<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک چین سرمایہ کاری سفارت کاری، 13 ارب ڈالر کے پائپ لائن پراجیکٹ کو جوائنٹ وینچرز میں بدلنے کی کوشش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286379/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی چین کی جانب سرمایہ کاری سفارت کاری سی پیک فیز-ٹو کے تحت اب بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر سرمایہ کاری پر مبنی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کا مقصد گزشتہ دو برسوں میں تیار ہونے والے 13 ارب ڈالر کے پائپ لائن پراجیکٹ کو مشترکہ منصوبوں، برآمدات اور صنعتی صلاحیت میں تبدیل کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کے مطابق اسلام آباد اب چینی کمپنیوں کے ساتھ سیکٹر مخصوص بزنس کانفرنسز کی ایک نئی سیریز کی تیاری کر رہا ہے۔ ان میں 24 مئی کو ہانگژو میں آئی سی ٹی اور ٹیلی کام کانفرنس، جولائی کے وسط میں کراچی میں فارماسیوٹیکل، بایوٹیکنالوجی اور صحت کے شعبے کی کانفرنس، اگست میں اسلام آباد میں سیمی کنڈکٹرز اور چِپ ڈیزائن جبکہ ستمبر میں سیالکوٹ میں سرجیکل آلات، میڈیکل ایکوپمنٹ اور اسپورٹس گڈز کی کانفرنس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز-ٹو کو زراعت، معدنیات، آئی سی ٹی اور صنعتی تعاون پر مرکوز کیا جا رہا ہے، جس میں ویلیو ایڈیشن اور ایکسپورٹ پر مبنی مینوفیکچرنگ پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق زراعت میں صرف کاشتکاری نہیں بلکہ فوڈ پروسیسنگ، ڈیری، لاجسٹکس، کولڈ چین اور دیگر ویلیو ایڈڈ شعبے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سفیر کے مطابق معدنیات کے شعبے میں خام مال کی برآمد کے بجائے ریفائننگ اور ڈیپ پروسیسنگ پر فوکس کیا جا رہا ہے، جبکہ آئی سی ٹی میں ای کامرس، فِن ٹیک، اے آئی، فائیو جی، فائبر آپٹکس اور موبائل ڈیوائسز شامل ہیں۔ ہانگژو کانفرنس اسی تناظر میں منعقد کی جا رہی ہے کیونکہ یہ چین کا بڑا ٹیکنالوجی حب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے سرمایہ کاری کے لیے سیکٹر بیسڈ پالیسی بُک تیار کی ہیں اور اب ایم او یوز کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے فالو اپ کا ایک تین سطحی نظام بھی متعارف کرایا ہے، جس میں بی او آئی، ایس آئی ایف سی اور وزیراعظم کی سطح پر نگرانی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکس، ٹیرف، یوٹیلیٹی لاگت اور پالیسی تسلسل جیسے مسائل پر اصلاحات کی ضرورت ہے، کیونکہ سرمایہ کار پاکستان کا موازنہ خطے کے دیگر ممالک سے کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پالیسی استحکام اور برآمدی مسابقت کے بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی چین کی جانب سرمایہ کاری سفارت کاری سی پیک فیز-ٹو کے تحت اب بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھ کر سرمایہ کاری پر مبنی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کا مقصد گزشتہ دو برسوں میں تیار ہونے والے 13 ارب ڈالر کے پائپ لائن پراجیکٹ کو مشترکہ منصوبوں، برآمدات اور صنعتی صلاحیت میں تبدیل کرنا ہے۔</strong></p>
<p>چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کے مطابق اسلام آباد اب چینی کمپنیوں کے ساتھ سیکٹر مخصوص بزنس کانفرنسز کی ایک نئی سیریز کی تیاری کر رہا ہے۔ ان میں 24 مئی کو ہانگژو میں آئی سی ٹی اور ٹیلی کام کانفرنس، جولائی کے وسط میں کراچی میں فارماسیوٹیکل، بایوٹیکنالوجی اور صحت کے شعبے کی کانفرنس، اگست میں اسلام آباد میں سیمی کنڈکٹرز اور چِپ ڈیزائن جبکہ ستمبر میں سیالکوٹ میں سرجیکل آلات، میڈیکل ایکوپمنٹ اور اسپورٹس گڈز کی کانفرنس شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز-ٹو کو زراعت، معدنیات، آئی سی ٹی اور صنعتی تعاون پر مرکوز کیا جا رہا ہے، جس میں ویلیو ایڈیشن اور ایکسپورٹ پر مبنی مینوفیکچرنگ پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق زراعت میں صرف کاشتکاری نہیں بلکہ فوڈ پروسیسنگ، ڈیری، لاجسٹکس، کولڈ چین اور دیگر ویلیو ایڈڈ شعبے شامل ہیں۔</p>
<p>پاکستانی سفیر کے مطابق معدنیات کے شعبے میں خام مال کی برآمد کے بجائے ریفائننگ اور ڈیپ پروسیسنگ پر فوکس کیا جا رہا ہے، جبکہ آئی سی ٹی میں ای کامرس، فِن ٹیک، اے آئی، فائیو جی، فائبر آپٹکس اور موبائل ڈیوائسز شامل ہیں۔ ہانگژو کانفرنس اسی تناظر میں منعقد کی جا رہی ہے کیونکہ یہ چین کا بڑا ٹیکنالوجی حب ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے سرمایہ کاری کے لیے سیکٹر بیسڈ پالیسی بُک تیار کی ہیں اور اب ایم او یوز کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ حکومت نے فالو اپ کا ایک تین سطحی نظام بھی متعارف کرایا ہے، جس میں بی او آئی، ایس آئی ایف سی اور وزیراعظم کی سطح پر نگرانی شامل ہے۔</p>
<p>سفیر نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکس، ٹیرف، یوٹیلیٹی لاگت اور پالیسی تسلسل جیسے مسائل پر اصلاحات کی ضرورت ہے، کیونکہ سرمایہ کار پاکستان کا موازنہ خطے کے دیگر ممالک سے کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پالیسی استحکام اور برآمدی مسابقت کے بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286379</guid>
      <pubDate>Sun, 17 May 2026 10:28:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نزہت نذر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/171024355b0f973.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/171024355b0f973.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
