<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 18:13:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 18:13:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ چین سے استحکام کے دعوؤں اور تعطل کی حقیقت کے ساتھ واپس لوٹ آئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286368/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رواں ہفتے بیجنگ کا دورہ اگرچہ امریکا اور چین سربراہ اجلاسوں کے معیار کے مطابق محدود نتائج کا حامل رہا، تاہم اس نے چین کے لیے ایک واضح فائدہ نمایاں کر دیا: گزشتہ سال کی تجارتی جنگ کی شدید کشیدگی کے بعد دونوں ممالک ایک بار پھر اپنے روایتی معاشی اور تزویراتی تعطل کی کیفیت میں واپس آ گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ اور چینی رہنما شی جن پنگ کے درمیان دو روزہ مذاکرات نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا کہ گزشتہ سال ٹرمپ کے ”یومِ آزادی“ ٹیرفس اور اس کے بعد ہونے والی تجارتی کشیدگی میں کمی کے باوجود، واشنگٹن اور بیجنگ اب بھی اسی اسٹریٹجک مقابلے میں جکڑے ہوئے ہیں جو ٹرمپ کو اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر ورثے میں ملا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلقات کے سب سے تشویشناک پہلو، چین کی مبینہ تجارتی پالیسیوں سے لے کر انڈو پیسفک میں اس کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ تک، اب بھی بڑی حد تک حل طلب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ صدر شی جن پنگ کے لیے یہ صورتِ حال نسبتاً گنجائش اور ایک زیادہ قابلِ پیش گوئی چیلنجز کے فریم ورک کی واپسی کا اشارہ ہے۔ اس ہفتے انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے ایک نئے تصور ”تعمیراتی اسٹریٹجک استحکام“ کا ذکر بھی کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="تجارتی-جنگ-میں-وقتی-جنگ-بندی" href="#تجارتی-جنگ-میں-وقتی-جنگ-بندی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;تجارتی جنگ میں وقتی جنگ بندی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں قائم سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے چین امور کے ماہر اسکاٹ کینیڈی کے مطابق اس تناظر میں چین نسبتاً بہتر پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے 2025 کے آغاز میں تجارتی محاذ پر جس جارحانہ حکمتِ عملی کا آغاز کیا تھا، اس میں واضح نرمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”گزشتہ سال کے مقابلے میں جب 145 فیصد ٹیرفس عائد تھے اور امریکا چین سمیت پوری دنیا کو بنیادی طور پر بدلنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اب ہم ایک طرح کے ریورس رجحان میں ہیں اور دوبارہ استحکام کی کیفیت میں واپس آ گئے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے جمعرات اور جمعے کو ہونے والے اس سربراہی اجلاس میں امریکا کی بڑی کاروباری شخصیات، جن میں ٹیسلا کے ایلون مسک اور این ویڈیا کے جینسن ہوانگ شامل تھے، کو بھی ساتھ لائے تھے، تاہم ان کے لیے یہ دورہ زیادہ تر ایک پرتکلف ضیافت کے سوا کوئی نمایاں نتیجہ نہیں دے سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ایران میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بھی چین کی جانب سے امریکا کی کسی مدد کا کوئی واضح وعدہ سامنے نہیں آیا، جس نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور ٹرمپ کی مقبولیت پر بھی اثر ڈالا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے چین امور کے ماہر کریگ سنگلٹن کے مطابق، ”یہ سربراہی اجلاس استحکام کا تاثر ضرور دیتا ہے لیکن اس نے تعطل کو برقرار رکھا ہے۔“ ان کے بقول اس سے جو نتائج سامنے آئے وہ ”محدود، قابلِ فروخت اور کنٹرول شدہ“ نوعیت کے تھے، اور اس وقت امریکا چین تعلقات اسی سطح کے نتائج برداشت کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ اپنے مثبت تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے امریکی عوام کے لیے عملی فوائد حاصل کیے، جن میں بوئنگ طیاروں کی فروخت اور زرعی برآمدات کے معاہدے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو ”واضح، گہرا، تعمیری اور اسٹریٹجک“ قرار دیا اور کہا کہ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو درست سمت میں لے جانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق گزشتہ سال کی تجارتی جنگ میں ٹرمپ نے ٹیرف کے ذریعے چین کو یکطرفہ رعایت دینے پر مجبور کرنے کی اپنی صلاحیت کو حد سے زیادہ سمجھا تھا۔ تاہم چین نے جوابی ٹیرف عائد کیے اور امریکا کی صنعتوں کے لیے اہم معدنیات کی ترسیل محدود کرنے کی دھمکی بھی دی، جس سے ایک غیر مستحکم تعطل پیدا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے چین کے بڑے بینکوں پر پابندیوں اور دیگر مالی و تکنیکی دباؤ جیسے اقدامات کے معاشی اثرات برداشت کرنے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی میں اس تبدیلی کی عکاسی اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس ہفتے کئی دیرینہ امریکی مطالبات، جیسے چین کی صنعتی اضافی پیداوار کا مسئلہ، کھلے طور پر زیرِ بحث نہیں آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین اس نازک جنگ بندی سے مطمئن دکھائی دیتا ہے، کیونکہ وہ اندرونی طور پر کمزور معیشت سے نمٹ رہا ہے اور ان ٹیکنالوجیز کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جنہیں وہ امریکا کے ساتھ طویل المدتی مقابلے میں فیصلہ کن سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں نے ملاقات سے قبل ہی بڑے نتائج کی توقعات کو کم کرتے ہوئے کہا تھا کہ تجارتی جنگ بندی میں توسیع کے لیے کوئی جلدی نہیں ہے، حالانکہ اس معاہدے کی مدت پانچ ماہ بعد ختم ہو رہی ہے۔ یہ جنگ بندی گزشتہ اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ہونے والی بات چیت کے بعد طے پائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;”توقعات سے کم“&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی مذاکرات سے واقف ایک شخص کے مطابق چین جنگ بندی میں طویل توسیع چاہتا تھا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ اس پر آمادہ نہیں تھی۔ اسی طرح بیجنگ نے زیر التوا امریکی تحقیقات پر بھی یقین دہانیوں کا مطالبہ کیا، جن کے نتیجے میں اس سال امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے کالعدم قرار دیے گئے بعض محصولات دوبارہ نافذ کیے جا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر دونوں فریقوں نے سربراہی اجلاس میں زیادہ کچھ پیش نہیں کیا، اور بعض تجارتی معاہدوں کو ممکنہ طور پر خزاں تک مؤخر کیا جا سکتا ہے، جب چینی صدر شی جن پنگ کے وائٹ ہاؤس کے جوابی دورے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ذرائع اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ مذاکرات پر کھل کر بات کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے محدود تجارتی نتائج 2017 میں ٹرمپ کے دورۂ چین کے برعکس ہیں، جب ان کے ہمراہ آنے والی کمپنیوں نے تقریباً 250 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بار ملاقات میں چین کو این ویڈیا کے جدید ترین ایچ 200 مصنوعی ذہانت چپس کی فروخت پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جسے واشنگٹن میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں حلقوں کے چین مخالف رہنما ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، لیکن ٹرمپ نے کہا ہے کہ بوئنگ نے چین کے ساتھ 200 طیاروں کی فروخت کا معاہدہ کر لیا ہے، جو نہ صرف متوقع 500 سے کم ہے بلکہ 2017 کے دورے میں طے پانے والے 300 طیاروں کے معاہدے سے بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ امریکا نے ایک نیا ”بورڈ آف ٹریڈ“ قائم کیا ہے، جسے امریکی حکام کے مطابق غیر حساس اشیا پر محصولات میں کمی کے لیے ایک مشترکہ میکانزم کے طور پر استعمال کیا جائے گا، تاہم اس کی تفصیلات محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق قائم مقام امریکی تجارتی نمائندہ وینڈی کٹلر نے ان معاشی نتائج کو ”توقعات سے کم“ قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب چین کے لیے یہ ملاقاتیں زیادہ واضح اور حقیقت پسندانہ مسابقت کی سمت ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔ رینمن یونیورسٹی بیجنگ کے بین الاقوامی امور کے پروفیسر کیوئی شو جون کے مطابق یہ اجلاس اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ اب ”چین،امریکا تعلقات کو کسی تعاون پر مبنی سنہری دور کی طرف واپس لے جانے کے خواہاں نہیں، بلکہ طویل المدتی مقابلے اور اختلاف کی حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رواں ہفتے بیجنگ کا دورہ اگرچہ امریکا اور چین سربراہ اجلاسوں کے معیار کے مطابق محدود نتائج کا حامل رہا، تاہم اس نے چین کے لیے ایک واضح فائدہ نمایاں کر دیا: گزشتہ سال کی تجارتی جنگ کی شدید کشیدگی کے بعد دونوں ممالک ایک بار پھر اپنے روایتی معاشی اور تزویراتی تعطل کی کیفیت میں واپس آ گئے ہیں۔</strong></p>
