<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:20:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:20:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ، عالمی کمپنیوں کو 25 ارب ڈالر کا نقصان، مزید اضافے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286423/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رائٹرز کے تجزیے کے مطابق ایران جنگ کے باعث دنیا بھر کی کمپنیوں کو اب تک کم از کم 25 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا اور یہ بل مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنازع کے آغاز سے اب تک امریکہ، یورپ اور ایشیا میں لسٹڈ کمپنیوں کے کارپوریٹ بیانات کا جائزہ اس جنگ کے بھیانک اثرات کی سنگین تصویر پیش کرتا ہے۔ کاروباری ادارے توانائی کی آسمان چھوتی قیمتوں، بکھری سپلائی چین اور آبنائے ہرمز پر ایران کے سخت کنٹرول کے باعث تجارتی راستے بند ہونے جیسے سنگین مسائل سے نبرد آزما ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیے کے مطابق کم از کم 279 کمپنیوں نے جنگ کے باعث مالی نقصان کے اثرات کم کرنے کیلئے دفاعی اقدامات کا سہارا لیا جن میں قیمتوں میں اضافہ اور پیداوار میں کمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر کمپنیوں نے ڈیوڈنڈ  یا شیئرز کی دوبارہ خریداری (بائی بیکس) کو معطل کردیا ہے، عملے کوعارضی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے، ایندھن پر اضافی چارجز (فیول سرچارجز) عائد کردیے ہیں، یا حکومت سے ہنگامی امداد طلب کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اتھل پتھل جو کووڈ 19 کی وبا اور یوکرین پر روس کے حملے کے بعد کاروباری دنیا کو درپیش بڑے عالمی بحرانوں کی تازہ کڑی ہے،  رواں سال کے باقی عرصے کے لیے کاروباری توقعات کو محدود کر رہی ہے، جبکہ اس تنازع کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کی فوری امید بھی دکھائی نہیں دے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہرل پول  کے سی ای او مارک بٹزر نے کمپنی کی سالانہ پیش گوئی نصف کرنے اور ڈیویڈنڈ معطل کرنے کے بعد تجزیہ کاروں سے گفتگو میں کہا کہ صنعت میں یہ گراوٹ عالمی مالی بحران کے دوران دیکھی جانے والی صورتحال جیسی ہے، بلکہ دیگر کساد بازاری کے ادوار کے مقابلے میں اس سے بھی زیادہ شدید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ترقی کی رفتار سست ہوگی، قیمتیں طے کرنے کی طاقت  کمزور پڑ جائے گی اور فکسڈ اخراجات کو برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا جس سے دوسری سہ ماہی اور اس کے بعد کے منافع کے مارجن کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی کو مزید ہوا دے سکتا ہے جس سے صارفین کا پہلے سے کمزور اعتماد مزید مجروح ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارک بٹزر کے مطابق صارفین نئی مصنوعات خریدنے کے بجائے پرانی چیزوں کی مرمت کروا کر کام چلانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خام مال اور اشیاء کے اخراجات میں مسلسل اضافہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گھریلو آلات بنانے والی کمپنی اکیلی نہیں۔ پراکٹر اینڈ گیمبل، کاریکس اور ٹویوٹا سمیت متعدد کمپنیوں نے خبردار کیا کہ جنگ کے تیسرے مہینے میں داخل ہونے کے ساتھ اس کے مالی اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز جو دنیا میں توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے کی ایرانی ناکہ بندی نے تیل کی قیمتوں کو 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر دھکیل دیا جو جنگ کے آغاز سے پہلے کی قیمتوں کے مقابلے میں 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ناکہ بندی نے شپنگ کے اخراجات میں اضافہ کردیا، خام مال کی سپلائی کو محدود کردیا اور اشیاء کی ترسیل کے لیے اہم تجارتی راستوں کو بند کردیا ہے۔ کھاد، ہیلیئم، ایلومینیم، پولی ایتھیلین اور دیگر اہم خام مال کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جائزے میں شامل ایک تہائی کمپنیوں جو کاسمیٹکس، ٹائر، ڈٹرجنٹ بنانے والے اداروں سے لے کر کروز آپریٹرز اور ایئر لائنز تک ہر شعبے سے تعلق رکھتی ہیں نے جنگ کی وجہ سے مالی نقصان کا سامنا کرنے کا اشارہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے اکثریتی کمپنیاں برطانیہ اور یورپ سے تعلق رکھتی ہیں جہاں توانائی اخراجات پہلے ہی بڑھے ہوئے تھے جبکہ تقریباً ایک تہائی کا تعلق ایشیا سے ہے، جو ان خطوں کے مڈل ایسٹ کے تیل اور ایندھن کی مصنوعات پر گہرے انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیرف اثرات جیسے ہی تباہ کن نتائج&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نقصان کا موازنہ کرنے کے لیے اگر دیکھا جائے تو گزشتہ سال اکتوبر تک سینکڑوں کمپنیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2025 کے ٹیرف (اضافی ڈیوٹی) کے باعث 35 ارب ڈالر سے زائد کے نقصانات کا اشارہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کی وجہ سے سامنے آنے والے نقصانات میں سب سے بڑا حصہ ایئر لائنز کا ہے جو تقریباً 15 ارب ڈالر بنتا ہے، کیونکہ طیاروں کے ایندھن (جیٹ فیول) کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہوچکی ہیں۔ جیسے جیسے یہ تعطل طول پکڑرہا ہے، دیگر صنعتوں سے تعلق رکھنے والی مزید کمپنیاں بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں۔ جاپان کی ٹویوٹا کمپنی نے 4.3 ارب ڈالر کے نقصان کا انتباہ دیا ہے، جبکہ پی اینڈ جی نے ٹیکس کے بعد اپنے منافع میں 1 ارب ڈالر کی کمی کا تخمینہ لگایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکڈونلڈز نے اس مہینے کے آغاز میں کہا تھا کہ اسے سپلائی چین میں جاری تعطل کی وجہ سے طویل مدتی اخراجات میں اضافے  کی توقع ہے، یہ ایک ایسا تخمینہ ہے جو کچھ عرصہ قبل تک صرف صنعتی شعبے کی کمپنیوں کے مالیاتی بیانات تک ہی محدود سمجھا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کے سی ای او کرس کیمپچنسکی نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کم آمدنی والے صارفین کی مانگ کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گیس کی آسمان چھوتی قیمتیں ہی اس وقت سب سے بنیادی اور مرکزی مسئلہ ہیں جس کا ہمیں سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈسٹریل، کیمیکلز اور میٹیریلز کی صنعتوں سے تعلق رکھنے والی تقریباً 40 کمپنیوں نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے پیٹرو کیمیکل کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث وہ اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویل برانڈز کے چیف فنانشل آفیسر مارک ایرسیگ نے اس مہینے کے شروع میں بتایا تھا کہ خام تیل کی قیمت میں ہر 5 ڈالر فی بیرل کا اضافہ کمپنی کے اخراجات میں تقریباً 50 لاکھ (5 ملین) ڈالر کا اضافہ کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کی ٹائر بنانے والی کمپنی کانٹینینٹل کو توقع ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے خام مال مہنگا ہونے کے باعث اسے دوسری سہ ماہی سے کم از کم 10 کروڑ یورو (11 کروڑ 70 لاکھ ڈالر) کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رائٹرز کے تجزیے کے مطابق ایران جنگ کے باعث دنیا بھر کی کمپنیوں کو اب تک کم از کم 25 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا اور یہ بل مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔</strong></p>
