<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایران تناؤ کم ہونے پر اسٹاک ایکسچینج میں خریداروں کی واپسی، انڈیکس 1100 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286471/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کا رجحان واپس لوٹ آیا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملہ روکنے کے فیصلے کے بعد سرمایہ کاروں نے اطمینان کا سانس لیا جس کے نتیجے میں منگل کو کاروبار کے دوران ہی بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1100 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ ہوا، جہاں ابتدائی کاروباری گھنٹوں کے دوران انڈیکس تیزی سے 164,000 کی سطح سے اوپر نکل گیا۔ سیشن کے پہلے ہاف میں یہ مثبت تسلسل مضبوط رہا، جس نے انڈیکس کو 164,309.64 کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ابتدائی تیزی کے فوراً بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی وصولی کا رجحان سامنے آیا، جس نے دوپہر کے کاروبار کے دوران بینچ مارک انڈیکس کو تیزی سے نیچے دھکیل دیا۔ دوپہر کے اوائل میں انڈیکس گر کر 162,563.58 کی کم ترین سطح پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,091.66 پوائنٹس یا 0.67 فیصد اضافے کے ساتھ 162,896.68 پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتری کیپیٹل نے اپنے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ یہ خریداری مثبت خبروں کے ایک غیر معمولی اور شاندار تسلسل کا نتیجہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی میں پیش کی جانے والی امن تجویز کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو باضابطہ طور پر روک دیا ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت نے بلاک چین کے ذریعے خودمختار بانڈزکو ٹوکن میں تبدیل کرنے کے ایک مستقبل پسندانہ اقدام کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کی زد میں رہی کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں کسی نمایاں پیش رفت کی عدم موجودگی، مسلسل جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال اور عالمی سطح پر خام تیل کی اونچی قیمتوں کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اکھاڑ پچھاڑ دیکھی گئی۔گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 3,791.05 پوائنٹس یا 2.29 فیصد کی کمی سے161,805.02 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی حصص کے بازاروں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جبکہ شدید مندی کے بعد بانڈز کی پوزیشن مستحکم ہوئی۔ یہ تبدیلی ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملہ روکنے کے فیصلے اور ان کے اس دعوے کے بعد آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایٹمی معاہدے کے قوی امکانات موجود ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ انہوں نے تہران کی جانب سے واشنگٹن کو ایک نئی امن تجویز بھیجے جانے کے بعد جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی خاطر ایران کے خلاف مجوزہ حملہ روک دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بعد ازاں کہا کہ اس بات کا بہت اچھا امکان موجود ہے کہ امریکہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود گزشتہ سیشن کے دوران متحدہ عرب امارات میں ہفتہ وار تعطیلات پر ہونے والے ڈرون حملے سے سہمے ہوئے سرمایہ کار اب بھی محتاط نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے بیانات کے بعد برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2 فیصد سے زائد کی کمی کے ساتھ 109.41 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ امریکی خام تیل 1.3 فیصد گراوٹ کے ساتھ 107.25 ڈالر فی بیرل پر رہا، اگرچہ یہ دونوں قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے 50 فیصد سے زیادہ اوپر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص کے بازاروں میں جاپان کے علاوہ ایشیا بحر الکاہل کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.22 فیصد گر گیا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 1 فیصد بڑھ گیا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی 2 فیصد نیچے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نسڈیک فیوچرز اپنے ابتدائی فوائد گنوا کر 0.07 فیصد خسارے کے ساتھ ٹریڈ کرنے لگے جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.03 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ یورپ میں، یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز اور ڈیکس فیوچرز بالترتیب 0.3 فیصد اور 0.4 فیصد اوپر چلے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مستحکم ہوا اور اس کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کی بہتری کے ساتھ 278.57 پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئرز انڈیکس پر کاروباری حجم پچھلے سیشن کے 499.79 ملین شیئرز سے کم ہو کر 391.93 ملین شیئرز رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم شیئرز کی مالیت گزشتہ سیشن کے 19.44 ارب روپے سے بڑھ کر 22.97 ارب روپے تک پہنچ گئی۔سینرجیکو پی کے 23.94 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرفہرست رہی، جس کے بعد  اینگرو ہولڈنگز 22.94 ملین شیئرز اور  بینک آف پنجاب 19.06 ملین شیئرز کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کے روز مجموعی طور پر 480 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 262 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 171 میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 47 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم  رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/1917572934fd593.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/1917572934fd593.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کا رجحان واپس لوٹ آیا ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملہ روکنے کے فیصلے کے بعد سرمایہ کاروں نے اطمینان کا سانس لیا جس کے نتیجے میں منگل کو کاروبار کے دوران ہی بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1100 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔</strong></p>
