<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:33:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:33:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا ایران پر حملہ مؤخر کرنے کا اعلان، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286461/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی عالمی قیمتوں میں منگل کے روز ایشیائی ٹریڈنگ کے آغاز میں 2 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان تھا کہ انہوں نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ عارضی طور پر روک دیا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کا موقع دیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز (جولائی ڈلیوری) 3.01 ڈالر یا 2.7 فیصد کمی کے ساتھ 109.09 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ (جون ڈلیوری) 1.38 ڈالر یا 1.3 فیصد کمی کے بعد 107.28 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل دونوں بینچ مارکس نے گزشتہ سیشن میں 5 مئی اور 30 اپریل کے بعد اپنی بلند ترین سطحیں چھوئی تھیں۔ جون کا ڈبلیو ٹی آئی کنٹریکٹ منگل کو ایکسپائر ہو رہا ہے، جبکہ زیادہ سرگرم جولائی کنٹریکٹ 2.06 ڈالر یا 2 فیصد کمی کے ساتھ 102.32 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ امریکا کے پاس ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کا بہت اچھا موقع ہے تاکہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے، یہ بیان انہوں نے فوجی کارروائی روکنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹِم واٹرر نے کہا کہ اگرچہ ٹرمپ کے اشارے سے فوری دباؤ میں کمی آئی ہے، لیکن بنیادی خطرات اب بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق مارکیٹ یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا یہ بیان حقیقی کشیدگی میں کمی کی طرف پیش رفت ہے یا صرف ایک عارضی حکمت عملی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا ردعمل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت عالمی منڈی کے لیے اہم عوامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جو عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد حصے کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، جس سے سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ تہران کا مؤقف پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیا ہے، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ ایک پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ اسلام آباد نے دونوں فریقین کے درمیان ایک نئی تجویز کا تبادلہ کیا ہے، تاہم پیش رفت سست ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران ایرانی تیل برآمدات پر پابندیاں نرم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم امریکی حکام نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب امریکی خزانہ سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے 30 روز کیلئے روسی تیل کی خریداری کے لیے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے تاکہ توانائی کے لحاظ سے کمزور ممالک کو سہولت دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو سے گزشتہ ہفتے 9.9 ملین بیرل کی ریکارڈ کمی ہوئی، جس کے بعد ذخائر تقریباً 374 ملین بیرل رہ گئے ہیں، جو جولائی 2024 کے بعد کم ترین سطح ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا ہے کہ تجارتی تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور جنگ اور شپنگ میں رکاوٹوں کے باعث صرف چند ہفتوں کی سپلائی باقی رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>تیل کی عالمی قیمتوں میں منگل کے روز ایشیائی ٹریڈنگ کے آغاز میں 2 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان تھا کہ انہوں نے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ عارضی طور پر روک دیا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے مذاکرات کا موقع دیا جا سکے۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز (جولائی ڈلیوری) 3.01 ڈالر یا 2.7 فیصد کمی کے ساتھ 109.09 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ (جون ڈلیوری) 1.38 ڈالر یا 1.3 فیصد کمی کے بعد 107.28 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔</p>
<p>اس سے قبل دونوں بینچ مارکس نے گزشتہ سیشن میں 5 مئی اور 30 اپریل کے بعد اپنی بلند ترین سطحیں چھوئی تھیں۔ جون کا ڈبلیو ٹی آئی کنٹریکٹ منگل کو ایکسپائر ہو رہا ہے، جبکہ زیادہ سرگرم جولائی کنٹریکٹ 2.06 ڈالر یا 2 فیصد کمی کے ساتھ 102.32 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا تھا کہ امریکا کے پاس ایران کے ساتھ معاہدہ کرنے کا بہت اچھا موقع ہے تاکہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جا سکے، یہ بیان انہوں نے فوجی کارروائی روکنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد دیا۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹِم واٹرر نے کہا کہ اگرچہ ٹرمپ کے اشارے سے فوری دباؤ میں کمی آئی ہے، لیکن بنیادی خطرات اب بھی موجود ہیں۔ ان کے مطابق مارکیٹ یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا یہ بیان حقیقی کشیدگی میں کمی کی طرف پیش رفت ہے یا صرف ایک عارضی حکمت عملی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا ردعمل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت عالمی منڈی کے لیے اہم عوامل ہوں گے۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جو عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد حصے کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، جس سے سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ تہران کا مؤقف پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیا ہے، تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ ایک پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ اسلام آباد نے دونوں فریقین کے درمیان ایک نئی تجویز کا تبادلہ کیا ہے، تاہم پیش رفت سست ہے۔</p>
<p>اسی دوران ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران ایرانی تیل برآمدات پر پابندیاں نرم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، تاہم امریکی حکام نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب امریکی خزانہ سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے 30 روز کیلئے روسی تیل کی خریداری کے لیے پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے تاکہ توانائی کے لحاظ سے کمزور ممالک کو سہولت دی جا سکے۔</p>
<p>امریکا میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو سے گزشتہ ہفتے 9.9 ملین بیرل کی ریکارڈ کمی ہوئی، جس کے بعد ذخائر تقریباً 374 ملین بیرل رہ گئے ہیں، جو جولائی 2024 کے بعد کم ترین سطح ہے۔</p>
<p>انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے کہا ہے کہ تجارتی تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور جنگ اور شپنگ میں رکاوٹوں کے باعث صرف چند ہفتوں کی سپلائی باقی رہ گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286461</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 09:24:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/1909223063cdeaa.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/1909223063cdeaa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