<p>تنازع کے آغاز سے اب تک امریکہ، یورپ اور ایشیا میں لسٹڈ کمپنیوں کے کارپوریٹ بیانات کا جائزہ اس جنگ کے بھیانک اثرات کی سنگین تصویر پیش کرتا ہے۔ کاروباری ادارے توانائی کی آسمان چھوتی قیمتوں، بکھری سپلائی چین اور آبنائے ہرمز پر ایران کے سخت کنٹرول کے باعث تجارتی راستے بند ہونے جیسے سنگین مسائل سے نبرد آزما ہیں۔</p>
<p>تجزیے کے مطابق کم از کم 279 کمپنیوں نے جنگ کے باعث مالی نقصان کے اثرات کم کرنے کیلئے دفاعی اقدامات کا سہارا لیا جن میں قیمتوں میں اضافہ اور پیداوار میں کمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>دیگر کمپنیوں نے ڈیوڈنڈ  یا شیئرز کی دوبارہ خریداری (بائی بیکس) کو معطل کردیا ہے، عملے کوعارضی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے، ایندھن پر اضافی چارجز (فیول سرچارجز) عائد کردیے ہیں، یا حکومت سے ہنگامی امداد طلب کی ہے۔</p>
<p>یہ اتھل پتھل جو کووڈ 19 کی وبا اور یوکرین پر روس کے حملے کے بعد کاروباری دنیا کو درپیش بڑے عالمی بحرانوں کی تازہ کڑی ہے،  رواں سال کے باقی عرصے کے لیے کاروباری توقعات کو محدود کر رہی ہے، جبکہ اس تنازع کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کی فوری امید بھی دکھائی نہیں دے رہی۔</p>
<p>وہرل پول  کے سی ای او مارک بٹزر نے کمپنی کی سالانہ پیش گوئی نصف کرنے اور ڈیویڈنڈ معطل کرنے کے بعد تجزیہ کاروں سے گفتگو میں کہا کہ صنعت میں یہ گراوٹ عالمی مالی بحران کے دوران دیکھی جانے والی صورتحال جیسی ہے، بلکہ دیگر کساد بازاری کے ادوار کے مقابلے میں اس سے بھی زیادہ شدید ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ترقی کی رفتار سست ہوگی، قیمتیں طے کرنے کی طاقت  کمزور پڑ جائے گی اور فکسڈ اخراجات کو برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا جس سے دوسری سہ ماہی اور اس کے بعد کے منافع کے مارجن کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی کو مزید ہوا دے سکتا ہے جس سے صارفین کا پہلے سے کمزور اعتماد مزید مجروح ہوگا۔</p>
<p>مارک بٹزر کے مطابق صارفین نئی مصنوعات خریدنے کے بجائے پرانی چیزوں کی مرمت کروا کر کام چلانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔</p>
<p><strong>خام مال اور اشیاء کے اخراجات میں مسلسل اضافہ</strong></p>
<p>گھریلو آلات بنانے والی کمپنی اکیلی نہیں۔ پراکٹر اینڈ گیمبل، کاریکس اور ٹویوٹا سمیت متعدد کمپنیوں نے خبردار کیا کہ جنگ کے تیسرے مہینے میں داخل ہونے کے ساتھ اس کے مالی اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>آبنائے ہرمز جو دنیا میں توانائی کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے کی ایرانی ناکہ بندی نے تیل کی قیمتوں کو 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر دھکیل دیا جو جنگ کے آغاز سے پہلے کی قیمتوں کے مقابلے میں 50 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>اس ناکہ بندی نے شپنگ کے اخراجات میں اضافہ کردیا، خام مال کی سپلائی کو محدود کردیا اور اشیاء کی ترسیل کے لیے اہم تجارتی راستوں کو بند کردیا ہے۔ کھاد، ہیلیئم، ایلومینیم، پولی ایتھیلین اور دیگر اہم خام مال کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>اس جائزے میں شامل ایک تہائی کمپنیوں جو کاسمیٹکس، ٹائر، ڈٹرجنٹ بنانے والے اداروں سے لے کر کروز آپریٹرز اور ایئر لائنز تک ہر شعبے سے تعلق رکھتی ہیں نے جنگ کی وجہ سے مالی نقصان کا سامنا کرنے کا اشارہ دیا ہے۔</p>
