینل کے چیئرمین میاں انجم نثار نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت تک برآمدات پر مبنی معاشی ترقی حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ صنعتیں جنوبی ایشیا میں بجلی کی بھاری  قیمتیں ادا کرتی رہیں گی۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ خطے کی حریف معیشتیں صنعتی بجلی نمایاں طور پر کم نرخوں پر فراہم کررہی ہیں جس میں چین 20 سے 28 روپے، بنگلہ دیش 18 سے 25 روپے اور ویتنام 16 سے 22 روپے فی یونٹ چارج کررہا ہے۔</p>
<p>بزنس مین پینل نے انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو سالانہ 3.4 ٹریلین (34 کھرب) روپے کی ادائیگیوں اور گردشی قرضوں کے بدتر ہوتے ہوئے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے توانائی  شعبے کی ازسرِنو تشکیل کے اپنے مطالبے کو بھی دہرایا۔</p>
<p>صنعتی رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ بجلی کے بڑھتے ٹیرف صنعتی مانگ کو دبا رہے ہیں جس سے ایک ایسا سائیکل جنم لے رہا ہے جو صارفین کے لیے فی یونٹ مقررہ لاگت  میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286487</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 14:30:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/191425000cdbb51.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/191425000cdbb51.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
