<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:00:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:00:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خلیجی ممالک پر انحصار، ترسیلاتِ زر کے مستقبل پر خدشات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286473/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار ملک میں ترسیلاتِ زر کے رجحان کی ایک ملی جلی تصویر پیش کرتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مالی سال 2026 کے پہلے 10 مہینوں کے دوران ترسیلاتِ زر کی آمد بڑھ کر 33.86 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 31.2 ارب امریکی ڈالر تھی، تاہم ماہانہ بنیادوں پر یہ رجحان کچھ کمی (کمی یا اعتدال) کی طرف اشارہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل کے دوران ترسیلاتِ زر 3.54 ارب امریکی ڈالر رہیں جو سالانہ بنیادوں پر تو 11.4 فیصد زیادہ ہیں، لیکن مارچ میں ریکارڈ کیے گئے 3.83 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر آٹھ فیصد کم ہیں۔ تاہم اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات ان ترسیلاتِ زر کی آمد کا کسی ایک مخصوص جغرافیائی خطے پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی معیشتوں نے مجموعی طور پر رواں مالی سال میں اب تک پاکستان کو لگ بھگ 18 ارب امریکی ڈالر بھیجے ہیں، جو ملک کو موصول ہونے والی کل ترسیلاتِ زر کے نصف سے بھی زائد بنتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کی یہ لائف لائن کس حد تک خلیجی خطے کی معاشی تقدیر سے جڑی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی ایک جغرافیائی خطے پر اس قدر زیادہ انحصار نسبتاً مستحکم حالات میں بھی فطری طور پر خطرناک ہوتا ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور کشیدگی کے ماحول میں یہ پاکستان کو بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں مزید غیر محفوظ بنا دیتا ہے۔ ایران کے خلاف جاری امریکی۔اسرائیلی جنگ نے پہلے ہی خلیجی تعاون کونسل کی معیشتوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے اور اس کے منفی اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ممالک آبنائے ہرمز  کی بندش سے جڑے سپلائی کے تعطل کے انتہائی نقصان دہ نتائج کا سامنا کررہے ہیں جس نے ان معیشتوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے تیل اور گیس کے شعبوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ مزید برآں اس جنگ نے علاقائی معیشت کے دیگر اہم ستونوں، جیسے کہ سیاحت اور مالیاتی خدمات (فنانشل سروسز) کو بھی متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات بالکل قابلِ فہم ہے کہ پورے خطے میں کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے لیے خطرات پیدا ہوں گے جو آگے چل کر پاکستان کو ترسیلاتِ زر کی منتقلی میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ درحقیقت خلیج پر پاکستان کا انحصار صرف ترسیلاتِ زر تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایندھن کی درآمدات اور بیرونی فنانسنگ (امدادی و تلافیاتی سرمائے) تک بھی پھیلا ہوا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کشیدگی میں کسی بھی قسم کا مزید اضافہ بیک وقت کئی محاذوں پر معاشی دباؤ کو تیز کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مارچ کے بعد سے ترسیلاتِ زر میں حالیہ ماہانہ کمی کو ایک مستقل ساختی تبدیلی (سٹرکچرل شفٹ) قرار دینا ابھی قبل از وقت ہے، تاہم یہ رجحان قریبی توجہ کا متقاضی ہے۔ پالیسی سازوں کو اس امکان کے تئیں ہر لمحہ ہوشیار رہنا ہوگا کہ بگڑتے ہوئے علاقائی معاشی حالات ترسیلاتِ زر پر مستقل دباؤ ڈال سکتے ہیں، جو کہ ملک میں قرض کے بغیر آنے والا زرمبادلہ کا سب سے بڑا بیرونی ذریعہ ہے اور جو گھریلو اخراجات کو سہارا دینے اور زرمبادلہ  ذخائر کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی فوری مالیاتی افادیت سے ہٹ کر یہ ترسیلاتِ زر معاشی دباؤ کے ادوار میں کمزور اور غریب طبقات کو ایک اہم بفر بھی فراہم کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان کا استحکام میکرو اکنامک لچک کے لیے ایک اہم سہارا بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قلیل مدت میں اس غیر مستحکم دور کے دوران خلیج سے آنے والی ترسیلاتِ زر پر پاکستان کے حد سے زیادہ انحصار کا پالیسی جاتی حل، بڑے پیمانے پر شرحِ تبادلہ (ایکسچینج ریٹ) کے استحکام کو برقرار رکھنے، زرمبادلہ کے محتاط انتظام اور ترسیلاتِ زر کے لیگل چینلز کو مزید آسان بنانے پر منحصر ہے تاکہ اس سرمائے کو غیر قانونی یا غیر رسمی طریقوں (جیسے ہنڈی/حوالہ) کی طرف منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم طویل المدتی تناظر میں یہ چیلنج ساختی نوعیت کا ہے۔ ترسیلاتِ زر کے ذرائع میں تنوع لانے کی واضح ضرورت ہے جس کے لیے لیبر مارکیٹ کی حکمتِ عملی میں ایک دانستہ تبدیلی لانا ہوگی۔ اس حکمتِ عملی کی بنیاد افرادی قوت کی مہارتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنےپر ہونی چاہیے تاکہ مغربی منڈیوں میں زیادہ مالیت اور بہتر معاوضے والے روزگار کے مواقع تک رسائی حاصل کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، چونکہ عالمی لیبر مارکیٹیں تیزی سے سخت اور محدود ہوتی جا رہی ہیں، اس لیے صرف افرادی قوت کی بیرونِ ملک ہجرت پر انحصار کرنا کوئی پائیدار حل ثابت ہونے کا امکان نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک زیادہ پائیدار راستہ یہ ہے کہ ملکی برآمدات کے حجم میں اضافہ کر کے اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر کے ترسیلاتِ زر پر انحصار کم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے معیشت کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا اور ملک کے اندر ہی روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے والی مستقل معاشی ترقی کی استعداد کو مضبوط بنانا ہوگا، یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو ناگزیر طور پر دور رس معاشی اصلاحات اور تنظیمِ نو کا تقاضا کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالآخر پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملکی پیداواری صلاحیت محدود رہنے کی صورت میں اپنے بیرونی کھاتے کو سہارا دینے کے لیے افرادی قوت کی برآمد پر اس حد تک زیادہ انحصار کرناجیسا کہ پاکستان کر رہا ہے طویل مدت کے لیے کوئی قابلِ عمل ماڈل نہیں ہے۔ ان کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے گہری اور مستقل معاشی اصلاحات کا راستہ اپنانے کے سوا کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار ملک میں ترسیلاتِ زر کے رجحان کی ایک ملی جلی تصویر پیش کرتے ہیں۔</strong></p>
<p>اگرچہ مالی سال 2026 کے پہلے 10 مہینوں کے دوران ترسیلاتِ زر کی آمد بڑھ کر 33.86 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 31.2 ارب امریکی ڈالر تھی، تاہم ماہانہ بنیادوں پر یہ رجحان کچھ کمی (کمی یا اعتدال) کی طرف اشارہ کرتا ہے۔</p>
<p>اپریل کے دوران ترسیلاتِ زر 3.54 ارب امریکی ڈالر رہیں جو سالانہ بنیادوں پر تو 11.4 فیصد زیادہ ہیں، لیکن مارچ میں ریکارڈ کیے گئے 3.83 ارب امریکی ڈالر کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر آٹھ فیصد کم ہیں۔ تاہم اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات ان ترسیلاتِ زر کی آمد کا کسی ایک مخصوص جغرافیائی خطے پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔</p>
<p>اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی معیشتوں نے مجموعی طور پر رواں مالی سال میں اب تک پاکستان کو لگ بھگ 18 ارب امریکی ڈالر بھیجے ہیں، جو ملک کو موصول ہونے والی کل ترسیلاتِ زر کے نصف سے بھی زائد بنتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کی یہ لائف لائن کس حد تک خلیجی خطے کی معاشی تقدیر سے جڑی ہوئی ہے۔</p>
<p>کسی ایک جغرافیائی خطے پر اس قدر زیادہ انحصار نسبتاً مستحکم حالات میں بھی فطری طور پر خطرناک ہوتا ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور کشیدگی کے ماحول میں یہ پاکستان کو بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں مزید غیر محفوظ بنا دیتا ہے۔ ایران کے خلاف جاری امریکی۔اسرائیلی جنگ نے پہلے ہی خلیجی تعاون کونسل کی معیشتوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے اور اس کے منفی اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>خلیجی ممالک آبنائے ہرمز  کی بندش سے جڑے سپلائی کے تعطل کے انتہائی نقصان دہ نتائج کا سامنا کررہے ہیں جس نے ان معیشتوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے تیل اور گیس کے شعبوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ مزید برآں اس جنگ نے علاقائی معیشت کے دیگر اہم ستونوں، جیسے کہ سیاحت اور مالیاتی خدمات (فنانشل سروسز) کو بھی متاثر کیا ہے۔</p>
