<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیک ہولڈرز نے کے-الیکٹرک کے ای او ٹی ایڈجسٹمنٹ دعوؤں پر سنگین تحفظات کا اظہار کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286382/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کے-الیکٹرک کے ملٹی ائیر ٹیرف (ایم وائے ٹی) 2016-23 کے تحت اینڈ آف ٹرم (ای او ٹی) ایڈجسٹمنٹ دعوؤں پر سنگین تحفظات سامنے آئے ہیں، جبکہ اسٹیک ہولڈرز نے غیر ظاہر شدہ دعوے شامل کرنے اور ریگولیٹری کارروائی کے دوران اہم معلومات روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جمع کرائی گئی ایک باضابطہ درخواست میں اسٹیک ہولڈر عارف بلوانی نے ریگولیٹر سے مطالبہ کیا ہے کہ کے-الیکٹرک کی جانب سے ای او ٹی دعوؤں سے متعلق جمع کرائی گئی تمام تازہ رپورٹس، پریزنٹیشنز اور معاون دستاویزات کو مکمل طور پر ظاہر کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایم وائے ٹی فریم ورک اور نیپرا کے بعد ازاں کیے گئے مڈ ائیر ریویو  فیصلے میں کارکردگی کے واضح معیار، نقصانات کے اہداف، سرمایہ کاری کے پیرامیٹرز اور قابلِ اجازت ایڈجسٹمنٹس طے کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مؤقف کے مطابق ان منظور شدہ حدود سے باہر کسی بھی دعوے پر سخت جانچ پڑتال اور شفاف اسٹیک ہولڈر مشاورت لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیک ہولڈر نے نشاندہی کی کہ اگرچہ کے-الیکٹرک کی متعدد رپورٹس اکتوبر 2023 سے جولائی 2025 کے درمیان عوامی رائے کے لیے اپ لوڈ کی گئیں، تاہم کمپنی نے اہم وضاحتیں اور معاون مواد 11 مئی 2026 کو، یعنی سماعت سے چند گھنٹے قبل فراہم کیا، جس سے اسٹیک ہولڈرز کو مؤثر جائزے کا موقع نہیں ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم تنازعہ رائٹ آف دعوؤں سے متعلق ہے۔ کے-الیکٹرک نے اپنی تازہ وضاحت میں کہا کہ ایم وائے ٹی 2017-23 کے تحت رائٹ آف پہلے ہی نیپرا طے کر چکا ہے اور ای او ٹی کے تحت کوئی اضافی رائٹ آف نہیں مانگا جا رہا، تاہم اسٹیک ہولڈر کے مطابق کمپنی کی ابتدائی دستاویزات میں 56.44 ارب روپے کے مجموعی دعوے شامل تھے، جن میں 2023 کے لیے 13.17 ارب روپے کا اضافی رائٹ آف بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر یہ معاملہ پہلے ہی نیپرا کے فیصلوں کے ذریعے حتمی ہو چکا ہے تو پھر ای او ٹی ایڈجسٹمنٹ میں ان رقوم کو دوبارہ شامل کرنے کی قانونی بنیاد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ 12 مئی 2026 کی عوامی سماعت کے دوران نئے دعوؤں کے پیش کیے جانے پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔ اسٹیک ہولڈر کے مطابق کے-الیکٹرک نے ایسے نئے حسابات اور مطالبات پیش کیے جو پہلے عوامی دستاویزات میں موجود نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں تقریباً 43 ارب روپے کا ایک دعویٰ بھی شامل بتایا گیا ہے، جو ورکنگ کیپیٹل کی لاگت سے متعلق ہے اور پہلے دستیاب دستاویزات میں شامل نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات شفافیت، منصفانہ کارروائی اور منصفانہ سماعت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، کیونکہ نیپرا کی کارروائی نیم عدالتی نوعیت کی ہوتی ہے جس میں تمام معلومات پہلے سے فراہم کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ بھی کہا گیا کہ کے-الیکٹرک کی جانب سے ایک اوپن اینڈڈ ایڈجسٹمنٹ میکانزم کی درخواست بھی دی گئی ہے، جس کے تحت مستقبل میں آنے والی اضافی ذمہ داریوں کی وصولی ممکن ہو سکے گی، جسے ایم وائے ٹی نظام کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مؤقف کے مطابق اس طرح کے لامحدود دعوے صارفین پر غیر متوقع مالی بوجھ ڈال سکتے ہیں اور ٹیرف نظام کو مستقل پاس تھرو میکانزم میں تبدیل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیک ہولڈر نے نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام تازہ اور مکمل دستاویزات فوری طور پر عوام کے لیے جاری کی جائیں اور اسٹیک ہولڈرز کو مناسب وقت دیا جائے تاکہ وہ تفصیلی رائے جمع کرا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کے-الیکٹرک کے ملٹی ائیر ٹیرف (ایم وائے ٹی) 2016-23 کے تحت اینڈ آف ٹرم (ای او ٹی) ایڈجسٹمنٹ دعوؤں پر سنگین تحفظات سامنے آئے ہیں، جبکہ اسٹیک ہولڈرز نے غیر ظاہر شدہ دعوے شامل کرنے اور ریگولیٹری کارروائی کے دوران اہم معلومات روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔</strong></p>
