<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ کا بحران: پاکستان کو معاشی سے زیادہ سماجی خطرات کا سامنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286438/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اب مشرقِ وسطیٰ کے بحران کا دُور کھڑا تماشائی نہیں رہا، بلکہ اس کی تپش یہاں پہنچ چکی ہے۔ یہ تپش اب پیٹرول پمپوں کی لکیروں، بجلی کے ہوش رُبا بلوں اور کریانے کی دکانوں پر ہی نہیں، بلکہ سمٹتی ہوئی آمدن کو پھیلتے ہوئے اخراجات کے سانچے میں ڈھالنے کی جدوجہد کرنے والے خاندانوں کے مرچھائے ہوئے چہروں پر صاف پڑھی جا سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک کے بے شمار گھرانوں اور کاروباری اداروں کے لیے معاشی مندی اب افق پر منڈلاتا کوئی مبہم خطرہ نہیں، بلکہ ہڈیوں میں اترتی ایک تلخ اور جیتی جاگتی حقیقت بن چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام اور مارکیٹیں قدرتی طور پر ادائیگیوں کے توازن، جیسے کہ تیل کی درآمدات، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر کے بارے میں فکر مند ہیں۔ یہ چیزیں یقیناً اہمیت رکھتی ہیں لیکن عام پاکستانیوں کے لیے یہ بحران انتہائی سفاکی سے سادہ ہے ’جب اب کچھ بھی کاٹنے کو نہیں بچا تو اگلی کٹوتی کس چیز میں کی جائے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاکھوں لوگ پہلے ہی نڈھال ہو کر اس کٹھن مرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔ قیمتیں تیز رفتاری سے بڑھیں جبکہ اجرتیں منجمد رہیں۔ خاندانوں نے خوراک کا معیار گرایا، طبی علاج مؤخر کیا، بچوں کو سستے اسکولوں میں منتقل کیا، رشتہ داروں سے قرض لیا اور محلے کی دکانوں پر ادھار چلایا۔ ان کے لیے مہنگائی کوئی میکرو اکنامک (کلاں معاشی) اشاریہ نہیں ہے، بلکہ یہ خوراک، ٹرانسپورٹ، بلوں اور ادویات میں سے کسی ایک کو چننے کی روزمرہ کی تذلیل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی قیمتیں اب نظام کی ہر کمزوری کو عیاں کر رہی ہیں۔ ڈیزل کی قیمت گندم، سبزیوں اور دودھ سمیت ہر چیز کی نقل و حمل کی لاگت بڑھا دیتی ہے۔ پیٹرول روزمرہ کے سفر کو مہنگا بناتا ہے، جبکہ بجلی گھروں، دکانوں اور فیکٹریوں کو یکساں طور پر سزا دیتی ہے۔ چھوٹے کاروبار ان جھٹکوں کو ہمیشہ کے لیے برداشت نہیں کر سکتے، کچھ یہ لاگت صارفین پر منتقل کر دیتے ہیں، دوسرے کام کے گھنٹے کم اور تنخواہوں میں تاخیر کرتے ہیں یا پھر کاروبار ہی بند کر دیتے ہیں۔ اس کا بل ہمیشہ کہیں نہ کہیں تو گرتا ہے اور یہ سب سے زیادہ ان لوگوں پر گرتا ہے جو اسے برداشت کرنے کی سب سے کم سکت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک امیر گھرانہ مہنگائی کا شکوہ کرتا ہے، ایک غریب گھرانہ اپنی خوراک بدل لیتا ہے جبکہ ایک سفید پوش لوئر مڈل کلاس (زیریں متوسط) خاندان اپنی کوئی جائیداد یا اثاثہ بیچتا ہے، بچے کو ٹیوشن سے ہٹاتا ہے، ڈاکٹر کے پاس جانا مؤخر کرتا ہے یا پھر کرائے کی ادائیگی میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ مہنگائی جمہوری نہیں ہوتی، یہ رجعت پسندانہ اور ظالم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی وہ موڑ ہے جہاں یہ بحران محض معاشی نہیں بلکہ سماجی روپ دھار لیتا ہے۔ جب قیمتیں بڑھتی ہیں، ملازمتیں ختم ہوتی ہیں اور عوامی خدمات ناکام ہو جاتی ہیں تو پریشانی اور مایوسی خاموشی سے پنپنے لگتی ہے۔ غذائی قلت بڑھتی ہے، ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے، اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد بڑھتی ہے، چھوٹے موٹے جرائم سر اٹھاتے ہیں، خاندانوں میں جھگڑے بڑھتے ہیں اور نوجوانوں کا نظام سے بھروسا اٹھ جاتا ہے۔ جو چیز معاشی دباؤ کے طور پر شروع ہوتی ہے وہ آگے چل کر سیاسی اور سماجی فالٹ لائن (شگاف) بن جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا شہری لوئر مڈل کلاس طبقہ اساتذہ، کلرک، دکان دار، ڈرائیور، ٹیکنیشن اور پنشنرز کبھی اس سماجی تانے بانے کو جوڑے رکھتا تھا۔ وہ امیر نہیں تھے، لیکن وہ عزتِ نفس اور امید سے زندہ تھے۔ آج ان میں سے بہت سے تیزی سے نیچے کی طرف پھسل رہے ہیں۔ ان کی آمدنی مقررہ ہے لیکن ان کے بل مقررہ نہیں ہیں۔ ان کی بچتیں ختم ہو چکی ہیں یا شاید کبھی تھیں ہی نہیں۔ بار بار کی مہنگائی صرف قوتِ خرید کو ہی ختم نہیں کرتی، یہ اس اعتماد کو بھی خاک میں ملا دیتی ہے کہ سخت محنت کا کوئی صلہ ملتا ہے۔ معاشرے سختی تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن جب امید دم توڑ جائے تو وہ بکھرنے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ممالک کا پہلو اس خطرے کو مزید گہرا کرتا ہے۔ لاکھوں پاکستانی گھرانوں کا انحصار سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر ممالک میں کام کرنے والے مزدوروں کی بھیجی گئی ترسیلاتِ زر (ریمٹنسز) پر ہے۔ اگر علاقائی تنازع تعمیرات، لاجسٹکس، ہوا بازی یا سرمایہ کاری کی رفتار کو سست کرتا ہے تو بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کارکن اس کا براہِ راست اثر محسوس کریں گے۔ وہاں ملازمتوں کا جانا، تنخواہوں میں تاخیر یا مواقع کا کم ہونا، یہاں گھر بیٹھے خاندانوں کو عین اس وقت متاثر کرے گا جب ملک میں قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہوں گی۔ یہ صورتحال روپے کی قدر کو مزید گرائے گی، درآمدی لاگت بڑھائے گی، مہنگائی کو دوبارہ ہوا دے گی اور معاشی مندی کے اس چکر کو مزید تنگ کر دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح سود کا بلند ہونا، اگرچہ کرنسی کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے، لیکن یہ عوامی تکلیف کو بڑھاتا ہے۔ یہ تجارتی قرضوں (کریڈٹ) کا گلا گھونٹتا ہے، سرمایہ کاری کو منجمد کرتا ہے، تعمیراتی سرگرمیاں سست کرتا ہے اور کاروباروں کو ملازمتیں ختم کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مالیاتی ڈسپلن (سختی) کی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن اس سختی کے تلخ نتائج ہوتے ہیں اور وہ نتائج بند دکانوں، گھٹتی ہوئی تنخواہوں اور فکر مند گھرانوں کی صورت میں پہلے ہی سامنے نظر آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی کی غلطیاں اب تباہ کن ثابت ہوں گی۔ حقائق سے انکار یا تاخیر اب کام نہیں کرے گی۔ مالیاتی گنجائش کے بغیر بلا امتیاز سبسڈیز دینا صرف بوجھ کو ایک جیب سے دوسری جیب میں منتقل کرے گا لیکن کمزور گھرانوں کو اس جھٹکے کو اکیلے جذب کرنے کے لیے لاوارث چھوڑ دینا بھی سماجی طور پر انتہائی لاپروائی اور خطرناک عمل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ظاہری یا نمائشی اقدامات اب کوئی حل نہیں ہیں۔ پاکستان کو اب تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا، انتہائی کفایت شعاری، حکومت کے سائز اور اخراجات میں بڑے پیمانے پر کٹوتی اور نایاب توانائی کو لازمی اور پیداواری استعمال کی طرف سختی سے راشن کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ ریاست اب فضول اخراجات، ضرورت سے بڑی انتظامیہ، رسمی شاہ خرچیوں یا درآمدی ایندھن کے بے جا استعمال کی قطعاً متحمل نہیں ہو سکتی۔ بچایا گیا ہر ڈالر، کمائے گئے ایک ڈالر کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زراعت کا شعبہ اس خطرے میں ایک اور پرت کا اضافہ کرتا ہے۔ کھاد کی پیداوار کا زیادہ تر انحصار قدرتی گیس پر ہے۔ اگر گیس کی قلت بڑھتی ہے یا کھاد کے کارخانے پیداوار کم کرتے ہیں، تو کسانوں کو فصل کے چکر کے اہم مراحل پر کھاد کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کھاد کی کم دستیابی کا مطلب ہے کم پیداوار، خوراک کی زیادہ قیمتیں اور کمزور خطوں میں حقیقی غذائی قلت کا امکان۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لاکھوں لوگ پہلے ہی بنیادی خوراک کی استطاعت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں وہاں معمولی سی رکاوٹ بھی معاشی دباؤ کو انسانی بحران میں بدل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کو ایک نایاب قومی وسائل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے نہ کہ کسی استحقاق کے طور پر۔ اب اولین ترجیح خوراک کی سپلائی چین، اسپتالوں، ضروری ٹرانسپورٹ، برآمدی صنعتوں اور بنیادی عوامی خدمات کو ملنی چاہیے۔ یہ فیصلہ سیاسی طور پر انتہائی مشکل ہوگا، لیکن یہ ظاہر کرنا کہ پاکستان پہلے کی طرح معمول کے مطابق چل سکتا ہے، اس سے بھی بدتر ہے۔ الماری نہ صرف خالی ہو چکی ہے، بلکہ اب اس کے خانے بھی غائب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری صرف امپورٹڈ تیل نہیں ہے، بلکہ یہ اس معاشرے کی نزاکت ہے جہاں لاکھوں لوگ مہنگائی کے محض ایک اور جھٹکے سے مایوسی کی دلدل میں گرنے کی کٹیا پر کھڑے ہیں اور جہاں وہ جھٹکا پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی بحرانوں کو درست پالیسی، بیرونی مدد اور نظم و ضبط پر مبنی فیصلوں سے سنبھالا جا سکتا ہے لیکن جب لوگ مزید سختی برداشت کرنے کی سکت کھو دیتے ہیں تو چیلنج معاشی نہیں رہتا، وہ سماجی، سیاسی اور گہرا انسانی بحران بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اب مشرقِ وسطیٰ کے بحران کا دُور کھڑا تماشائی نہیں رہا، بلکہ اس کی تپش یہاں پہنچ چکی ہے۔ یہ تپش اب پیٹرول پمپوں کی لکیروں، بجلی کے ہوش رُبا بلوں اور کریانے کی دکانوں پر ہی نہیں، بلکہ سمٹتی ہوئی آمدن کو پھیلتے ہوئے اخراجات کے سانچے میں ڈھالنے کی جدوجہد کرنے والے خاندانوں کے مرچھائے ہوئے چہروں پر صاف پڑھی جا سکتی ہے۔</strong></p>
<p>ملک کے بے شمار گھرانوں اور کاروباری اداروں کے لیے معاشی مندی اب افق پر منڈلاتا کوئی مبہم خطرہ نہیں، بلکہ ہڈیوں میں اترتی ایک تلخ اور جیتی جاگتی حقیقت بن چکی ہے۔</p>
<p>حکام اور مارکیٹیں قدرتی طور پر ادائیگیوں کے توازن، جیسے کہ تیل کی درآمدات، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر کے بارے میں فکر مند ہیں۔ یہ چیزیں یقیناً اہمیت رکھتی ہیں لیکن عام پاکستانیوں کے لیے یہ بحران انتہائی سفاکی سے سادہ ہے ’جب اب کچھ بھی کاٹنے کو نہیں بچا تو اگلی کٹوتی کس چیز میں کی جائے؟</p>
<p>لاکھوں لوگ پہلے ہی نڈھال ہو کر اس کٹھن مرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔ قیمتیں تیز رفتاری سے بڑھیں جبکہ اجرتیں منجمد رہیں۔ خاندانوں نے خوراک کا معیار گرایا، طبی علاج مؤخر کیا، بچوں کو سستے اسکولوں میں منتقل کیا، رشتہ داروں سے قرض لیا اور محلے کی دکانوں پر ادھار چلایا۔ ان کے لیے مہنگائی کوئی میکرو اکنامک (کلاں معاشی) اشاریہ نہیں ہے، بلکہ یہ خوراک، ٹرانسپورٹ، بلوں اور ادویات میں سے کسی ایک کو چننے کی روزمرہ کی تذلیل ہے۔</p>