<p>ٹرمپ اور چینی رہنما شی جن پنگ کے درمیان دو روزہ مذاکرات نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا کہ گزشتہ سال ٹرمپ کے ”یومِ آزادی“ ٹیرفس اور اس کے بعد ہونے والی تجارتی کشیدگی میں کمی کے باوجود، واشنگٹن اور بیجنگ اب بھی اسی اسٹریٹجک مقابلے میں جکڑے ہوئے ہیں جو ٹرمپ کو اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز پر ورثے میں ملا تھا۔</p>
<p>امریکا کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلقات کے سب سے تشویشناک پہلو، چین کی مبینہ تجارتی پالیسیوں سے لے کر انڈو پیسفک میں اس کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ تک، اب بھی بڑی حد تک حل طلب ہیں۔</p>
<p>جبکہ صدر شی جن پنگ کے لیے یہ صورتِ حال نسبتاً گنجائش اور ایک زیادہ قابلِ پیش گوئی چیلنجز کے فریم ورک کی واپسی کا اشارہ ہے۔ اس ہفتے انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے ایک نئے تصور ”تعمیراتی اسٹریٹجک استحکام“ کا ذکر بھی کیا۔</p>
<h3><a id="تجارتی-جنگ-میں-وقتی-جنگ-بندی" href="#تجارتی-جنگ-میں-وقتی-جنگ-بندی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>تجارتی جنگ میں وقتی جنگ بندی</h3>
<p>واشنگٹن میں قائم سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے چین امور کے ماہر اسکاٹ کینیڈی کے مطابق اس تناظر میں چین نسبتاً بہتر پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے 2025 کے آغاز میں تجارتی محاذ پر جس جارحانہ حکمتِ عملی کا آغاز کیا تھا، اس میں واضح نرمی آئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”گزشتہ سال کے مقابلے میں جب 145 فیصد ٹیرفس عائد تھے اور امریکا چین سمیت پوری دنیا کو بنیادی طور پر بدلنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اب ہم ایک طرح کے ریورس رجحان میں ہیں اور دوبارہ استحکام کی کیفیت میں واپس آ گئے ہیں۔“</p>
<p>ٹرمپ نے جمعرات اور جمعے کو ہونے والے اس سربراہی اجلاس میں امریکا کی بڑی کاروباری شخصیات، جن میں ٹیسلا کے ایلون مسک اور این ویڈیا کے جینسن ہوانگ شامل تھے، کو بھی ساتھ لائے تھے، تاہم ان کے لیے یہ دورہ زیادہ تر ایک پرتکلف ضیافت کے سوا کوئی نمایاں نتیجہ نہیں دے سکا۔</p>
<p>اجلاس میں ایران میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بھی چین کی جانب سے امریکا کی کسی مدد کا کوئی واضح وعدہ سامنے نہیں آیا، جس نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور ٹرمپ کی مقبولیت پر بھی اثر ڈالا ہے۔</p>
<p>فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے چین امور کے ماہر کریگ سنگلٹن کے مطابق، ”یہ سربراہی اجلاس استحکام کا تاثر ضرور دیتا ہے لیکن اس نے تعطل کو برقرار رکھا ہے۔“ ان کے بقول اس سے جو نتائج سامنے آئے وہ ”محدود، قابلِ فروخت اور کنٹرول شدہ“ نوعیت کے تھے، اور اس وقت امریکا چین تعلقات اسی سطح کے نتائج برداشت کر سکتے ہیں۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کے ساتھ اپنے مثبت تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے امریکی عوام کے لیے عملی فوائد حاصل کیے، جن میں بوئنگ طیاروں کی فروخت اور زرعی برآمدات کے معاہدے شامل ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے دونوں رہنماؤں کی ملاقات کو ”واضح، گہرا، تعمیری اور اسٹریٹجک“ قرار دیا اور کہا کہ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو درست سمت میں لے جانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق گزشتہ سال کی تجارتی جنگ میں ٹرمپ نے ٹیرف کے ذریعے چین کو یکطرفہ رعایت دینے پر مجبور کرنے کی اپنی صلاحیت کو حد سے زیادہ سمجھا تھا۔ تاہم چین نے جوابی ٹیرف عائد کیے اور امریکا کی صنعتوں کے لیے اہم معدنیات کی ترسیل محدود کرنے کی دھمکی بھی دی، جس سے ایک غیر مستحکم تعطل پیدا ہوا۔</p>
