<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:58:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:58:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ جنگ طویل ہونے پر پاکستان سب سے زیادہ خطرے سے دوچار معیشت قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286459/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کو طویل مشرقِ وسطیٰ جنگی صورتحال کے تناظر میں سب سے زیادہ میکرو فنانشل دباؤ کے خطرے سے دوچار معیشت قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جائزہ ایشیا پیسیفک (اے پی اے سی) کی بڑی معیشتوں کے تازہ ترین تجزیے کا حصہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2027 میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی نمو کم ہو کر 3.2 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ خطرات کا توازن منفی سمت میں جھکا ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جائزے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ خلیجی ممالک سے خام تیل کی سپلائی پر پاکستان کا تقریباً مکمل انحصار، خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک سے کارکنوں کی ترسیلات زر پر بھاری انحصار، بڑے بیرونی مالیاتی تقاضے، اور محدود مالی گنجائش ایسے عوامل ہیں جو علاقائی عدم استحکام کے اثرات کو مزید شدید بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے پرنسپل اکنامسٹ احمد مبین نے کہا کہ بڑی ایشیا پیسیفک معیشتوں کے ہمارے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ طویل مشرقِ وسطیٰ جنگی جھٹکے کے نتیجے میں پاکستان کو سب سے زیادہ شدید اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ ملک کا درآمدی توانائی اور صنعتی خام مال کے لیے خطے پر بہت زیادہ انحصار ہے، جبکہ بیرونی اور مالیاتی بفرز میں بہتری کے باوجود وہ اب بھی محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی بلند قیمتیں کرنٹ اکاؤنٹ میں حالیہ بہتری کو ختم کر سکتی ہیں، روپے پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں، اور مہنگائی کو بلند سطح پر برقرار رکھ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ابتدائی پالیسی اقدامات نے عارضی طور پر سپلائی کے جھٹکے کے اثرات کم کرنے اور اس کے بوجھ کو عوام اور کاروباروں تک منتقل ہونے کی رفتار سست کرنے میں مدد دی، تاہم اگلا پالیسی مرحلہ استحکام برقرار رکھنے، معاشی نمو کی حمایت، اور موجودہ آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت مالیاتی اصلاحات جاری رکھنے کے درمیان مشکل توازن پر مشتمل ہوگا، خاص طور پر اضافی دوطرفہ اور کثیرالجہتی فنڈنگ کے بغیر حالات مشکل ہونگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعبہ جاتی سطح پر، توانائی کی بلند قیمتیں، سپلائی چین میں رکاوٹیں، اور تجارتی راستوں میں خلل مینوفیکچرنگ اور برآمدی نمو پر منفی اثر ڈالنے کی توقع ہے، جبکہ درآمدی خام مال کی لاگت میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کھاد کی قلت اور ترسیلات زر کی رفتار میں کمی کے خدشات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے براہِ راست اثرات کسانوں کی آمدنی اور زرعی پیداوار پر پڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ثانوی اثرات نجی کھپت کو محدود کر سکتے ہیں اور اس کے اثرات سروسز سیکٹر تک پھیل سکتے ہیں، جہاں ٹرانسپورٹ اور ریٹیل شعبے خاص طور پر زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی بیرونی مالیاتی صورتحال بھی چیلنجنگ قرار دی گئی ہے۔ اگرچہ سعودی ڈپازٹ، موجودہ سہولیات کے رول اوور، اور آئی ایم ایف سے منسلک کثیرالجہتی و دوطرفہ مالی معاونت کے باعث قلیل مدت میں بیرونی ذخائر میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم ری فنانسنگ کے خطرات اب بھی بلند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متحدہ عرب امارات کو حالیہ 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی مستقبل میں واجب الادا قرضوں کے حجم کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ مارکیٹ انٹیلیجنس کے مطابق 2026 سے 2030 کے دوران پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات