<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیل نے جنگ بندی میں توسیع کے ایک روز بعد جنوبی لبنان پر حملہ کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286375/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل نے ہفتے کے روز جنوبی لبنان پر فضائی حملوں کا ایک بڑا سلسلہ شروع کر دیا جبکہ ایک روز پہلے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم حملوں سے قبل نو دیہات پر مشتمل علاقے کے لیے انخلا کی وارننگ جاری کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلسل بمباری نے جنوبی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں لبنانی شہریوں میں جنگ بندی کے حوالے سے پہلے سے موجود شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان کی سرکاری خبر ایجنسی (این این اے) کے مطابق ہفتے کے روز دو درجن سے زائد دیہات پر حملے رپورٹ ہوئے، جن میں بعض علاقے ایسے بھی شامل ہیں جو سرحد سے 50 کلومیٹر (30 میل) سے زیادہ فاصلے پر واقع ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بمباری کے بعد جنوبی شہر صیدا اور دارالحکومت بیروت کی جانب شہریوں کی ایک نئی نقل مکانی شروع ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے روز دونوں ممالک نے 17 اپریل سے جاری جنگ بندی میں مزید 45 روز کی توسیع پر اتفاق کیا تھا، تاہم یہ معاہدہ متعدد خلاف ورزیوں کی زد میں رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس توسیع کا خیر مقدم کرتے ہوئے تمام فریقین سے دشمنی کے خاتمے کے معاہدے کی مکمل پاسداری کی اپیل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ بندی کے باوجود اسرائیل لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اس کی افواج سرحد کے قریب بعض علاقوں پر موجود بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنانی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں لبنان میں 2,900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 400 سے زائد وہ افراد بھی شامل ہیں جو جنگ بندی کے بعد مارے گئے۔ دوسری جانب اسرائیل نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ لڑائی شروع ہونے کے بعد اس کے 19 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تازہ حملے اس وقت ہوئے ہیں جب اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں نے واشنگٹن میں مذاکرات کیے تھے، جو دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں بعد ہونے والے پہلے براہِ راست رابطے تھے، کیونکہ دونوں کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں۔ ان مذاکرات میں جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حزب اللہ نے ان مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ اس نے لبنانی قصبے خیام میں اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کیا ہے، جسے اس نے اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا جواب قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کی سہولت سے سیکیورٹی فریم ورک کی تجویز لبنانی حکومت کی جانب سے “دشمن کو دی جانے والی یکطرفہ رعایتوں” کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ ”بہت سے لبنانی اس راستے کے ذریعے جنگ بندی میں توسیع کو اپنے جاری قتل عام کے تسلسل اور اپنی سرزمین پر جارحیت کے لیے ایک پردہ سمجھتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی لبنان سے بے گھر ہونے والے افراد کا کہنا ہے کہ جنگ بندی پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیروت کے ایک اسکول میں پناہ لیے ہوئے 60 سالہ علی سلامہ، جو جنگ کے آغاز سے ہی بے گھر ہیں، نے کہا کہ “یہ کوئی جنگ بندی نہیں جب تک اسرائیلی حملے جنوب اور اس کے عوام کے خلاف جاری ہیں، جن میں ہلاکتیں، زخمی اور تباہی شامل ہے۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”یہ کیسی جنگ بندی ہے جب دیہات کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور لوگ دوبارہ نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں؟ ریاست کہاں ہے؟ ہم صرف مزاحمت کے ساتھ کھڑے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی لبنان سے بے گھر ہونے والی ایک اور شہری نوال مظہر نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں جنگ بندی محض نام کی حد تک ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل نے ہفتے کے روز جنوبی لبنان پر فضائی حملوں کا ایک بڑا سلسلہ شروع کر دیا جبکہ ایک روز پہلے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا گیا تھا۔</strong></p>
<p>اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم حملوں سے قبل نو دیہات پر مشتمل علاقے کے لیے انخلا کی وارننگ جاری کی گئی تھی۔</p>
<p>مسلسل بمباری نے جنوبی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں لبنانی شہریوں میں جنگ بندی کے حوالے سے پہلے سے موجود شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>لبنان کی سرکاری خبر ایجنسی (این این اے) کے مطابق ہفتے کے روز دو درجن سے زائد دیہات پر حملے رپورٹ ہوئے، جن میں بعض علاقے ایسے بھی شامل ہیں جو سرحد سے 50 کلومیٹر (30 میل) سے زیادہ فاصلے پر واقع ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بمباری کے بعد جنوبی شہر صیدا اور دارالحکومت بیروت کی جانب شہریوں کی ایک نئی نقل مکانی شروع ہو گئی ہے۔</p>
<p>جمعے کے روز دونوں ممالک نے 17 اپریل سے جاری جنگ بندی میں مزید 45 روز کی توسیع پر اتفاق کیا تھا، تاہم یہ معاہدہ متعدد خلاف ورزیوں کی زد میں رہا ہے۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس توسیع کا خیر مقدم کرتے ہوئے تمام فریقین سے دشمنی کے خاتمے کے معاہدے کی مکمل پاسداری کی اپیل کی ہے۔</p>
<p>جنگ بندی کے باوجود اسرائیل لبنان میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اس کی افواج سرحد کے قریب بعض علاقوں پر موجود بھی ہیں۔</p>
<p>لبنانی حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی حملوں میں لبنان میں 2,900 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 400 سے زائد وہ افراد بھی شامل ہیں جو جنگ بندی کے بعد مارے گئے۔ دوسری جانب اسرائیل نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ لڑائی شروع ہونے کے بعد اس کے 19 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔</p>
<p>یہ تازہ حملے اس وقت ہوئے ہیں جب اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں نے واشنگٹن میں مذاکرات کیے تھے، جو دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں بعد ہونے والے پہلے براہِ راست رابطے تھے، کیونکہ دونوں کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں۔ ان مذاکرات میں جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق ہوا تھا۔</p>
<p>حزب اللہ نے ان مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ اس نے لبنانی قصبے خیام میں اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کیا ہے، جسے اس نے اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا جواب قرار دیا۔</p>
<p>تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کی سہولت سے سیکیورٹی فریم ورک کی تجویز لبنانی حکومت کی جانب سے “دشمن کو دی جانے والی یکطرفہ رعایتوں” کے سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ ”بہت سے لبنانی اس راستے کے ذریعے جنگ بندی میں توسیع کو اپنے جاری قتل عام کے تسلسل اور اپنی سرزمین پر جارحیت کے لیے ایک پردہ سمجھتے ہیں۔“</p>
<p>جنوبی لبنان سے بے گھر ہونے والے افراد کا کہنا ہے کہ جنگ بندی پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔</p>
<p>بیروت کے ایک اسکول میں پناہ لیے ہوئے 60 سالہ علی سلامہ، جو جنگ کے آغاز سے ہی بے گھر ہیں، نے کہا کہ “یہ کوئی جنگ بندی نہیں جب تک اسرائیلی حملے جنوب اور اس کے عوام کے خلاف جاری ہیں، جن میں ہلاکتیں، زخمی اور تباہی شامل ہے۔”</p>
<p>انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”یہ کیسی جنگ بندی ہے جب دیہات کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور لوگ دوبارہ نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں؟ ریاست کہاں ہے؟ ہم صرف مزاحمت کے ساتھ کھڑے ہیں۔“</p>
<p>جنوبی لبنان سے بے گھر ہونے والی ایک اور شہری نوال مظہر نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں جنگ بندی محض نام کی حد تک ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286375</guid>
      <pubDate>Sun, 17 May 2026 01:03:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/1700412018813ff.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/1700412018813ff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
