<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:19:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:19:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ نے کمزور ممالک کو ریلیف دینے کے لیے روسی بحری تیل پر پابندی سے استثنیٰ میں توسیع کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286457/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی محکمۂ خزانہ روسی سمندری تیل کی خریداری کی اجازت دینے والی پابندیوں سے استثنا کی مدت میں مزید 30 دن کی توسیع کرے گا تاکہ اُن “توانائی کے اعتبار سے کمزور” ممالک کو سہارا دیا جا سکے جو خلیجی ممالک سے تیل کی فراہمی منقطع ہونے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ بات امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کو کہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیسنٹ کے مطابق محکمۂ خزانہ 30 روزہ عمومی لائسنس جاری کر رہا ہے کیونکہ سابقہ استثنیٰ ہفتے کے روز ختم ہو گیا تھا۔ اس اقدام کے تحت ٹینکروں میں پھنسے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات تک عارضی رسائی ممکن ہو سکے گی، بغیر اس کے کہ روسی تیل کمپنیوں پر عائد سخت امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے سے باخبر ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ استثنیٰ میں دوسری مرتبہ توسیع کی درخواست غریب اور توانائی کے لحاظ سے کمزور ممالک نے کی تھی، جو ایران کے خلاف امریکا اوراسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خلیجی تیل کی ترسیل سے محروم ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ”اس توسیع سے مزید گنجائش اور سہولت میسر آئے گی، اور ہم ضرورت پڑنے پر ان ممالک کو مخصوص لائسنس جاری کرنے کے لیے ان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SecScottBessent/status/2056411947982115207'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SecScottBessent/status/2056411947982115207"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;بیسنٹ نے کہا، ”یہ عمومی لائسنس خام تیل کی حقیقی منڈی کو مستحکم رکھنے میں مدد دے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تیل اُن ممالک تک پہنچے جو توانائی کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے موجودہ سپلائی اُن ممالک کی جانب موڑنے میں مدد ملے گی جو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، تاکہ وہ پہلے سے پابندیوں کی زد میں آنے والے تیل کے حصول کے لیے چین کا مقابلہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دوسرا موقع ہے کہ امریکی محکمۂ خزانہ نے اس پابندی سے استثنا کی مدت ختم ہونے دی اور پھر بعد میں اس میں توسیع کی۔ یہ استثنا پہلی بار مارچ میں جاری کیا گیا تھا تاکہ ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملوں کے باعث پیدا ہونے والی تیل کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کیے جا سکیں۔ اس مقصد کے لیے ٹینکروں میں رکے ہوئے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کو منڈی میں لانے کی اجازت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ان استثناؤں سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی نہیں آئی، تاہم اس سے بھارت کو فائدہ پہنچا، جو روسی تیل کی بڑی خریدار ریاستوں میں شامل تھا، اس سے پہلے کہ امریکہ روسی تیل کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد کرتا تاکہ یوکرین جنگ کے معاملے پر ماسکو پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کے سودے تقریباً ڈیڑھ فیصد اضافے کے بعد فی بیرل تقریباً 111 ڈالر تک پہنچ گئے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش کے باعث رسد میں شدید کمی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، جب ایک ایرانی خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا کہ امریکہ امن مذاکرات کے دوران ایرانی تیل پر عائد پابندیاں عارضی طور پر نرم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم بعد میں سی این بی سی نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے اس خبر کو غلط قرار دیا۔ رائٹرز اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروپ آف سیون کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے پیرس میں موجود بیسنٹ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جی سیون اور دیگر اتحادی ایران پر عائد پابندیوں پر زیادہ سختی سے عمل درآمد کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ”ہم اپنے تمام جی سیون شراکت داروں، بلکہ دنیا بھر کے تمام اتحادیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پابندیوں کے نظام پر مکمل عمل کریں تاکہ ہم اُس غیرقانونی مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کر سکیں جو ایرانی جنگی مشینری کو ایندھن فراہم کر رہا ہے، اور یہ رقم ایرانی عوام کو واپس مل سکے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی محکمۂ خزانہ روسی سمندری تیل کی خریداری کی اجازت دینے والی پابندیوں سے استثنا کی مدت میں مزید 30 دن کی توسیع کرے گا تاکہ اُن “توانائی کے اعتبار سے کمزور” ممالک کو سہارا دیا جا سکے جو خلیجی ممالک سے تیل کی فراہمی منقطع ہونے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ بات امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کو کہی ہے۔</strong></p>
