<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرسٹ رائٹ آف ریفیوزل: مقامی کاروبار کو بااختیار بنانا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286386/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں ریاستی ملکیتی اداروں (اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز/ایس او ایز) کی نجکاری کی کوششوں نے قومی اثاثوں کے مستقبل کے حوالے سے ایک بحث کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ نجکاری معاشی ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ اہم خطرات بھی موجود ہیں، خصوصاً اس حوالے سے کہ اہم شعبوں پر کنٹرول کیسے برقرار رکھا جائے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ نجکاری سے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور مقامی کاروباری برادری دونوں کو فائدہ ہو، اس عمل کو انتہائی محتاط انداز میں منظم کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی ایک بڑی مثال پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) ہے۔ عارف حبیب، جو عارف حبیب کنسورشیم کے چیئرمین ہیں اور اب پی آئی اے کے مالک بھی ہیں، ایئرلائن کے بیڑے کو 18 سے بڑھا کر 26 طیاروں تک لے جانے اور بعد ازاں 60 طیاروں تک وسعت دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ یہ پاکستان کے ایوی ایشن سیکٹر کے لیے ایک مثبت پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے، باوجود اس کے کہ بلند آپریشنل اخراجات اور کم استعمال شدہ بیڑے جیسے مسائل موجود ہیں۔ تاہم وسیع تر معاشی مسائل جیسے قرضوں کا انتظام اور پیداواری لاگت میں کمی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب نے توانائی کے شعبے کی بھی نشاندہی کی، جہاں کم بجلی کی کھپت اور کیپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کے بلند نرخ پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کی یہ تجویز کہ بجلی کے استعمال کو بڑھا کر فی یونٹ لاگت کو 10 سے 12 روپے تک کم کیا جا سکتا ہے، لاگت میں کمی اور مسابقت کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ ریاستی اداروں کے مؤثر انتظام سے پاکستان کی معاشی ترقی کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب کی قیادت میں پی آئی اے کی نجکاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح نجی شعبے کی شمولیت کمزور ریاستی اداروں کو دوبارہ فعال بنا سکتی ہے۔ ان کی بیڑے کی جدید کاری اور آپریشنز کی حکمتِ عملی کو دیگر کم کارکردگی والے ایس او ایز پر بھی لاگو کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ایس او ایز کی نجکاری پاکستان کے لیے منصفانہ ہو، مقامی کاروباری اداروں کو فرسٹ رائٹ آف ریفیوزل (ایف آر آر) دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت مقامی کاروباری افراد کو غیر ملکی سرمایہ کاروں سے پہلے نجکاری شدہ اداروں کے شیئرز خریدنے کا پہلا حق حاصل ہوگا، تاکہ اہم اثاثے مقامی ہاتھوں میں رہیں، خصوصاً ان شعبوں میں جو ملک کے مستقبل کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم صنعتیں جیسے بجلی کی پیداوار، ٹیلی کمیونیکیشن اور پبلک ٹرانسپورٹ قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔ مقامی کاروباری مالکان، جو پاکستانی مارکیٹ کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، کو ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور انتظام کا موقع ملنا چاہیے تاکہ قومی مفادات کا تحفظ ہو اور طویل المدتی ترقی کو فروغ ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چلی، بھارت، روس، برازیل اور جنوبی کوریا جیسے ممالک نے بھی ایس او ایز کی نجکاری کے دوران مقامی کاروبار کو ترجیح دینے کے لیے اسی طرح کے طریقہ کار اپنائے ہیں۔ پاکستان بھی اس ماڈل کو اپنا سکتا ہے، جس میں پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) مقامی کاروبار کے لیے ایف آر آر حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس سے کاروباری افراد کو اہم اداروں میں سرمایہ کاری اور انتظام کا موقع ملے گا اور قومی اثاثے ملک کے اندر ہی رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) حسن بخشی نے تجویز دی ہے کہ مقامی کاروباری ادارے مل کر ایسے نقصان میں چلنے والے ادارے حاصل کرنے کے لیے کنسورشیم تشکیل دیں جیسے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ۔ حسن بخشی کے مطابق کاروبار ان اداروں کو زیادہ مؤثر انداز میں چلا سکتے ہیں، جس سے حکومت کے اخراجات کم ہوں گے اور خدمات میں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔  ڈپٹی پیٹرن ان چیف کاٹی زبیر چھایا کا کہنا ہے کہ بیوروکریٹک رکاوٹیں اور غیر مستقل پالیسیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتی ہیں۔ مقامی کاروبار کو ایس او ایز کی نجکاری میں مرکزی کردار دینے کے لیے حکومت کو واضح اور مستحکم پالیسی ماحول فراہم کرنا ہوگا، سرخ فیتہ کم کرنا ہوگا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کے عمل کو شفاف اور مسابقتی رہنا چاہیے۔ اگرچہ مقامی کاروبار کو پہلے خریداری کا حق دیا جائے، لیکن بولی کا عمل منصفانہ ہونا چاہیے تاکہ مسابقت برقرار رہے، اجارہ داری نہ بنے اور معیشت کو مثبت فائدہ پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً، ایس او ایز کی نجکاری میں مقامی کاروبار کو فرسٹ رائٹ آف ریفیوزل دینا پاکستان کے معاشی ڈھانچے کو تبدیل کر سکتا ہے۔ چلی، بھارت، روس، برازیل اور جنوبی کوریا جیسے ممالک سے سیکھتے ہوئے پاکستان ایسا نظام اپنا سکتا ہے جو قومی مفادات کو تحفظ دے اور کاروباری طبقے کو بااختیار بنائے۔ یہ طریقہ طویل المدتی معاشی ترقی، مضبوط معیشت اور زیادہ مسابقتی پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں ریاستی ملکیتی اداروں (اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز/ایس او ایز) کی نجکاری کی کوششوں نے قومی اثاثوں کے مستقبل کے حوالے سے ایک بحث کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ نجکاری معاشی ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے ساتھ اہم خطرات بھی موجود ہیں، خصوصاً اس حوالے سے کہ اہم شعبوں پر کنٹرول کیسے برقرار رکھا جائے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ نجکاری سے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور مقامی کاروباری برادری دونوں کو فائدہ ہو، اس عمل کو انتہائی محتاط انداز میں منظم کرنے کی ضرورت ہے۔</strong></p>
<p>اس کی ایک بڑی مثال پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) ہے۔ عارف حبیب، جو عارف حبیب کنسورشیم کے چیئرمین ہیں اور اب پی آئی اے کے مالک بھی ہیں، ایئرلائن کے بیڑے کو 18 سے بڑھا کر 26 طیاروں تک لے جانے اور بعد ازاں 60 طیاروں تک وسعت دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ یہ پاکستان کے ایوی ایشن سیکٹر کے لیے ایک مثبت پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے، باوجود اس کے کہ بلند آپریشنل اخراجات اور کم استعمال شدہ بیڑے جیسے مسائل موجود ہیں۔ تاہم وسیع تر معاشی مسائل جیسے قرضوں کا انتظام اور پیداواری لاگت میں کمی پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>عارف حبیب نے توانائی کے شعبے کی بھی نشاندہی کی، جہاں کم بجلی کی کھپت اور کیپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کے بلند نرخ پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کی یہ تجویز کہ بجلی کے استعمال کو بڑھا کر فی یونٹ لاگت کو 10 سے 12 روپے تک کم کیا جا سکتا ہے، لاگت میں کمی اور مسابقت کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ ریاستی اداروں کے مؤثر انتظام سے پاکستان کی معاشی ترقی کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>عارف حبیب کی قیادت میں پی آئی اے کی نجکاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح نجی شعبے کی شمولیت کمزور ریاستی اداروں کو دوبارہ فعال بنا سکتی ہے۔ ان کی بیڑے کی جدید کاری اور آپریشنز کی حکمتِ عملی کو دیگر کم کارکردگی والے ایس او ایز پر بھی لاگو کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ایس او ایز کی نجکاری پاکستان کے لیے منصفانہ ہو، مقامی کاروباری اداروں کو فرسٹ رائٹ آف ریفیوزل (ایف آر آر) دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت مقامی کاروباری افراد کو غیر ملکی سرمایہ کاروں سے پہلے نجکاری شدہ اداروں کے شیئرز خریدنے کا پہلا حق حاصل ہوگا، تاکہ اہم اثاثے مقامی ہاتھوں میں رہیں، خصوصاً ان شعبوں میں جو ملک کے مستقبل کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>اہم صنعتیں جیسے بجلی کی پیداوار، ٹیلی کمیونیکیشن اور پبلک ٹرانسپورٹ قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔ مقامی کاروباری مالکان، جو پاکستانی مارکیٹ کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، کو ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور انتظام کا موقع ملنا چاہیے تاکہ قومی مفادات کا تحفظ ہو اور طویل المدتی ترقی کو فروغ ملے۔</p>
<p>چلی، بھارت، روس، برازیل اور جنوبی کوریا جیسے ممالک نے بھی ایس او ایز کی نجکاری کے دوران مقامی کاروبار کو ترجیح دینے کے لیے اسی طرح کے طریقہ کار اپنائے ہیں۔ پاکستان بھی اس ماڈل کو اپنا سکتا ہے، جس میں پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) مقامی کاروبار کے لیے ایف آر آر حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس سے کاروباری افراد کو اہم اداروں میں سرمایہ کاری اور انتظام کا موقع ملے گا اور قومی اثاثے ملک کے اندر ہی رہیں گے۔</p>
<p>چیئرمین ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) حسن بخشی نے تجویز دی ہے کہ مقامی کاروباری ادارے مل کر ایسے نقصان میں چلنے والے ادارے حاصل کرنے کے لیے کنسورشیم تشکیل دیں جیسے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ۔ حسن بخشی کے مطابق کاروبار ان اداروں کو زیادہ مؤثر انداز میں چلا سکتے ہیں، جس سے حکومت کے اخراجات کم ہوں گے اور خدمات میں بہتری آئے گی۔</p>
<p>تاہم چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔  ڈپٹی پیٹرن ان چیف کاٹی زبیر چھایا کا کہنا ہے کہ بیوروکریٹک رکاوٹیں اور غیر مستقل پالیسیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرتی ہیں۔ مقامی کاروبار کو ایس او ایز کی نجکاری میں مرکزی کردار دینے کے لیے حکومت کو واضح اور مستحکم پالیسی ماحول فراہم کرنا ہوگا، سرخ فیتہ کم کرنا ہوگا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہوگا۔</p>
<p>نجکاری کے عمل کو شفاف اور مسابقتی رہنا چاہیے۔ اگرچہ مقامی کاروبار کو پہلے خریداری کا حق دیا جائے، لیکن بولی کا عمل منصفانہ ہونا چاہیے تاکہ مسابقت برقرار رہے، اجارہ داری نہ بنے اور معیشت کو مثبت فائدہ پہنچے۔</p>
<p>نتیجتاً، ایس او ایز کی نجکاری میں مقامی کاروبار کو فرسٹ رائٹ آف ریفیوزل دینا پاکستان کے معاشی ڈھانچے کو تبدیل کر سکتا ہے۔ چلی، بھارت، روس، برازیل اور جنوبی کوریا جیسے ممالک سے سیکھتے ہوئے پاکستان ایسا نظام اپنا سکتا ہے جو قومی مفادات کو تحفظ دے اور کاروباری طبقے کو بااختیار بنائے۔ یہ طریقہ طویل المدتی معاشی ترقی، مضبوط معیشت اور زیادہ مسابقتی پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286386</guid>
      <pubDate>Sun, 17 May 2026 12:21:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (زاہد مقصود شیخ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/171219103891de4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/171219103891de4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
