<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:29:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:29:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی نئی تبدیل شدہ تجویز امریکا کو پہنچا دی گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286452/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک پاکستانی ذریعے نے پیر کو رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے  ترمیمی تجویز امریکا کے ساتھ شیئر کی ہے، جبکہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امن مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ذریعے سے پوچھا گیا کہ کیا دونوں فریقین کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے میں وقت لگے گا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے اور مزید کہا کہ دونوں ممالک  مسلسل اپنے اہداف اور شرائط تبدیل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ تہران کا مؤقف ثالث پاکستان کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی، جو اپریل کے اوائل میں طے پائی تھی، اب وینٹی لیٹر پر ہے۔ انہوں نے یہ بات جنگ کے خاتمے کے لیے ایک امریکی تجویز پر تہران کے جواب کے بعد کہی، جس سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ دونوں فریقین اب بھی کئی امور پر ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹ بننے والے مسائل میں ایران کے ایٹمی عزائم اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول شامل ہے، جہاں ایران نے بحری جہازوں کی آمد و رفت بند کر رکھی ہے، جو عام طور پر دنیا کے پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی نقل و حمل کا راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، جہاں امریکی اتحادی اسرائیل حزب اللہ کے خلاف لڑ رہا ہے۔ تہران نے جنگ کے مستقل خاتمے سے قبل اپنے جوہری پروگرام پر کسی بھی قسم کی گفتگو کو مسترد کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران جنگی نقصانات کے معاوضے، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، مزید حملے نہ ہونے کی ضمانت اور ایرانی تیل کی فروخت کی دوبارہ بحالی کا بھی خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران تمام صورتحال (سینیریوز) کے لیے تیار ہے۔ بقائی نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں بتایا، جہاں تک ان کی دھمکیوں کا تعلق ہے تو یقین رکھیں کہ ہم اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کہ مخالف فریق کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی کا بھی مناسب جواب کیسے دینا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک پاکستانی ذریعے نے پیر کو رائٹرز کو بتایا کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے خاتمے کے لیے ایران کی جانب سے  ترمیمی تجویز امریکا کے ساتھ شیئر کی ہے، جبکہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امن مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔</strong></p>
<p>جب ذریعے سے پوچھا گیا کہ کیا دونوں فریقین کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے میں وقت لگے گا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے اور مزید کہا کہ دونوں ممالک  مسلسل اپنے اہداف اور شرائط تبدیل کر رہے ہیں۔</p>
<p>ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ تہران کا مؤقف ثالث پاکستان کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دیا گیا ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی، جو اپریل کے اوائل میں طے پائی تھی، اب وینٹی لیٹر پر ہے۔ انہوں نے یہ بات جنگ کے خاتمے کے لیے ایک امریکی تجویز پر تہران کے جواب کے بعد کہی، جس سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ دونوں فریقین اب بھی کئی امور پر ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔</p>
<p>دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹ بننے والے مسائل میں ایران کے ایٹمی عزائم اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول شامل ہے، جہاں ایران نے بحری جہازوں کی آمد و رفت بند کر رکھی ہے، جو عام طور پر دنیا کے پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی نقل و حمل کا راستہ ہے۔</p>
<p>ایران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، جہاں امریکی اتحادی اسرائیل حزب اللہ کے خلاف لڑ رہا ہے۔ تہران نے جنگ کے مستقل خاتمے سے قبل اپنے جوہری پروگرام پر کسی بھی قسم کی گفتگو کو مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p>تہران جنگی نقصانات کے معاوضے، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، مزید حملے نہ ہونے کی ضمانت اور ایرانی تیل کی فروخت کی دوبارہ بحالی کا بھی خواہاں ہے۔</p>
<p>ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران تمام صورتحال (سینیریوز) کے لیے تیار ہے۔ بقائی نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں بتایا، جہاں تک ان کی دھمکیوں کا تعلق ہے تو یقین رکھیں کہ ہم اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کہ مخالف فریق کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی کا بھی مناسب جواب کیسے دینا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286452</guid>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 19:26:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/181919345e56312.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/181919345e56312.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