<p>نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جمع کرائی گئی ایک باضابطہ درخواست میں اسٹیک ہولڈر عارف بلوانی نے ریگولیٹر سے مطالبہ کیا ہے کہ کے-الیکٹرک کی جانب سے ای او ٹی دعوؤں سے متعلق جمع کرائی گئی تمام تازہ رپورٹس، پریزنٹیشنز اور معاون دستاویزات کو مکمل طور پر ظاہر کیا جائے۔</p>
<p>درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایم وائے ٹی فریم ورک اور نیپرا کے بعد ازاں کیے گئے مڈ ائیر ریویو  فیصلے میں کارکردگی کے واضح معیار، نقصانات کے اہداف، سرمایہ کاری کے پیرامیٹرز اور قابلِ اجازت ایڈجسٹمنٹس طے کیے گئے ہیں۔</p>
<p>اس مؤقف کے مطابق ان منظور شدہ حدود سے باہر کسی بھی دعوے پر سخت جانچ پڑتال اور شفاف اسٹیک ہولڈر مشاورت لازمی ہے۔</p>
<p>اسٹیک ہولڈر نے نشاندہی کی کہ اگرچہ کے-الیکٹرک کی متعدد رپورٹس اکتوبر 2023 سے جولائی 2025 کے درمیان عوامی رائے کے لیے اپ لوڈ کی گئیں، تاہم کمپنی نے اہم وضاحتیں اور معاون مواد 11 مئی 2026 کو، یعنی سماعت سے چند گھنٹے قبل فراہم کیا، جس سے اسٹیک ہولڈرز کو مؤثر جائزے کا موقع نہیں ملا۔</p>
<p>ایک اہم تنازعہ رائٹ آف دعوؤں سے متعلق ہے۔ کے-الیکٹرک نے اپنی تازہ وضاحت میں کہا کہ ایم وائے ٹی 2017-23 کے تحت رائٹ آف پہلے ہی نیپرا طے کر چکا ہے اور ای او ٹی کے تحت کوئی اضافی رائٹ آف نہیں مانگا جا رہا، تاہم اسٹیک ہولڈر کے مطابق کمپنی کی ابتدائی دستاویزات میں 56.44 ارب روپے کے مجموعی دعوے شامل تھے، جن میں 2023 کے لیے 13.17 ارب روپے کا اضافی رائٹ آف بھی شامل ہے۔</p>
<p>درخواست میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر یہ معاملہ پہلے ہی نیپرا کے فیصلوں کے ذریعے حتمی ہو چکا ہے تو پھر ای او ٹی ایڈجسٹمنٹ میں ان رقوم کو دوبارہ شامل کرنے کی قانونی بنیاد کیا ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ 12 مئی 2026 کی عوامی سماعت کے دوران نئے دعوؤں کے پیش کیے جانے پر بھی تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔ اسٹیک ہولڈر کے مطابق کے-الیکٹرک نے ایسے نئے حسابات اور مطالبات پیش کیے جو پہلے عوامی دستاویزات میں موجود نہیں تھے۔</p>
<p>ان میں تقریباً 43 ارب روپے کا ایک دعویٰ بھی شامل بتایا گیا ہے، جو ورکنگ کیپیٹل کی لاگت سے متعلق ہے اور پہلے دستیاب دستاویزات میں شامل نہیں تھا۔</p>
<p>درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات شفافیت، منصفانہ کارروائی اور منصفانہ سماعت کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، کیونکہ نیپرا کی کارروائی نیم عدالتی نوعیت کی ہوتی ہے جس میں تمام معلومات پہلے سے فراہم کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>مزید یہ بھی کہا گیا کہ کے-الیکٹرک کی جانب سے ایک اوپن اینڈڈ ایڈجسٹمنٹ میکانزم کی درخواست بھی دی گئی ہے، جس کے تحت مستقبل میں آنے والی اضافی ذمہ داریوں کی وصولی ممکن ہو سکے گی، جسے ایم وائے ٹی نظام کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>اس مؤقف کے مطابق اس طرح کے لامحدود دعوے صارفین پر غیر متوقع مالی بوجھ ڈال سکتے ہیں اور ٹیرف نظام کو مستقل پاس تھرو میکانزم میں تبدیل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>اسٹیک ہولڈر نے نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام تازہ اور مکمل دستاویزات فوری طور پر عوام کے لیے جاری کی جائیں اور اسٹیک ہولڈرز کو مناسب وقت دیا جائے تاکہ وہ تفصیلی رائے جمع کرا سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286382</guid>
      <pubDate>Sun, 17 May 2026 10:58:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/1710562763ccd14.webp" type="image/webp" medium="image" height="500" width="700">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/1710562763ccd14.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
