<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 11:51:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 11:51:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک فوج نے بھارتی آرمی چیف کا بیان جنون اور جنگ پسندی قرار دیکر مسترد کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286385/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاک فوج کے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے اتوار کے روز بھارتی آرمی چیف اوپیندر دویدی کے حالیہ بیانات کو سختی سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اشتعال انگیزقرار دیا اور خبردار کیا کہ جنوبی ایشیا کو ایک اور تنازع کی طرف دھکیلنے کی کوئی بھی کوشش پورے خطے کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے یہ ردعمل بھارتی آرمی چیف سے منسوب ان حالیہ انٹرویو کے بیانات پر دیا، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر ایک مؤثر ملک ہے، جو ایک باضابطہ جوہری طاقت ہے اور جنوبی ایشیا کے جغرافیہ اور تاریخ کا ایک انمٹ حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ بیان بھارت کی اس عدم قبولیت کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے وجود کو سات دہائیوں کے بعد بھی تسلیم نہیں کر پا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوجی میڈیا ونگ کے مطابق اس طرح کی غرور پر مبنی، جنگجویانہ اور محدود سوچ ماضی میں بھی جنوبی ایشیا کو بار بار جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ کسی خودمختار جوہری ریاست کو جغرافیہ سے مٹانے کی دھمکی دینا اسٹریٹجک سگنلنگ نہیں بلکہ ذہنی صلاحیتوں کی کمزوری، جنون اور جنگ پسندی کی عکاسی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ ایسا کوئی بھی تنازع محدود نہیں رہے گا اور کسی بھی جغرافیائی خاتمے کی کوشش کے نتائج باہمی اور ہمہ گیر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں ذمہ دار جوہری طاقتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ تحمل، بالغ نظری اور اسٹریٹجک ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، نہ کہ تہذیبی برتری یا قومی صفحۂ ہستی مٹانے جیسی زبان استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نے بھارتی قیادت پر زور دیا کہ وہ ایسے حالات پیدا کرنے سے گریز کرے جو خطے میں ایک اور بحران کو جنم دے سکتے ہیں، اور کہا کہ کسی بھی مستقبل کی جنگ کے اثرات جنوبی ایشیا سے باہر بھی سنگین ہوں گے۔ ساتھ ہی نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی علاقائی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کی طرف بڑھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے مزید کہا ورنہ پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کوشش ایسے نتائج کو جنم دے سکتی ہے جو نہ تو جغرافیائی طور پر محدود ہوں گے اور نہ ہی بھارت کے لیے اسٹریٹجک یا سیاسی طور پر قابلِ قبول ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت خطے میں اپنے کردار اور ریکارڈ کو نظر انداز کر رہا ہے، اور اس پر دہشت گردی کی سرپرستی، پڑوسی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے اور عالمی سطح پر غلط معلومات پر مبنی مہمات چلانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی جارحانہ بیان بازی اس بات کی عکاس ہے کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی پر برہم ہے، خاص طور پر گزشتہ سال ہونے والی عسکری کشیدگی معرکۂ حق کے بعد، جس کا حوالہ بیان میں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاک فوج کے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے اتوار کے روز بھارتی آرمی چیف اوپیندر دویدی کے حالیہ بیانات کو سختی سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے اشتعال انگیزقرار دیا اور خبردار کیا کہ جنوبی ایشیا کو ایک اور تنازع کی طرف دھکیلنے کی کوئی بھی کوشش پورے خطے کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔</strong></p>
<p>آئی ایس پی آر نے یہ ردعمل بھارتی آرمی چیف سے منسوب ان حالیہ انٹرویو کے بیانات پر دیا، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر ایک مؤثر ملک ہے، جو ایک باضابطہ جوہری طاقت ہے اور جنوبی ایشیا کے جغرافیہ اور تاریخ کا ایک انمٹ حصہ ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ بیان بھارت کی اس عدم قبولیت کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ پاکستان کے وجود کو سات دہائیوں کے بعد بھی تسلیم نہیں کر پا رہا۔</p>
<p>فوجی میڈیا ونگ کے مطابق اس طرح کی غرور پر مبنی، جنگجویانہ اور محدود سوچ ماضی میں بھی جنوبی ایشیا کو بار بار جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلتی رہی ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ کسی خودمختار جوہری ریاست کو جغرافیہ سے مٹانے کی دھمکی دینا اسٹریٹجک سگنلنگ نہیں بلکہ ذہنی صلاحیتوں کی کمزوری، جنون اور جنگ پسندی کی عکاسی ہے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ ایسا کوئی بھی تنازع محدود نہیں رہے گا اور کسی بھی جغرافیائی خاتمے کی کوشش کے نتائج باہمی اور ہمہ گیر ہوں گے۔</p>
<p>بیان میں ذمہ دار جوہری طاقتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ تحمل، بالغ نظری اور اسٹریٹجک ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، نہ کہ تہذیبی برتری یا قومی صفحۂ ہستی مٹانے جیسی زبان استعمال کریں۔</p>
<p>اس نے بھارتی قیادت پر زور دیا کہ وہ ایسے حالات پیدا کرنے سے گریز کرے جو خطے میں ایک اور بحران کو جنم دے سکتے ہیں، اور کہا کہ کسی بھی مستقبل کی جنگ کے اثرات جنوبی ایشیا سے باہر بھی سنگین ہوں گے۔ ساتھ ہی نئی دہلی پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی علاقائی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے پرامن بقائے باہمی کی طرف بڑھے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے مزید کہا ورنہ پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کوشش ایسے نتائج کو جنم دے سکتی ہے جو نہ تو جغرافیائی طور پر محدود ہوں گے اور نہ ہی بھارت کے لیے اسٹریٹجک یا سیاسی طور پر قابلِ قبول ہوں گے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت خطے میں اپنے کردار اور ریکارڈ کو نظر انداز کر رہا ہے، اور اس پر دہشت گردی کی سرپرستی، پڑوسی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے اور عالمی سطح پر غلط معلومات پر مبنی مہمات چلانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔</p>
<p>آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کی جارحانہ بیان بازی اس بات کی عکاس ہے کہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی پر برہم ہے، خاص طور پر گزشتہ سال ہونے والی عسکری کشیدگی معرکۂ حق کے بعد، جس کا حوالہ بیان میں دیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286385</guid>
      <pubDate>Sun, 17 May 2026 12:08:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/171202085dcde5c.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/171202085dcde5c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