<p>توانائی کی قیمتیں اب نظام کی ہر کمزوری کو عیاں کر رہی ہیں۔ ڈیزل کی قیمت گندم، سبزیوں اور دودھ سمیت ہر چیز کی نقل و حمل کی لاگت بڑھا دیتی ہے۔ پیٹرول روزمرہ کے سفر کو مہنگا بناتا ہے، جبکہ بجلی گھروں، دکانوں اور فیکٹریوں کو یکساں طور پر سزا دیتی ہے۔ چھوٹے کاروبار ان جھٹکوں کو ہمیشہ کے لیے برداشت نہیں کر سکتے، کچھ یہ لاگت صارفین پر منتقل کر دیتے ہیں، دوسرے کام کے گھنٹے کم اور تنخواہوں میں تاخیر کرتے ہیں یا پھر کاروبار ہی بند کر دیتے ہیں۔ اس کا بل ہمیشہ کہیں نہ کہیں تو گرتا ہے اور یہ سب سے زیادہ ان لوگوں پر گرتا ہے جو اسے برداشت کرنے کی سب سے کم سکت رکھتے ہیں۔</p>
<p>ایک امیر گھرانہ مہنگائی کا شکوہ کرتا ہے، ایک غریب گھرانہ اپنی خوراک بدل لیتا ہے جبکہ ایک سفید پوش لوئر مڈل کلاس (زیریں متوسط) خاندان اپنی کوئی جائیداد یا اثاثہ بیچتا ہے، بچے کو ٹیوشن سے ہٹاتا ہے، ڈاکٹر کے پاس جانا مؤخر کرتا ہے یا پھر کرائے کی ادائیگی میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ مہنگائی جمہوری نہیں ہوتی، یہ رجعت پسندانہ اور ظالم ہوتی ہے۔</p>
<p>یہی وہ موڑ ہے جہاں یہ بحران محض معاشی نہیں بلکہ سماجی روپ دھار لیتا ہے۔ جب قیمتیں بڑھتی ہیں، ملازمتیں ختم ہوتی ہیں اور عوامی خدمات ناکام ہو جاتی ہیں تو پریشانی اور مایوسی خاموشی سے پنپنے لگتی ہے۔ غذائی قلت بڑھتی ہے، ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے، اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد بڑھتی ہے، چھوٹے موٹے جرائم سر اٹھاتے ہیں، خاندانوں میں جھگڑے بڑھتے ہیں اور نوجوانوں کا نظام سے بھروسا اٹھ جاتا ہے۔ جو چیز معاشی دباؤ کے طور پر شروع ہوتی ہے وہ آگے چل کر سیاسی اور سماجی فالٹ لائن (شگاف) بن جاتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کا شہری لوئر مڈل کلاس طبقہ اساتذہ، کلرک، دکان دار، ڈرائیور، ٹیکنیشن اور پنشنرز کبھی اس سماجی تانے بانے کو جوڑے رکھتا تھا۔ وہ امیر نہیں تھے، لیکن وہ عزتِ نفس اور امید سے زندہ تھے۔ آج ان میں سے بہت سے تیزی سے نیچے کی طرف پھسل رہے ہیں۔ ان کی آمدنی مقررہ ہے لیکن ان کے بل مقررہ نہیں ہیں۔ ان کی بچتیں ختم ہو چکی ہیں یا شاید کبھی تھیں ہی نہیں۔ بار بار کی مہنگائی صرف قوتِ خرید کو ہی ختم نہیں کرتی، یہ اس اعتماد کو بھی خاک میں ملا دیتی ہے کہ سخت محنت کا کوئی صلہ ملتا ہے۔ معاشرے سختی تو برداشت کر سکتے ہیں لیکن جب امید دم توڑ جائے تو وہ بکھرنے لگتے ہیں۔</p>
<p>خلیجی ممالک کا پہلو اس خطرے کو مزید گہرا کرتا ہے۔ لاکھوں پاکستانی گھرانوں کا انحصار سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر ممالک میں کام کرنے والے مزدوروں کی بھیجی گئی ترسیلاتِ زر (ریمٹنسز) پر ہے۔ اگر علاقائی تنازع تعمیرات، لاجسٹکس، ہوا بازی یا سرمایہ کاری کی رفتار کو سست کرتا ہے تو بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کارکن اس کا براہِ راست اثر محسوس کریں گے۔ وہاں ملازمتوں کا جانا، تنخواہوں میں تاخیر یا مواقع کا کم ہونا، یہاں گھر بیٹھے خاندانوں کو عین اس وقت متاثر کرے گا جب ملک میں قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہوں گی۔ یہ صورتحال روپے کی قدر کو مزید گرائے گی، درآمدی لاگت بڑھائے گی، مہنگائی کو دوبارہ ہوا دے گی اور معاشی مندی کے اس چکر کو مزید تنگ کر دے گی۔</p>
