<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ مطالبات یا محض حسرتیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286426/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بجٹ سیزن قریب آتے ہی ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز اسلام آباد سے اپیل کررہے ہیں کہ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے، فائنل ٹیکس رجیم کو ایک بار پھر نافذ کیا جائے، دیگر ٹیکسز کا خاتمہ کیا جائے اور واجب الادا ریفنڈز کلیئر کیے جائیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ غور ہے کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز، جنہیں طویل عرصے سے حکومتی مراعات پر انحصار کرنے والا سمجھا جاتا رہا ہے، ہر ممکنہ سبسڈی اور امدادی پیکیج مانگ رہے ہیں جو وہ حاصل کرسکتے ہیں۔ تاہم، ان تمام مطالبات کو پورا کرنے کے لیے حکومت کے پاس مالیاتی گنجائش  نہ ہونے کے برابر ہے۔ آئی ایم ایف  بھی حکومت کی جانب سے کسی ایک مخصوص شعبے کو ایسی مراعات یا چھوٹ دینے کے حق میں نہیں ہے۔ وہ سب کے لیے یکساں کاروباری مواقع دیکھنا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی طور پر ٹیکسٹائل شعبے سے وابستہ افراد کو کئی طرح کی مراعات ملتی رہی ہیں جن میں ٹیکس کی انتہائی کم شرح سے لے کر مارک اپ پر بھاری سبسڈیز اور مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر توانائی کی فراہمی شامل ہیں، اس کے باوجود ملکی برآمدات اور جی ڈی پی کا تناسب مسلسل گرتا ہی رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسپورٹرز کا استدلال ہے کہ برآمدات میں یہ کمی دیگر مسابقتی عوامل کی عدم موجودگی کے باعث ہوئی۔ خیر معاملہ جو بھی ہو، ان مراعات نے مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کیے۔ چنانچہ، آئی ایم ایف کے دباؤ اور اس عام تاثر کے پیشِ نظر کہ یہ فوائد نتائج دینے میں ناکام رہے، یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے برآمد کنندگان کے لیے ٹیکسیشن، توانائی اور مارک اپ (شرح سود) کے نظام کو مکمل طور پر تبدیل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب وہ سپر ٹیکس اور دیگر لیویز (محصولات) سمیت مکمل انکم ٹیکس ادا کرنے کے پابند ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر ٹرن اوور (مجموعی آمدن) کی ایک مخصوص حد پر بھی ٹیکس عائد کیا گیا جس سے ان کے کیش فلو (سرمائے کی روانی) کا گلا گھٹ رہا ہے اور اس کے نتیجے میں مخصوص شعبوں کے لیے ٹیکس کی شرح  کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب مجموعی طور پر پوری معیشت میں ہی ٹیکسز کی شرح میں اضافہ کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارک اپ پر ملنے والی امداد کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ماضی میں ورکنگ کیپٹل اور طویل مدتی سرمایہ کاری دونوں کے لیے انتہائی کم شرح سود پر قرضے فراہم کرتا تھا۔ اگرچہ کچھ کمپنیوں نے ان سہولیات کی بدولت برآمدی آمدن میں اضافہ بھی کیا، لیکن ان اسکیموں کے غلط استعمال کی بھی کئی مثالیں سامنے آئیں۔ اب اسٹیٹ بینک نہ صرف ان اسکیموں سے پیچھے ہٹ چکا ہے بلکہ وہ بلند حقیقی شرح سود پر مبنی سخت مانیٹری پالیسی بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی اور گیس کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے، جہاں ٹیرف آسمان کو چھو رہے ہیں خواہ وہ کیپٹیو گیس (ذاتی پاور پلانٹس کے لیے گیس) ہو یا گرڈ کی بجلی جبکہ دوسری طرف مراعات واپس لی جارہی ہیں۔ بعد میں ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم متعارف کرائی گئی تھی تاکہ دوبارہ برآمد کی جانے والی اشیاء کی تیاری میں استعمال ہونے والے امپورٹڈ مال پر ٹیکس ریبیٹس (چھوٹ) کے عمل کو آسان بنایا جا سکے لیکن کچھ کمپنیوں کی جانب سے اس کے غلط استعمال کی وجہ سے اب خمیازہ سب کو بھگتنا پڑرہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل نکتہ ٹیکسٹائل شعبے کو مستقل طور پر بیساکھیوں کا عادی بنانا نہیں، بلکہ اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ اچانک کی جانے والی تبدیلیاں اس شعبے کو تباہ (کولیپس) کر سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ جب کسی نشے کے عادی شخص کا علاج (ری ہیبلی ٹیشن) کیا جاتا ہے، تو اسے شروع میں منشیات کی چھوٹی خوراکیں دی جاتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ اس کی لت چھڑائی جاتی ہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو دی جانے والی تمام تر امداد اور مراعات کے ساتھ بھی یہی طریقہ کار اپنایا جانا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم استحکام کو یقینی بنانے کیلئے ایک طرف سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیاں نافذ کرنا اور دوسری طرف یکدم تمام مراعات اور امداد واپس لے لینا فائدے کے بجائے نقصان زیادہ پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسپورٹرز، بالخصوص مینوفیکچررز (اشیاء تیار کرنے والے اداروں) کے لیے صورتحال اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتی ہے جب ایک طرف مثبت حقیقی شرح سود کے ذریعے طلب (ڈیمانڈ) کو دبایا جاتا ہے اور زیادہ ٹیکسوں کے ذریعے بچتوں کو نچوڑا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف سیاسی فائدے کے لیے ایکسچینج ریٹ (ڈالر کی قیمت) کو ایک جگہ برقرار  رکھا جاتا ہے۔یہ چیز برآمد کنندگان کو مزید کمزور اور حساس بنا دیتی ہے، وہ اپنے عالمی حریفوں کے مقابلے میں قرضوں پر زیادہ سود، زیادہ ٹیکس اور توانائی کی مہنگی ترین قیمتیں ادا کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں کرنسی کی سطح پر بھی نقصان کا سامنا ہے۔ یہ کچھ اور نہیں بلکہ سراسر تباہی کا نسخہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بجٹ سیزن قریب آتے ہی ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز اسلام آباد سے اپیل کررہے ہیں کہ ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے، فائنل ٹیکس رجیم کو ایک بار پھر نافذ کیا جائے، دیگر ٹیکسز کا خاتمہ کیا جائے اور واجب الادا ریفنڈز کلیئر کیے جائیں۔</strong></p>
<p>یہ بات قابلِ غور ہے کہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز، جنہیں طویل عرصے سے حکومتی مراعات پر انحصار کرنے والا سمجھا جاتا رہا ہے، ہر ممکنہ سبسڈی اور امدادی پیکیج مانگ رہے ہیں جو وہ حاصل کرسکتے ہیں۔ تاہم، ان تمام مطالبات کو پورا کرنے کے لیے حکومت کے پاس مالیاتی گنجائش  نہ ہونے کے برابر ہے۔ آئی ایم ایف  بھی حکومت کی جانب سے کسی ایک مخصوص شعبے کو ایسی مراعات یا چھوٹ دینے کے حق میں نہیں ہے۔ وہ سب کے لیے یکساں کاروباری مواقع دیکھنا چاہتا ہے۔</p>
<p>تاریخی طور پر ٹیکسٹائل شعبے سے وابستہ افراد کو کئی طرح کی مراعات ملتی رہی ہیں جن میں ٹیکس کی انتہائی کم شرح سے لے کر مارک اپ پر بھاری سبسڈیز اور مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر توانائی کی فراہمی شامل ہیں، اس کے باوجود ملکی برآمدات اور جی ڈی پی کا تناسب مسلسل گرتا ہی رہا۔</p>
<p>ایکسپورٹرز کا استدلال ہے کہ برآمدات میں یہ کمی دیگر مسابقتی عوامل کی عدم موجودگی کے باعث ہوئی۔ خیر معاملہ جو بھی ہو، ان مراعات نے مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کیے۔ چنانچہ، آئی ایم ایف کے دباؤ اور اس عام تاثر کے پیشِ نظر کہ یہ فوائد نتائج دینے میں ناکام رہے، یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے برآمد کنندگان کے لیے ٹیکسیشن، توانائی اور مارک اپ (شرح سود) کے نظام کو مکمل طور پر تبدیل کردیا ہے۔</p>
