<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:24:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:24:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>معاہدے کے بغیر جنگ کا خاتمہ ناممکن، امریکا ایران تعطل نئی جنگ کے خطرات بڑھانے لگا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286474/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے تقریباً تین ماہ بعد صورتحال تعطل کا شکار ہے، جہاں امریکی ناکہ بندی اور ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت نے ایک ایسا جمود پیدا کر دیا ہے جس میں نہ کوئی فریق پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہے اور نہ ہی کسی فوری معاہدے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ اس تعطل کے باعث معاشی دباؤ میں اضافہ اور ایک نئی جنگ کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی حلقوں میں اصل تشویش یہ نہیں کہ معاہدہ قریب ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کشیدگی کتنے عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے اور کہیں کسی غلط اندازے سے دوبارہ جنگ نہ بھڑک اٹھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی حکام کے مطابق میزائل پروگرام، جوہری صلاحیت اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول سے متعلق کسی بھی رعایت کو محض پالیسی آپشن نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بقا کے بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے، اس لیے ان سے دستبرداری کو وہ سمجھوتہ نہیں بلکہ ہتھیار ڈالنا تصور کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے کئی دور بھی کسی پیش رفت کا باعث نہیں بنے، جبکہ دونوں فریقین اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ ایران کم از کم 20 سال تک یورینیم افزودگی روک دے اور اپنے ذخائر امریکا منتقل کرے، جبکہ ایران جنگ کے خاتمے، سلامتی کی ضمانت، جنگی معاوضوں اور آبنائے ہرمز پر خودمختاری کے اعتراف کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے واشنگٹن نے مسترد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق امریکی حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز، جو پہلے عالمی تیل کا تقریباً 25 فیصد اور ایل این جی کا 20 فیصد منتقل کرتی تھی، اب عملی طور پر بند ہو چکی ہے جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور صنعتی سرگرمیوں میں کمی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ بعض ایرانی ذرائع کے مطابق تہران ایک ابتدائی معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت ہرمز کو محدود ایرانی نگرانی میں دوبارہ کھولا جائے، جبکہ امریکا مکمل اور غیر مشروط بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تنازع کا حل فوجی نہیں بلکہ صرف مذاکرات ہیں، کیونکہ کوئی بھی فریق مکمل پسپائی پر آمادہ نہیں اور صورتحال مسلسل کشیدگی کے ساتھ ایک طویل بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے تقریباً تین ماہ بعد صورتحال تعطل کا شکار ہے، جہاں امریکی ناکہ بندی اور ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت نے ایک ایسا جمود پیدا کر دیا ہے جس میں نہ کوئی فریق پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہے اور نہ ہی کسی فوری معاہدے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ اس تعطل کے باعث معاشی دباؤ میں اضافہ اور ایک نئی جنگ کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>سفارتی حلقوں میں اصل تشویش یہ نہیں کہ معاہدہ قریب ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کشیدگی کتنے عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے اور کہیں کسی غلط اندازے سے دوبارہ جنگ نہ بھڑک اٹھے۔</p>
<p>ایرانی حکام کے مطابق میزائل پروگرام، جوہری صلاحیت اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول سے متعلق کسی بھی رعایت کو محض پالیسی آپشن نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بقا کے بنیادی ستون سمجھا جاتا ہے، اس لیے ان سے دستبرداری کو وہ سمجھوتہ نہیں بلکہ ہتھیار ڈالنا تصور کرتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے کئی دور بھی کسی پیش رفت کا باعث نہیں بنے، جبکہ دونوں فریقین اپنے مؤقف پر سختی سے قائم ہیں۔ امریکا چاہتا ہے کہ ایران کم از کم 20 سال تک یورینیم افزودگی روک دے اور اپنے ذخائر امریکا منتقل کرے، جبکہ ایران جنگ کے خاتمے، سلامتی کی ضمانت، جنگی معاوضوں اور آبنائے ہرمز پر خودمختاری کے اعتراف کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے واشنگٹن نے مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p>سابق امریکی حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز، جو پہلے عالمی تیل کا تقریباً 25 فیصد اور ایل این جی کا 20 فیصد منتقل کرتی تھی، اب عملی طور پر بند ہو چکی ہے جس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p>ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور صنعتی سرگرمیوں میں کمی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ بعض ایرانی ذرائع کے مطابق تہران ایک ابتدائی معاہدے کی کوشش کر رہا ہے جس کے تحت ہرمز کو محدود ایرانی نگرانی میں دوبارہ کھولا جائے، جبکہ امریکا مکمل اور غیر مشروط بحالی کا مطالبہ کر رہا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تنازع کا حل فوجی نہیں بلکہ صرف مذاکرات ہیں، کیونکہ کوئی بھی فریق مکمل پسپائی پر آمادہ نہیں اور صورتحال مسلسل کشیدگی کے ساتھ ایک طویل بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286474</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 13:21:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/19113226a457d4f.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/19113226a457d4f.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
