<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 00:53:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 00:53:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیلے اور ڈیٹینشن سرٹیفکیٹس: اپٹما کا سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے وزیرِ اعظم کو خط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286486/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے کسٹمز حکام کی جانب سے جاری کردہ ڈیلے اور ڈیٹینشن  سرٹیفکیٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ اعظم سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم شہباز شریف  کو لکھے گئے خط میں چیئرمین اپٹما  کامران ارشد نے کہا کہ پالیسی فیصلوں، ریگولیٹری اقدامات، طریقہ کار کی شرائط اور انتظامی کارروائیوں کے باعث جو درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے کنٹرول سے باہر ہیں، کنسائنمنٹس اکثر تاخیر ہو جاتی ہے۔  ان تاخیر کی وجہ سے کلیئرنس کے وقت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور تجارت سے وابستہ افراد کا کوئی قصور نہ ہونے کے باوجود پورٹ حکام اور شپنگ لائنز کی جانب سے بھاری ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز عائد کر دیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے کسٹمز ایکٹ 1969ء کے سیکشن 14(A)(2) کی طرف توجہ دلائی جو واضح طور پر یہ طے کرتا ہے کہ پورٹ حکام سمیت کوئی بھی ایجنسی یا ادارہ کسٹمز کے اسسٹنٹ کلیکٹر یا اس سے بڑے افسر کی جانب سے جاری کردہ ’تاخیر اور حراستی سرٹیفکیٹس کو تسلیم کرنے کا پابند ہے اور درآمد کنندگان یا برآمد کنندگان کی غلطی کے بغیر ہونے والی تاخیر کے باعث وصول کیے گئے چارجز واپس کرنے کا پابند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور مختلف ہائی کورٹس نے پورٹ حکام اور شپنگ کمپنیوں کو ان سرٹیفکیٹس کی تعمیل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے واضح فیصلے جاری کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم واضح قانونی دفعات اور عدالتی احکامات کے باوجود، پورٹ حکام اور شپنگ لائنز ان سرٹیفکیٹس کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں اور کاروباری برادری کو جائز ریلیف فراہم کرنے سے انکاری ہیں۔ اپٹما نے مزید کہا کہ اس مسلسل عدم تعمیل کی وجہ سے انڈسٹری اور تجارت کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے کسٹمز حکام کی جانب سے جاری کردہ ڈیلے اور ڈیٹینشن  سرٹیفکیٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے وزیرِ اعظم سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔</strong></p>
<p>وزیرِاعظم شہباز شریف  کو لکھے گئے خط میں چیئرمین اپٹما  کامران ارشد نے کہا کہ پالیسی فیصلوں، ریگولیٹری اقدامات، طریقہ کار کی شرائط اور انتظامی کارروائیوں کے باعث جو درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے کنٹرول سے باہر ہیں، کنسائنمنٹس اکثر تاخیر ہو جاتی ہے۔  ان تاخیر کی وجہ سے کلیئرنس کے وقت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور تجارت سے وابستہ افراد کا کوئی قصور نہ ہونے کے باوجود پورٹ حکام اور شپنگ لائنز کی جانب سے بھاری ڈیمرج اور ڈیٹینشن چارجز عائد کر دیے جاتے ہیں۔</p>
<p>اپٹما نے کسٹمز ایکٹ 1969ء کے سیکشن 14(A)(2) کی طرف توجہ دلائی جو واضح طور پر یہ طے کرتا ہے کہ پورٹ حکام سمیت کوئی بھی ایجنسی یا ادارہ کسٹمز کے اسسٹنٹ کلیکٹر یا اس سے بڑے افسر کی جانب سے جاری کردہ ’تاخیر اور حراستی سرٹیفکیٹس کو تسلیم کرنے کا پابند ہے اور درآمد کنندگان یا برآمد کنندگان کی غلطی کے بغیر ہونے والی تاخیر کے باعث وصول کیے گئے چارجز واپس کرنے کا پابند ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور مختلف ہائی کورٹس نے پورٹ حکام اور شپنگ کمپنیوں کو ان سرٹیفکیٹس کی تعمیل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے واضح فیصلے جاری کیے ہیں۔</p>
<p>تاہم واضح قانونی دفعات اور عدالتی احکامات کے باوجود، پورٹ حکام اور شپنگ لائنز ان سرٹیفکیٹس کو مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں اور کاروباری برادری کو جائز ریلیف فراہم کرنے سے انکاری ہیں۔ اپٹما نے مزید کہا کہ اس مسلسل عدم تعمیل کی وجہ سے انڈسٹری اور تجارت کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286486</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 14:09:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/191406307463d72.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/191406307463d72.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
