<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امن و امان کا خطرہ: وزیراعلیٰ کے پی کی وزیراعظم سے سی این جی سیکٹر کو گیس بحال کرنے کی اپیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286437/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وزیراعظم شہباز شریف سے صوبے میں سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی معطل کیے جانے کے معاملے پر مداخلت کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ اس اقدام سے وسیع پیمانے پر احتجاج شروع ہوسکتا ہے اور امن و امان کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;18 مئی کے ایک خط میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی میں کٹوتی کا پیٹرولیم ڈویژن کا حالیہ فیصلہ مبینہ طور پر ایل این جی کی سپلائی میں تعطل اور ایس این جی پی ایل (سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ) کو درپیش سسٹم کی رکاوٹوں کے باعث کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں کہا گیا کہ اگرچہ ہم اس بات کو پوری طرح سمجھتے ہیں کہ ایس این جی پی ایل  سپلائی کی کمی کے ماحول میں کام کررہی ہے اور اسے لائن پیک پریشر کو مینج کرنا ہے لیکن خیبر پختونخوا کی صورتحال الگ سے غور کی مستحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس بات کی نشاندہی کی کہ صوبے کے پاس گیس کا بڑا سرپلس موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق ہمارا صوبہ روزانہ تقریباً 494 ایم ایم سی ایف ڈی قدرتی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ اوسطاً کھپت تقریباً 120 ایم ایم سی ایف ڈی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں مزید کہا گیا کہ خیبر پختونخوا میں سی این جی سیکٹر کی ضرورت تقریباً 36 سے 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس ہے، جسے فرٹیلائزر (کھاد) سیکٹر کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ خیبر پختونخوا میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی معطل کرنے کے فیصلے نے وسیع پیمانے پر احتجاج کی راہ ہموار کردی ہے اور یہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے لیے ایک سنگین خطرہ بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ نے دلیل دی کہ سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی معطل کرنا آئین کے آرٹیکل 158 کی خلاف ورزی ہے جو واضح طور پر کہتا ہے کہ جس صوبے میں قدرتی گیس کا ویل ہیڈ (کنواں) واقع ہو اس کی حدود میں ملنے والی گیس پر پہلا حق اسی صوبے کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس میں یہ موقف اپنایا گیا تھا کہ ضابطہ فوجداری  کی دفعہ 144 کے تحت سی این جی اسٹیشنز کے آپریشنز کو روکنا جائز نہیں کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت ضمانت یافتہ قانونی کاروبار کو محدود کرتا ہے اور ہزاروں ملازمین کو متاثر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کے سی این جی پر شدید انحصار اور مہنگے متبادل ایندھن سے بچنے کی ضرورت کے پیشِ نظر یہ انتہائی ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا میں سی این جی سیکٹر کے لیے 36 سے 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی سپلائی بحال کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں وزیراعلیٰ نے وزیر اعظم سے اس معاملے میں مداخلت کرنے اور پیٹرولیم ڈویژن کو خیبر پختونخوا میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی کٹوتی کا فیصلہ واپس لینے کی ہدایات جاری کرنے یا جلد از جلد مشترکہ مفادات کونسل  کا اجلاس بلانے کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وزیراعظم شہباز شریف سے صوبے میں سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی معطل کیے جانے کے معاملے پر مداخلت کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ اس اقدام سے وسیع پیمانے پر احتجاج شروع ہوسکتا ہے اور امن و امان کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔</strong></p>
<p>18 مئی کے ایک خط میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی میں کٹوتی کا پیٹرولیم ڈویژن کا حالیہ فیصلہ مبینہ طور پر ایل این جی کی سپلائی میں تعطل اور ایس این جی پی ایل (سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ) کو درپیش سسٹم کی رکاوٹوں کے باعث کیا گیا ہے۔</p>
<p>خط میں کہا گیا کہ اگرچہ ہم اس بات کو پوری طرح سمجھتے ہیں کہ ایس این جی پی ایل  سپلائی کی کمی کے ماحول میں کام کررہی ہے اور اسے لائن پیک پریشر کو مینج کرنا ہے لیکن خیبر پختونخوا کی صورتحال الگ سے غور کی مستحق ہے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس بات کی نشاندہی کی کہ صوبے کے پاس گیس کا بڑا سرپلس موجود ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دستیاب اعدادوشمار کے مطابق ہمارا صوبہ روزانہ تقریباً 494 ایم ایم سی ایف ڈی قدرتی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ اوسطاً کھپت تقریباً 120 ایم ایم سی ایف ڈی رہتی ہے۔</p>
<p>خط میں مزید کہا گیا کہ خیبر پختونخوا میں سی این جی سیکٹر کی ضرورت تقریباً 36 سے 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس ہے، جسے فرٹیلائزر (کھاد) سیکٹر کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔</p>
<p>سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ خیبر پختونخوا میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی معطل کرنے کے فیصلے نے وسیع پیمانے پر احتجاج کی راہ ہموار کردی ہے اور یہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے لیے ایک سنگین خطرہ بن رہا ہے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ نے دلیل دی کہ سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی معطل کرنا آئین کے آرٹیکل 158 کی خلاف ورزی ہے جو واضح طور پر کہتا ہے کہ جس صوبے میں قدرتی گیس کا ویل ہیڈ (کنواں) واقع ہو اس کی حدود میں ملنے والی گیس پر پہلا حق اسی صوبے کا ہے۔</p>
<p>مزید برآں انہوں نے پشاور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس میں یہ موقف اپنایا گیا تھا کہ ضابطہ فوجداری  کی دفعہ 144 کے تحت سی این جی اسٹیشنز کے آپریشنز کو روکنا جائز نہیں کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت ضمانت یافتہ قانونی کاروبار کو محدود کرتا ہے اور ہزاروں ملازمین کو متاثر کرتا ہے۔</p>
<p>وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کے سی این جی پر شدید انحصار اور مہنگے متبادل ایندھن سے بچنے کی ضرورت کے پیشِ نظر یہ انتہائی ضروری ہے کہ خیبر پختونخوا میں سی این جی سیکٹر کے لیے 36 سے 40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی سپلائی بحال کی جائے۔</p>
<p>خط میں وزیراعلیٰ نے وزیر اعظم سے اس معاملے میں مداخلت کرنے اور پیٹرولیم ڈویژن کو خیبر پختونخوا میں سی این جی سیکٹر کو گیس کی کٹوتی کا فیصلہ واپس لینے کی ہدایات جاری کرنے یا جلد از جلد مشترکہ مفادات کونسل  کا اجلاس بلانے کی اپیل کی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286437</guid>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 13:52:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/181521066611282.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/181521066611282.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