<p>مارکیٹ کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ ہوا، جہاں ابتدائی کاروباری گھنٹوں کے دوران انڈیکس تیزی سے 164,000 کی سطح سے اوپر نکل گیا۔ سیشن کے پہلے ہاف میں یہ مثبت تسلسل مضبوط رہا، جس نے انڈیکس کو 164,309.64 کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا۔</p>
<p>تاہم ابتدائی تیزی کے فوراً بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کی وصولی کا رجحان سامنے آیا، جس نے دوپہر کے کاروبار کے دوران بینچ مارک انڈیکس کو تیزی سے نیچے دھکیل دیا۔ دوپہر کے اوائل میں انڈیکس گر کر 162,563.58 کی کم ترین سطح پر آگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,091.66 پوائنٹس یا 0.67 فیصد اضافے کے ساتھ 162,896.68 پر بند ہوا۔</p>
<p>بہتری کیپیٹل نے اپنے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ یہ خریداری مثبت خبروں کے ایک غیر معمولی اور شاندار تسلسل کا نتیجہ تھی۔</p>
<p>نوٹ میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی میں پیش کی جانے والی امن تجویز کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو باضابطہ طور پر روک دیا ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت نے بلاک چین کے ذریعے خودمختار بانڈزکو ٹوکن میں تبدیل کرنے کے ایک مستقبل پسندانہ اقدام کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کی زد میں رہی کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں کسی نمایاں پیش رفت کی عدم موجودگی، مسلسل جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال اور عالمی سطح پر خام تیل کی اونچی قیمتوں کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اکھاڑ پچھاڑ دیکھی گئی۔گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 3,791.05 پوائنٹس یا 2.29 فیصد کی کمی سے161,805.02 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی حصص کے بازاروں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا جبکہ شدید مندی کے بعد بانڈز کی پوزیشن مستحکم ہوئی۔ یہ تبدیلی ٹرمپ کی جانب سے ایران پر مجوزہ حملہ روکنے کے فیصلے اور ان کے اس دعوے کے بعد آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایٹمی معاہدے کے قوی امکانات موجود ہیں، جس کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ انہوں نے تہران کی جانب سے واشنگٹن کو ایک نئی امن تجویز بھیجے جانے کے بعد جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی خاطر ایران کے خلاف مجوزہ حملہ روک دیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بعد ازاں کہا کہ اس بات کا بہت اچھا امکان موجود ہے کہ امریکہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے ایران کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچ جائے۔</p>
<p>اس کے باوجود گزشتہ سیشن کے دوران متحدہ عرب امارات میں ہفتہ وار تعطیلات پر ہونے والے ڈرون حملے سے سہمے ہوئے سرمایہ کار اب بھی محتاط نظر آئے۔</p>
<p>ٹرمپ کے بیانات کے بعد برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2 فیصد سے زائد کی کمی کے ساتھ 109.41 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ امریکی خام تیل 1.3 فیصد گراوٹ کے ساتھ 107.25 ڈالر فی بیرل پر رہا، اگرچہ یہ دونوں قیمتیں اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے 50 فیصد سے زیادہ اوپر ہیں۔</p>
<p>حصص کے بازاروں میں جاپان کے علاوہ ایشیا بحر الکاہل کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 0.22 فیصد گر گیا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس 1 فیصد بڑھ گیا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی 2 فیصد نیچے آیا۔</p>
<p>نسڈیک فیوچرز اپنے ابتدائی فوائد گنوا کر 0.07 فیصد خسارے کے ساتھ ٹریڈ کرنے لگے جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.03 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ یورپ میں، یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز اور ڈیکس فیوچرز بالترتیب 0.3 فیصد اور 0.4 فیصد اوپر چلے گئے۔</p>
<p>دوسری جانب منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ مستحکم ہوا اور اس کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کی بہتری کے ساتھ 278.57 پر بند ہوئی۔</p>
<p>آل شیئرز انڈیکس پر کاروباری حجم پچھلے سیشن کے 499.79 ملین شیئرز سے کم ہو کر 391.93 ملین شیئرز رہ گیا۔</p>
<p>تاہم شیئرز کی مالیت گزشتہ سیشن کے 19.44 ارب روپے سے بڑھ کر 22.97 ارب روپے تک پہنچ گئی۔سینرجیکو پی کے 23.94 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سرفہرست رہی، جس کے بعد  اینگرو ہولڈنگز 22.94 ملین شیئرز اور  بینک آف پنجاب 19.06 ملین شیئرز کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔</p>
<p>منگل کے روز مجموعی طور پر 480 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 262 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 171 میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 47 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم  رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/1917572934fd593.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/05/1917572934fd593.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286471</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 18:48:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/1911102070d3283.webp" type="image/webp" medium="image" height="651" width="1156">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/1911102070d3283.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