<p>اب وہ سپر ٹیکس اور دیگر لیویز (محصولات) سمیت مکمل انکم ٹیکس ادا کرنے کے پابند ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر ٹرن اوور (مجموعی آمدن) کی ایک مخصوص حد پر بھی ٹیکس عائد کیا گیا جس سے ان کے کیش فلو (سرمائے کی روانی) کا گلا گھٹ رہا ہے اور اس کے نتیجے میں مخصوص شعبوں کے لیے ٹیکس کی شرح  کہیں زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب مجموعی طور پر پوری معیشت میں ہی ٹیکسز کی شرح میں اضافہ کیا جارہا ہے۔</p>
<p>مارک اپ پر ملنے والی امداد کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ماضی میں ورکنگ کیپٹل اور طویل مدتی سرمایہ کاری دونوں کے لیے انتہائی کم شرح سود پر قرضے فراہم کرتا تھا۔ اگرچہ کچھ کمپنیوں نے ان سہولیات کی بدولت برآمدی آمدن میں اضافہ بھی کیا، لیکن ان اسکیموں کے غلط استعمال کی بھی کئی مثالیں سامنے آئیں۔ اب اسٹیٹ بینک نہ صرف ان اسکیموں سے پیچھے ہٹ چکا ہے بلکہ وہ بلند حقیقی شرح سود پر مبنی سخت مانیٹری پالیسی بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>بجلی اور گیس کے شعبے میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے، جہاں ٹیرف آسمان کو چھو رہے ہیں خواہ وہ کیپٹیو گیس (ذاتی پاور پلانٹس کے لیے گیس) ہو یا گرڈ کی بجلی جبکہ دوسری طرف مراعات واپس لی جارہی ہیں۔ بعد میں ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم متعارف کرائی گئی تھی تاکہ دوبارہ برآمد کی جانے والی اشیاء کی تیاری میں استعمال ہونے والے امپورٹڈ مال پر ٹیکس ریبیٹس (چھوٹ) کے عمل کو آسان بنایا جا سکے لیکن کچھ کمپنیوں کی جانب سے اس کے غلط استعمال کی وجہ سے اب خمیازہ سب کو بھگتنا پڑرہا ہے۔</p>
<p>اصل نکتہ ٹیکسٹائل شعبے کو مستقل طور پر بیساکھیوں کا عادی بنانا نہیں، بلکہ اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ اچانک کی جانے والی تبدیلیاں اس شعبے کو تباہ (کولیپس) کر سکتی ہیں۔ یہاں تک کہ جب کسی نشے کے عادی شخص کا علاج (ری ہیبلی ٹیشن) کیا جاتا ہے، تو اسے شروع میں منشیات کی چھوٹی خوراکیں دی جاتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ اس کی لت چھڑائی جاتی ہے۔ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو دی جانے والی تمام تر امداد اور مراعات کے ساتھ بھی یہی طریقہ کار اپنایا جانا چاہیے تھا۔</p>
<p>تاہم استحکام کو یقینی بنانے کیلئے ایک طرف سخت مالیاتی اور مانیٹری پالیسیاں نافذ کرنا اور دوسری طرف یکدم تمام مراعات اور امداد واپس لے لینا فائدے کے بجائے نقصان زیادہ پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>ایکسپورٹرز، بالخصوص مینوفیکچررز (اشیاء تیار کرنے والے اداروں) کے لیے صورتحال اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتی ہے جب ایک طرف مثبت حقیقی شرح سود کے ذریعے طلب (ڈیمانڈ) کو دبایا جاتا ہے اور زیادہ ٹیکسوں کے ذریعے بچتوں کو نچوڑا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف سیاسی فائدے کے لیے ایکسچینج ریٹ (ڈالر کی قیمت) کو ایک جگہ برقرار  رکھا جاتا ہے۔یہ چیز برآمد کنندگان کو مزید کمزور اور حساس بنا دیتی ہے، وہ اپنے عالمی حریفوں کے مقابلے میں قرضوں پر زیادہ سود، زیادہ ٹیکس اور توانائی کی مہنگی ترین قیمتیں ادا کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں کرنسی کی سطح پر بھی نقصان کا سامنا ہے۔ یہ کچھ اور نہیں بلکہ سراسر تباہی کا نسخہ ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286426</guid>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 12:40:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/1812325490ad7ec.webp" type="image/webp" medium="image" height="800" width="1394">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/1812325490ad7ec.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