<p>اس کے بعد وائٹ ہاؤس نے چین کے بڑے بینکوں پر پابندیوں اور دیگر مالی و تکنیکی دباؤ جیسے اقدامات کے معاشی اثرات برداشت کرنے سے گریز کیا۔</p>
<p>پالیسی میں اس تبدیلی کی عکاسی اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس ہفتے کئی دیرینہ امریکی مطالبات، جیسے چین کی صنعتی اضافی پیداوار کا مسئلہ، کھلے طور پر زیرِ بحث نہیں آئے۔</p>
<p>چین اس نازک جنگ بندی سے مطمئن دکھائی دیتا ہے، کیونکہ وہ اندرونی طور پر کمزور معیشت سے نمٹ رہا ہے اور ان ٹیکنالوجیز کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جنہیں وہ امریکا کے ساتھ طویل المدتی مقابلے میں فیصلہ کن سمجھتا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں نے ملاقات سے قبل ہی بڑے نتائج کی توقعات کو کم کرتے ہوئے کہا تھا کہ تجارتی جنگ بندی میں توسیع کے لیے کوئی جلدی نہیں ہے، حالانکہ اس معاہدے کی مدت پانچ ماہ بعد ختم ہو رہی ہے۔ یہ جنگ بندی گزشتہ اکتوبر میں جنوبی کوریا میں ہونے والی بات چیت کے بعد طے پائی تھی۔</p>
<p><strong>”توقعات سے کم“</strong></p>
<p>تجارتی مذاکرات سے واقف ایک شخص کے مطابق چین جنگ بندی میں طویل توسیع چاہتا تھا، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ اس پر آمادہ نہیں تھی۔ اسی طرح بیجنگ نے زیر التوا امریکی تحقیقات پر بھی یقین دہانیوں کا مطالبہ کیا، جن کے نتیجے میں اس سال امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے کالعدم قرار دیے گئے بعض محصولات دوبارہ نافذ کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر دونوں فریقوں نے سربراہی اجلاس میں زیادہ کچھ پیش نہیں کیا، اور بعض تجارتی معاہدوں کو ممکنہ طور پر خزاں تک مؤخر کیا جا سکتا ہے، جب چینی صدر شی جن پنگ کے وائٹ ہاؤس کے جوابی دورے کی توقع ہے۔</p>
<p>یہ ذرائع اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ مذاکرات پر کھل کر بات کر رہے تھے۔</p>
<p>اجلاس کے محدود تجارتی نتائج 2017 میں ٹرمپ کے دورۂ چین کے برعکس ہیں، جب ان کے ہمراہ آنے والی کمپنیوں نے تقریباً 250 ارب ڈالر مالیت کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔</p>
<p>اس بار ملاقات میں چین کو این ویڈیا کے جدید ترین ایچ 200 مصنوعی ذہانت چپس کی فروخت پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جسے واشنگٹن میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں حلقوں کے چین مخالف رہنما ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی، لیکن ٹرمپ نے کہا ہے کہ بوئنگ نے چین کے ساتھ 200 طیاروں کی فروخت کا معاہدہ کر لیا ہے، جو نہ صرف متوقع 500 سے کم ہے بلکہ 2017 کے دورے میں طے پانے والے 300 طیاروں کے معاہدے سے بھی کم ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ امریکا نے ایک نیا ”بورڈ آف ٹریڈ“ قائم کیا ہے، جسے امریکی حکام کے مطابق غیر حساس اشیا پر محصولات میں کمی کے لیے ایک مشترکہ میکانزم کے طور پر استعمال کیا جائے گا، تاہم اس کی تفصیلات محدود ہیں۔</p>
<p>سابق قائم مقام امریکی تجارتی نمائندہ وینڈی کٹلر نے ان معاشی نتائج کو ”توقعات سے کم“ قرار دیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب چین کے لیے یہ ملاقاتیں زیادہ واضح اور حقیقت پسندانہ مسابقت کی سمت ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔ رینمن یونیورسٹی بیجنگ کے بین الاقوامی امور کے پروفیسر کیوئی شو جون کے مطابق یہ اجلاس اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ اب ”چین،امریکا تعلقات کو کسی تعاون پر مبنی سنہری دور کی طرف واپس لے جانے کے خواہاں نہیں، بلکہ طویل المدتی مقابلے اور اختلاف کی حقیقت کو تسلیم کر رہے ہیں۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286368</guid>
      <pubDate>Sat, 16 May 2026 20:27:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/16200727fed13e0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/16200727fed13e0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
