<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:22:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:22:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپی ممالک آبنائے ہرمز ٹرانزٹ کے لیے تہران سے مذاکرات میں مصروف ہیں، ایرانی سرکاری ٹی وی کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286367/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ یورپی ممالک آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے معاملے پر تہران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاستی ٹی وی کے مطابق ”مشرقی ایشیائی ممالک، بالخصوص چین، جاپان اور پاکستان کے بحری جہازوں کی آمد کے بعد آج ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یورپی ممالک نے بھی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں“ تاکہ انہیں گزرنے کی اجازت حاصل ہو سکے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سے یورپی ممالک اس عمل میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلط جنگ کے بعد اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے بحری آمد و رفت کو بڑی حد تک محدود کر دیا ہے۔ 8 اپریل سے ایک کمزور جنگ بندی برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس گزرگاہ پر ایران کی گرفت نے عالمی منڈیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور تہران کو نمایاں سفارتی و معاشی اثر و رسوخ فراہم کیا ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی بھی عائد کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امن کے زمانے میں یہ راستہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کے ساتھ ساتھ دیگر اہم اشیا کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایران نے حالیہ دنوں میں درجنوں بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے، جن میں چین کے جہاز بھی شامل ہیں، ”یہ اجازت آبنائے ہرمز کے انتظامی پروٹوکول پر معاہدے کے بعد دی گئی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ اس گزرگاہ سے بحری ٹریفک اپنی ”جنگ سے قبل کی صورتحال میں واپس نہیں جائے گی“، اور گزشتہ ماہ اس نے بتایا تھا کہ اسے اس راستے سے حاصل ہونے والی فیس کی پہلی آمدن بھی موصول ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے انتظام کے لیے ایک ”پیشہ ورانہ نظام“ تیار کر لیا ہے، جسے جلد منظرِ عام پر لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق اس نظام کے تحت صرف تجارتی بحری جہاز اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے فریقین ہی فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ خصوصی خدمات کے لیے باقاعدہ فیس وصول کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ راستہ نام نہاد ”فریڈم پروجیکٹ“ کے آپریٹرز کے لیے بند رہے گا، جس سے مراد امریکی فوجی آپریشن ہے جو عارضی طور پر پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو اس گزرگاہ سے گزارنے کے لیے کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ یورپی ممالک آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کے معاملے پر تہران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ریاستی ٹی وی کے مطابق ”مشرقی ایشیائی ممالک، بالخصوص چین، جاپان اور پاکستان کے بحری جہازوں کی آمد کے بعد آج ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یورپی ممالک نے بھی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں“ تاکہ انہیں گزرنے کی اجازت حاصل ہو سکے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سے یورپی ممالک اس عمل میں شامل ہیں۔</p>
<p>ایران نے 28 فروری سے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلط جنگ کے بعد اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے بحری آمد و رفت کو بڑی حد تک محدود کر دیا ہے۔ 8 اپریل سے ایک کمزور جنگ بندی برقرار ہے۔</p>
<p>اس گزرگاہ پر ایران کی گرفت نے عالمی منڈیوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور تہران کو نمایاں سفارتی و معاشی اثر و رسوخ فراہم کیا ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی بھی عائد کر رکھی ہے۔</p>
<p>امن کے زمانے میں یہ راستہ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کے ساتھ ساتھ دیگر اہم اشیا کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔</p>
<p>پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایران نے حالیہ دنوں میں درجنوں بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے، جن میں چین کے جہاز بھی شامل ہیں، ”یہ اجازت آبنائے ہرمز کے انتظامی پروٹوکول پر معاہدے کے بعد دی گئی ہے۔“</p>
<p>جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ اس گزرگاہ سے بحری ٹریفک اپنی ”جنگ سے قبل کی صورتحال میں واپس نہیں جائے گی“، اور گزشتہ ماہ اس نے بتایا تھا کہ اسے اس راستے سے حاصل ہونے والی فیس کی پہلی آمدن بھی موصول ہو چکی ہے۔</p>
<p>ہفتے کے روز ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے انتظام کے لیے ایک ”پیشہ ورانہ نظام“ تیار کر لیا ہے، جسے جلد منظرِ عام پر لایا جائے گا۔</p>
<p>ان کے مطابق اس نظام کے تحت صرف تجارتی بحری جہاز اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے فریقین ہی فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ خصوصی خدمات کے لیے باقاعدہ فیس وصول کی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ راستہ نام نہاد ”فریڈم پروجیکٹ“ کے آپریٹرز کے لیے بند رہے گا، جس سے مراد امریکی فوجی آپریشن ہے جو عارضی طور پر پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو اس گزرگاہ سے گزارنے کے لیے کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286367</guid>
      <pubDate>Sat, 16 May 2026 20:04:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/16195615a397156.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/16195615a397156.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