<p>اس پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات بالکل قابلِ فہم ہے کہ پورے خطے میں کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے لیے خطرات پیدا ہوں گے جو آگے چل کر پاکستان کو ترسیلاتِ زر کی منتقلی میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ درحقیقت خلیج پر پاکستان کا انحصار صرف ترسیلاتِ زر تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایندھن کی درآمدات اور بیرونی فنانسنگ (امدادی و تلافیاتی سرمائے) تک بھی پھیلا ہوا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کشیدگی میں کسی بھی قسم کا مزید اضافہ بیک وقت کئی محاذوں پر معاشی دباؤ کو تیز کرسکتا ہے۔</p>
<p>اگرچہ مارچ کے بعد سے ترسیلاتِ زر میں حالیہ ماہانہ کمی کو ایک مستقل ساختی تبدیلی (سٹرکچرل شفٹ) قرار دینا ابھی قبل از وقت ہے، تاہم یہ رجحان قریبی توجہ کا متقاضی ہے۔ پالیسی سازوں کو اس امکان کے تئیں ہر لمحہ ہوشیار رہنا ہوگا کہ بگڑتے ہوئے علاقائی معاشی حالات ترسیلاتِ زر پر مستقل دباؤ ڈال سکتے ہیں، جو کہ ملک میں قرض کے بغیر آنے والا زرمبادلہ کا سب سے بڑا بیرونی ذریعہ ہے اور جو گھریلو اخراجات کو سہارا دینے اور زرمبادلہ  ذخائر کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔</p>
<p>اپنی فوری مالیاتی افادیت سے ہٹ کر یہ ترسیلاتِ زر معاشی دباؤ کے ادوار میں کمزور اور غریب طبقات کو ایک اہم بفر بھی فراہم کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان کا استحکام میکرو اکنامک لچک کے لیے ایک اہم سہارا بن جاتا ہے۔</p>
<p>قلیل مدت میں اس غیر مستحکم دور کے دوران خلیج سے آنے والی ترسیلاتِ زر پر پاکستان کے حد سے زیادہ انحصار کا پالیسی جاتی حل، بڑے پیمانے پر شرحِ تبادلہ (ایکسچینج ریٹ) کے استحکام کو برقرار رکھنے، زرمبادلہ کے محتاط انتظام اور ترسیلاتِ زر کے لیگل چینلز کو مزید آسان بنانے پر منحصر ہے تاکہ اس سرمائے کو غیر قانونی یا غیر رسمی طریقوں (جیسے ہنڈی/حوالہ) کی طرف منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔</p>
<p>تاہم طویل المدتی تناظر میں یہ چیلنج ساختی نوعیت کا ہے۔ ترسیلاتِ زر کے ذرائع میں تنوع لانے کی واضح ضرورت ہے جس کے لیے لیبر مارکیٹ کی حکمتِ عملی میں ایک دانستہ تبدیلی لانا ہوگی۔ اس حکمتِ عملی کی بنیاد افرادی قوت کی مہارتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنےپر ہونی چاہیے تاکہ مغربی منڈیوں میں زیادہ مالیت اور بہتر معاوضے والے روزگار کے مواقع تک رسائی حاصل کی جا سکے۔</p>
<p>تاہم، چونکہ عالمی لیبر مارکیٹیں تیزی سے سخت اور محدود ہوتی جا رہی ہیں، اس لیے صرف افرادی قوت کی بیرونِ ملک ہجرت پر انحصار کرنا کوئی پائیدار حل ثابت ہونے کا امکان نہیں ہے۔</p>
<p>ایک زیادہ پائیدار راستہ یہ ہے کہ ملکی برآمدات کے حجم میں اضافہ کر کے اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر کے ترسیلاتِ زر پر انحصار کم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے معیشت کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانا اور ملک کے اندر ہی روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے والی مستقل معاشی ترقی کی استعداد کو مضبوط بنانا ہوگا، یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جو ناگزیر طور پر دور رس معاشی اصلاحات اور تنظیمِ نو کا تقاضا کرتی ہے۔</p>
<p>بالآخر پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ملکی پیداواری صلاحیت محدود رہنے کی صورت میں اپنے بیرونی کھاتے کو سہارا دینے کے لیے افرادی قوت کی برآمد پر اس حد تک زیادہ انحصار کرناجیسا کہ پاکستان کر رہا ہے طویل مدت کے لیے کوئی قابلِ عمل ماڈل نہیں ہے۔ ان کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے گہری اور مستقل معاشی اصلاحات کا راستہ اپنانے کے سوا کوئی دوسرا متبادل موجود نہیں ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286473</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 13:54:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/19112854d8b8fc6.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/19112854d8b8fc6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