<p>شرح سود کا بلند ہونا، اگرچہ کرنسی کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے، لیکن یہ عوامی تکلیف کو بڑھاتا ہے۔ یہ تجارتی قرضوں (کریڈٹ) کا گلا گھونٹتا ہے، سرمایہ کاری کو منجمد کرتا ہے، تعمیراتی سرگرمیاں سست کرتا ہے اور کاروباروں کو ملازمتیں ختم کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مالیاتی ڈسپلن (سختی) کی ضرورت ہو سکتی ہے، لیکن اس سختی کے تلخ نتائج ہوتے ہیں اور وہ نتائج بند دکانوں، گھٹتی ہوئی تنخواہوں اور فکر مند گھرانوں کی صورت میں پہلے ہی سامنے نظر آ رہے ہیں۔</p>
<p>پالیسی کی غلطیاں اب تباہ کن ثابت ہوں گی۔ حقائق سے انکار یا تاخیر اب کام نہیں کرے گی۔ مالیاتی گنجائش کے بغیر بلا امتیاز سبسڈیز دینا صرف بوجھ کو ایک جیب سے دوسری جیب میں منتقل کرے گا لیکن کمزور گھرانوں کو اس جھٹکے کو اکیلے جذب کرنے کے لیے لاوارث چھوڑ دینا بھی سماجی طور پر انتہائی لاپروائی اور خطرناک عمل ہوگا۔</p>
<p>ظاہری یا نمائشی اقدامات اب کوئی حل نہیں ہیں۔ پاکستان کو اب تلخ حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا، انتہائی کفایت شعاری، حکومت کے سائز اور اخراجات میں بڑے پیمانے پر کٹوتی اور نایاب توانائی کو لازمی اور پیداواری استعمال کی طرف سختی سے راشن کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ ریاست اب فضول اخراجات، ضرورت سے بڑی انتظامیہ، رسمی شاہ خرچیوں یا درآمدی ایندھن کے بے جا استعمال کی قطعاً متحمل نہیں ہو سکتی۔ بچایا گیا ہر ڈالر، کمائے گئے ایک ڈالر کے برابر ہے۔</p>
<p>زراعت کا شعبہ اس خطرے میں ایک اور پرت کا اضافہ کرتا ہے۔ کھاد کی پیداوار کا زیادہ تر انحصار قدرتی گیس پر ہے۔ اگر گیس کی قلت بڑھتی ہے یا کھاد کے کارخانے پیداوار کم کرتے ہیں، تو کسانوں کو فصل کے چکر کے اہم مراحل پر کھاد کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کھاد کی کم دستیابی کا مطلب ہے کم پیداوار، خوراک کی زیادہ قیمتیں اور کمزور خطوں میں حقیقی غذائی قلت کا امکان۔ ایک ایسے ملک میں جہاں لاکھوں لوگ پہلے ہی بنیادی خوراک کی استطاعت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں وہاں معمولی سی رکاوٹ بھی معاشی دباؤ کو انسانی بحران میں بدل سکتی ہے۔</p>
<p>توانائی کو ایک نایاب قومی وسائل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے نہ کہ کسی استحقاق کے طور پر۔ اب اولین ترجیح خوراک کی سپلائی چین، اسپتالوں، ضروری ٹرانسپورٹ، برآمدی صنعتوں اور بنیادی عوامی خدمات کو ملنی چاہیے۔ یہ فیصلہ سیاسی طور پر انتہائی مشکل ہوگا، لیکن یہ ظاہر کرنا کہ پاکستان پہلے کی طرح معمول کے مطابق چل سکتا ہے، اس سے بھی بدتر ہے۔ الماری نہ صرف خالی ہو چکی ہے، بلکہ اب اس کے خانے بھی غائب ہیں۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری صرف امپورٹڈ تیل نہیں ہے، بلکہ یہ اس معاشرے کی نزاکت ہے جہاں لاکھوں لوگ مہنگائی کے محض ایک اور جھٹکے سے مایوسی کی دلدل میں گرنے کی کٹیا پر کھڑے ہیں اور جہاں وہ جھٹکا پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔</p>
<p>معاشی بحرانوں کو درست پالیسی، بیرونی مدد اور نظم و ضبط پر مبنی فیصلوں سے سنبھالا جا سکتا ہے لیکن جب لوگ مزید سختی برداشت کرنے کی سکت کھو دیتے ہیں تو چیلنج معاشی نہیں رہتا، وہ سماجی، سیاسی اور گہرا انسانی بحران بن جاتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286438</guid>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 13:53:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد ستارندیم حق)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/1813261918f3c75.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/1813261918f3c75.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