<p>ان میں سے اکثریتی کمپنیاں برطانیہ اور یورپ سے تعلق رکھتی ہیں جہاں توانائی اخراجات پہلے ہی بڑھے ہوئے تھے جبکہ تقریباً ایک تہائی کا تعلق ایشیا سے ہے، جو ان خطوں کے مڈل ایسٹ کے تیل اور ایندھن کی مصنوعات پر گہرے انحصار کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p><strong>ٹیرف اثرات جیسے ہی تباہ کن نتائج</strong></p>
<p>اس نقصان کا موازنہ کرنے کے لیے اگر دیکھا جائے تو گزشتہ سال اکتوبر تک سینکڑوں کمپنیوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 2025 کے ٹیرف (اضافی ڈیوٹی) کے باعث 35 ارب ڈالر سے زائد کے نقصانات کا اشارہ دیا تھا۔</p>
<p>جنگ کی وجہ سے سامنے آنے والے نقصانات میں سب سے بڑا حصہ ایئر لائنز کا ہے جو تقریباً 15 ارب ڈالر بنتا ہے، کیونکہ طیاروں کے ایندھن (جیٹ فیول) کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہوچکی ہیں۔ جیسے جیسے یہ تعطل طول پکڑرہا ہے، دیگر صنعتوں سے تعلق رکھنے والی مزید کمپنیاں بھی خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں۔ جاپان کی ٹویوٹا کمپنی نے 4.3 ارب ڈالر کے نقصان کا انتباہ دیا ہے، جبکہ پی اینڈ جی نے ٹیکس کے بعد اپنے منافع میں 1 ارب ڈالر کی کمی کا تخمینہ لگایا ہے۔</p>
<p>مکڈونلڈز نے اس مہینے کے آغاز میں کہا تھا کہ اسے سپلائی چین میں جاری تعطل کی وجہ سے طویل مدتی اخراجات میں اضافے  کی توقع ہے، یہ ایک ایسا تخمینہ ہے جو کچھ عرصہ قبل تک صرف صنعتی شعبے کی کمپنیوں کے مالیاتی بیانات تک ہی محدود سمجھا جاتا تھا۔</p>
<p>کمپنی کے سی ای او کرس کیمپچنسکی نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کم آمدنی والے صارفین کی مانگ کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گیس کی آسمان چھوتی قیمتیں ہی اس وقت سب سے بنیادی اور مرکزی مسئلہ ہیں جس کا ہمیں سامنا ہے۔</p>
<p><strong>تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر</strong></p>
<p>انڈسٹریل، کیمیکلز اور میٹیریلز کی صنعتوں سے تعلق رکھنے والی تقریباً 40 کمپنیوں نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے پیٹرو کیمیکل کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث وہ اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کریں گی۔</p>
<p>نیویل برانڈز کے چیف فنانشل آفیسر مارک ایرسیگ نے اس مہینے کے شروع میں بتایا تھا کہ خام تیل کی قیمت میں ہر 5 ڈالر فی بیرل کا اضافہ کمپنی کے اخراجات میں تقریباً 50 لاکھ (5 ملین) ڈالر کا اضافہ کر دیتا ہے۔</p>
<p>جرمنی کی ٹائر بنانے والی کمپنی کانٹینینٹل کو توقع ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے خام مال مہنگا ہونے کے باعث اسے دوسری سہ ماہی سے کم از کم 10 کروڑ یورو (11 کروڑ 70 لاکھ ڈالر) کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286423</guid>
      <pubDate>Mon, 18 May 2026 12:03:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/18112648200fd9f.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/18112648200fd9f.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