اوسطاً تقریباً 24 ارب ڈالر سالانہ رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کو طویل مشرقِ وسطیٰ جنگی صورتحال کے تناظر میں سب سے زیادہ میکرو فنانشل دباؤ کے خطرے سے دوچار معیشت قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ جائزہ ایشیا پیسیفک (اے پی اے سی) کی بڑی معیشتوں کے تازہ ترین تجزیے کا حصہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2027 میں پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی نمو کم ہو کر 3.2 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ خطرات کا توازن منفی سمت میں جھکا ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ہے۔</p>
<p>جائزے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ خلیجی ممالک سے خام تیل کی سپلائی پر پاکستان کا تقریباً مکمل انحصار، خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک سے کارکنوں کی ترسیلات زر پر بھاری انحصار، بڑے بیرونی مالیاتی تقاضے، اور محدود مالی گنجائش ایسے عوامل ہیں جو علاقائی عدم استحکام کے اثرات کو مزید شدید بناتے ہیں۔</p>
<p>ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلیجنس کے پرنسپل اکنامسٹ احمد مبین نے کہا کہ بڑی ایشیا پیسیفک معیشتوں کے ہمارے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ طویل مشرقِ وسطیٰ جنگی جھٹکے کے نتیجے میں پاکستان کو سب سے زیادہ شدید اثرات کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ ملک کا درآمدی توانائی اور صنعتی خام مال کے لیے خطے پر بہت زیادہ انحصار ہے، جبکہ بیرونی اور مالیاتی بفرز میں بہتری کے باوجود وہ اب بھی محدود ہیں۔</p>
<p>توانائی کی بلند قیمتیں کرنٹ اکاؤنٹ میں حالیہ بہتری کو ختم کر سکتی ہیں، روپے پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں، اور مہنگائی کو بلند سطح پر برقرار رکھ سکتی ہیں۔</p>
<p>اگرچہ ابتدائی پالیسی اقدامات نے عارضی طور پر سپلائی کے جھٹکے کے اثرات کم کرنے اور اس کے بوجھ کو عوام اور کاروباروں تک منتقل ہونے کی رفتار سست کرنے میں مدد دی، تاہم اگلا پالیسی مرحلہ استحکام برقرار رکھنے، معاشی نمو کی حمایت، اور موجودہ آئی ایم ایف پروگرامز کے تحت مالیاتی اصلاحات جاری رکھنے کے درمیان مشکل توازن پر مشتمل ہوگا، خاص طور پر اضافی دوطرفہ اور کثیرالجہتی فنڈنگ کے بغیر حالات مشکل ہونگے۔</p>
<p>شعبہ جاتی سطح پر، توانائی کی بلند قیمتیں، سپلائی چین میں رکاوٹیں، اور تجارتی راستوں میں خلل مینوفیکچرنگ اور برآمدی نمو پر منفی اثر ڈالنے کی توقع ہے، جبکہ درآمدی خام مال کی لاگت میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔</p>
<p>رپورٹ میں کھاد کی قلت اور ترسیلات زر کی رفتار میں کمی کے خدشات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جس کے براہِ راست اثرات کسانوں کی آمدنی اور زرعی پیداوار پر پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ثانوی اثرات نجی کھپت کو محدود کر سکتے ہیں اور اس کے اثرات سروسز سیکٹر تک پھیل سکتے ہیں، جہاں ٹرانسپورٹ اور ریٹیل شعبے خاص طور پر زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ رکھتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان کی بیرونی مالیاتی صورتحال بھی چیلنجنگ قرار دی گئی ہے۔ اگرچہ سعودی ڈپازٹ، موجودہ سہولیات کے رول اوور، اور آئی ایم ایف سے منسلک کثیرالجہتی و دوطرفہ مالی معاونت کے باعث قلیل مدت میں بیرونی ذخائر میں کچھ بہتری آئی ہے، تاہم ری فنانسنگ کے خطرات اب بھی بلند ہیں۔</p>
<p>متحدہ عرب امارات کو حالیہ 3.5 ارب ڈالر کی ادائیگی مستقبل میں واجب الادا قرضوں کے حجم کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ مارکیٹ انٹیلیجنس کے مطابق 2026 سے 2030 کے دوران پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات اوسطاً تقریباً 24 ارب ڈالر سالانہ رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286459</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 09:00:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/19085800d7c2645.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/19085800d7c2645.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
