<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پرنٹڈ ریٹیل پرائس: وزیر خزانہ سے اشیائے خوردونوش کو تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286383/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (سی اے پی) اور فریڈم گیٹ پراسپرٹی (ایف جی پی) نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو آئندہ بجٹ 2026-27 میں سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول (پرنٹڈ ریٹیل پرائس) کے دائرہ کار کو توسیع دینے کی سفارش کی ہے، تاکہ ضروری اشیائے خوردونوش کو بھی اس نظام میں شامل کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں تنظیموں نے الگ الگ بجٹ تجاویز میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کھانے کے تیل، ڈیری مصنوعات، انفنٹ نیوٹریشن اور فریزڈ فوڈز جیسی بنیادی اشیا کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تھرڈ شیڈول میں شامل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی اے پی کے مطابق یہ اشیا روزمرہ استعمال کی بنیادی ضروریات ہیں اور تمام آمدنی کے طبقات کے گھرانوں کی طرف سے مسلسل خریدی جاتی ہیں، جبکہ مہنگائی کے باعث پہلے ہی عوام شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ پرنٹڈ ریٹیل قیمت کے نظام سے قیمتوں میں شفافیت بڑھے گی اور صارفین کو اوورچارجنگ سے تحفظ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی اے پی نے کہا کہ جب کسی مصنوعات پر واضح ریٹیل قیمت درج نہ ہو تو صارفین غیر ضروری اور غیر واضح قیمتوں کے بوجھ کا شکار ہو جاتے ہیں، خاص طور پر دودھ، انفنٹ فارمولا اور ڈیری مصنوعات جیسے حساس شعبوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایف جی پی نے اپنی پالیسی تجویز میں کہا ہے کہ پاکستان کے جی ایس ٹی نظام میں بنیادی خامیاں موجود ہیں، جہاں ریٹیل سیکٹر کا بڑا حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے اور غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز پر عائد اضافی ٹیکس مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم کے مطابق 80 فیصد سے زائد ریٹیلرز ٹیکس نظام سے باہر ہیں، جس کے باعث یہ نظام مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف جی پی نے تجویز دی کہ ضروری اشیا کو تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے سے مینوفیکچرنگ لیول پر ٹیکس وصولی ممکن ہو جائے گی اور ساتھ ہی ہر پروڈکٹ پر پرنٹڈ قیمت لازمی ہو جائے گی، جس سے غیر شفاف قیمتوں اور مصنوعی مہنگائی پر قابو پایا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کنزیومرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (سی اے پی) اور فریڈم گیٹ پراسپرٹی (ایف جی پی) نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو آئندہ بجٹ 2026-27 میں سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول (پرنٹڈ ریٹیل پرائس) کے دائرہ کار کو توسیع دینے کی سفارش کی ہے، تاکہ ضروری اشیائے خوردونوش کو بھی اس نظام میں شامل کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>دونوں تنظیموں نے الگ الگ بجٹ تجاویز میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کھانے کے تیل، ڈیری مصنوعات، انفنٹ نیوٹریشن اور فریزڈ فوڈز جیسی بنیادی اشیا کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تھرڈ شیڈول میں شامل کیا جائے۔</p>
<p>سی اے پی کے مطابق یہ اشیا روزمرہ استعمال کی بنیادی ضروریات ہیں اور تمام آمدنی کے طبقات کے گھرانوں کی طرف سے مسلسل خریدی جاتی ہیں، جبکہ مہنگائی کے باعث پہلے ہی عوام شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ پرنٹڈ ریٹیل قیمت کے نظام سے قیمتوں میں شفافیت بڑھے گی اور صارفین کو اوورچارجنگ سے تحفظ ملے گا۔</p>
<p>سی اے پی نے کہا کہ جب کسی مصنوعات پر واضح ریٹیل قیمت درج نہ ہو تو صارفین غیر ضروری اور غیر واضح قیمتوں کے بوجھ کا شکار ہو جاتے ہیں، خاص طور پر دودھ، انفنٹ فارمولا اور ڈیری مصنوعات جیسے حساس شعبوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔</p>
<p>دوسری جانب ایف جی پی نے اپنی پالیسی تجویز میں کہا ہے کہ پاکستان کے جی ایس ٹی نظام میں بنیادی خامیاں موجود ہیں، جہاں ریٹیل سیکٹر کا بڑا حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے اور غیر رجسٹرڈ ریٹیلرز پر عائد اضافی ٹیکس مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔</p>
<p>تنظیم کے مطابق 80 فیصد سے زائد ریٹیلرز ٹیکس نظام سے باہر ہیں، جس کے باعث یہ نظام مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔</p>
<p>ایف جی پی نے تجویز دی کہ ضروری اشیا کو تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے سے مینوفیکچرنگ لیول پر ٹیکس وصولی ممکن ہو جائے گی اور ساتھ ہی ہر پروڈکٹ پر پرنٹڈ قیمت لازمی ہو جائے گی، جس سے غیر شفاف قیمتوں اور مصنوعی مہنگائی پر قابو پایا جا سکے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286383</guid>
      <pubDate>Sun, 17 May 2026 11:10:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/17110613972c3e4.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/17110613972c3e4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