<p>بیسنٹ کے مطابق محکمۂ خزانہ 30 روزہ عمومی لائسنس جاری کر رہا ہے کیونکہ سابقہ استثنیٰ ہفتے کے روز ختم ہو گیا تھا۔ اس اقدام کے تحت ٹینکروں میں پھنسے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات تک عارضی رسائی ممکن ہو سکے گی، بغیر اس کے کہ روسی تیل کمپنیوں پر عائد سخت امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ہو۔</p>
<p>فیصلے سے باخبر ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ استثنیٰ میں دوسری مرتبہ توسیع کی درخواست غریب اور توانائی کے لحاظ سے کمزور ممالک نے کی تھی، جو ایران کے خلاف امریکا اوراسرائیل کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث خلیجی تیل کی ترسیل سے محروم ہو گئے ہیں۔</p>
<p>بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ”اس توسیع سے مزید گنجائش اور سہولت میسر آئے گی، اور ہم ضرورت پڑنے پر ان ممالک کو مخصوص لائسنس جاری کرنے کے لیے ان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/SecScottBessent/status/2056411947982115207'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SecScottBessent/status/2056411947982115207"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>بیسنٹ نے کہا، ”یہ عمومی لائسنس خام تیل کی حقیقی منڈی کو مستحکم رکھنے میں مدد دے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تیل اُن ممالک تک پہنچے جو توانائی کے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے موجودہ سپلائی اُن ممالک کی جانب موڑنے میں مدد ملے گی جو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں، تاکہ وہ پہلے سے پابندیوں کی زد میں آنے والے تیل کے حصول کے لیے چین کا مقابلہ کر سکیں۔</p>
<p>یہ دوسرا موقع ہے کہ امریکی محکمۂ خزانہ نے اس پابندی سے استثنا کی مدت ختم ہونے دی اور پھر بعد میں اس میں توسیع کی۔ یہ استثنا پہلی بار مارچ میں جاری کیا گیا تھا تاکہ ایران پر امریکی۔اسرائیلی حملوں کے باعث پیدا ہونے والی تیل کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کیے جا سکیں۔ اس مقصد کے لیے ٹینکروں میں رکے ہوئے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کو منڈی میں لانے کی اجازت دی گئی تھی۔</p>
<p>اگرچہ ان استثناؤں سے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی نہیں آئی، تاہم اس سے بھارت کو فائدہ پہنچا، جو روسی تیل کی بڑی خریدار ریاستوں میں شامل تھا، اس سے پہلے کہ امریکہ روسی تیل کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد کرتا تاکہ یوکرین جنگ کے معاملے پر ماسکو پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔</p>
<p>پیر کے روز عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کے سودے تقریباً ڈیڑھ فیصد اضافے کے بعد فی بیرل تقریباً 111 ڈالر تک پہنچ گئے، کیونکہ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش کے باعث رسد میں شدید کمی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>ابتدائی کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، جب ایک ایرانی خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا کہ امریکہ امن مذاکرات کے دوران ایرانی تیل پر عائد پابندیاں عارضی طور پر نرم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم بعد میں سی این بی سی نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے اس خبر کو غلط قرار دیا۔ رائٹرز اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔</p>
<p>گروپ آف سیون کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے پیرس میں موجود بیسنٹ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جی سیون اور دیگر اتحادی ایران پر عائد پابندیوں پر زیادہ سختی سے عمل درآمد کریں۔</p>
<p>انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ”ہم اپنے تمام جی سیون شراکت داروں، بلکہ دنیا بھر کے تمام اتحادیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پابندیوں کے نظام پر مکمل عمل کریں تاکہ ہم اُس غیرقانونی مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کر سکیں جو ایرانی جنگی مشینری کو ایندھن فراہم کر رہا ہے، اور یہ رقم ایرانی عوام کو واپس مل سکے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286457</guid>
      <pubDate>Tue, 19 May 2026 00:44:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/1900304156e26a9.webp" type="image/webp" medium="image" height="426" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/1900304156e26a9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
