<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کے ذخائر میں شدید کمی، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286453/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے خلیجی ممالک سے سپلائی معطل ہونے کے باعث تیل کے تجارتی ذخائر بہت تیزی سے کم ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ دنیا بھر کی حکومتوں کی جانب سے اپنے اسٹریٹجک ذخائر مارکیٹ میں لانے کے باوجود یہ کمی برقرار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی نصف کرہ میں گرمیوں کے سفری سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی تیل کی قلت کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ایئر لائنز نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی میں یہ خلل برقرار رہا تو چند ہفتوں میں ہوائی جہازوں کے ایندھن (جیٹ فیول) کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیرس میں جی 7  ممالک کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں آمد پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے  فاتح بیرول نے کہا کہ تجارتی ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے، میرا خیال ہے کہ اب یہ بہت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس اب بھی چند ہفتے باقی ہیں لیکن ہمیں اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے کہ یہ ذخائر تیزی سے گھٹ رہے ہیں اور یہ لامحدود نہیں ہیں جہاں سے ہمیشہ سپلائی ملتی رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے فروری کے آخر میں ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آئل ٹینکرز کی آمد و رفت کو مؤثر طریقے سے روک دیا ہے، جس نے تیل اور گیس کی سپلائی کا گلا گھونٹ دیا ہے اور قیمتیں آسمان پر پہنچا دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ای اے  نے رواں ماہ بتایا کہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی ناکامی کے باعث مختلف ممالک اپنے تجارتی اور  اسٹریٹجک  ذخائر سے  ریکارڈ رفتار سے تیل نکال رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو دھمکی دی تھی کہ  وقت تیزی سے نکل رہا ہے اور اگر اس کمزور جنگ بندی کے دوران کوئی امن معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کا  کچھ باقی نہیں بچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ای اے نے اپنے 32 رکن ممالک کے ہنگامی ذخائر سے 42 کروڑ 60 لاکھ (426 ملین) بیرل تیل مارکیٹ میں لانے کے عمل کو مربوط کیا ہے اور اس مہینے بتایا کہ تقریباً 16 کروڑ 40 لاکھ (164 ملین) بیرل تیل پہلے ہی نکالا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے خلیجی ممالک سے سپلائی معطل ہونے کے باعث تیل کے تجارتی ذخائر بہت تیزی سے کم ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ دنیا بھر کی حکومتوں کی جانب سے اپنے اسٹریٹجک ذخائر مارکیٹ میں لانے کے باوجود یہ کمی برقرار ہے۔</strong></p>
<p>شمالی نصف کرہ میں گرمیوں کے سفری سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی تیل کی قلت کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ایئر لائنز نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی میں یہ خلل برقرار رہا تو چند ہفتوں میں ہوائی جہازوں کے ایندھن (جیٹ فیول) کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔</p>
<p>پیرس میں جی 7  ممالک کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں آمد پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے  فاتح بیرول نے کہا کہ تجارتی ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے، میرا خیال ہے کہ اب یہ بہت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس اب بھی چند ہفتے باقی ہیں لیکن ہمیں اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے کہ یہ ذخائر تیزی سے گھٹ رہے ہیں اور یہ لامحدود نہیں ہیں جہاں سے ہمیشہ سپلائی ملتی رہے۔</p>
<p>ایران نے فروری کے آخر میں ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آئل ٹینکرز کی آمد و رفت کو مؤثر طریقے سے روک دیا ہے، جس نے تیل اور گیس کی سپلائی کا گلا گھونٹ دیا ہے اور قیمتیں آسمان پر پہنچا دی ہیں۔</p>
<p>آئی ای اے  نے رواں ماہ بتایا کہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی ناکامی کے باعث مختلف ممالک اپنے تجارتی اور  اسٹریٹجک  ذخائر سے  ریکارڈ رفتار سے تیل نکال رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو دھمکی دی تھی کہ  وقت تیزی سے نکل رہا ہے اور اگر اس کمزور جنگ بندی کے دوران کوئی امن معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کا  کچھ باقی نہیں بچے گا۔</p>
<p>آئی ای اے نے اپنے 32 رکن ممالک کے ہنگامی ذخائر سے 42 کروڑ 60 لاکھ (426 ملین) بیرل تیل مارکیٹ میں لانے کے عمل کو مربوط کیا ہے اور اس مہینے بتایا کہ تقریباً 16 کروڑ 40 لاکھ (164 ملین) بیرل تیل پہلے ہی نکالا جا چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286453</guid>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 19:49:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/18193932b757790.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/18193932b757790.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
