<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاف لیول معاہدے کی دستاویزات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286361/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے 7 ارب ڈالر کے جاری توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تیسرے جائزے کے حوالے سے اسٹاف لیول معاہدے (ایس ایل اے) کی دستاویزات 16 مئی کی علی الصبح اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیں۔یہ اقدام بورڈ کی جانب سے 9 مئی کو انہی دستاویزات کی بنیاد پر قسط جاری کرنے کی باضابطہ منظوری کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا۔ معاہدے کا اعلان خود 27 مارچ کو کیا گیا تھا جب کہ 7 ہفتوں کی تاخیر کو آزاد ماہرینِ معاشیات حکام کی جانب سے پیشگی شرائط پر عملدرآمد سے مشروط قرار دے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی ہی دو شرائط سامنے آئی ہیں، خاص طور پر جولائی سے اپریل کے دوران 683 ارب روپے کے شارٹ فال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف بی آر کے حق میں عدالتی فیصلوں کے ذریعے واجب الادا ٹیکس ریونیو وصول کر کے وسائل اکٹھے کرنے کے اقدامات (جو کہ جی ڈی پی کا 0.3 فیصد ہیں اور ان کا بڑا حصہ سپر ٹیکس سے حاصل ہونا ہے)، تاہم رپورٹس اشارہ کرتی ہیں کہ قانونی چارہ جوئی اب بھی جاری ہے جو کہ مقدمہ دائر کرنے والوں کے حق میں بھی ختم ہوسکتی ہے۔ مزید برآں اخراجات کی حدوں میں بھی نظرثانی کی گئی ہے (جی ڈی پی کا 0.1 فیصد) اگرچہ یہ کٹوتی مکمل طور پر ترقیاتی اخراجات سے کی گئی ہے جس کے معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، بجائے اس کے کہ جاری (سرکاری) اخراجات میں کمی کی جاتی۔ اس کے علاوہ ملکی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کو روکنے کے لیے سبسڈیز امتیازی اور مالیاتی طور پر ناقابلِ برداشت ہیں، اگرچہ اس حقیقت کو اجاگر نہیں کیا گیا کہ ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال اب یہ ہے کہ کیا یہ پیشگی شرائط اور آئندہ جائزے سے پہلے پوری کی جانے والی دیگر شرائط اپنی اصل حالت میں برقرار رہیں گی، یا پھر مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جنگی صورتحال کے پیشِ نظر ان میں کوئی نرمی کی جائے گی؛ خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام خود یہ یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ وہ بحرانی حالات سے گزرنے والے رکن ممالک کو پہلے سے بڑھ کر ریلیف اور تعاون فراہم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بظاہر آئی ایم ایف کی جانب سے دی جانے والی رعایت صرف مجموعی معاشی تخمینوں تک ہی محدود نظر آتی ہے، جہاں حیرت انگیز طور پر رواں سال کے لیے ملکی ترقی کا ہدف 3.2 فیصد سے بڑھا کر 3.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس دعوے کی بنیاد فروری  میں سامنے آنے والی مبینہ معاشی تیزی ہے، جس کا اندازہ وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ ان اعدادوشمار سے لگایا گیا ہے جس میں جولائی تا فروری بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5.9 فیصد اضافہ دکھایا گیا (جو جولائی تا جنوری 5.75 فیصد تھا)۔ دوسری طرف، ملک کے بڑے صنعتی شعبے ان حکومتی دعووں کو یکسر مسترد کر رہے ہیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری نے ڈیٹا جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ (سازگار حالات نہ ہونے کی وجہ سے) ملک بھر میں 150 ٹیکسٹائل ملز مستقل طور پر بند ہوچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں اگلے مالی سال کے لیے معاشی ترقی کے ہدف کو 4.1 فیصد سے کم کر کے 3.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک کے آفیشل زرمبادلہ کے ذخائر کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے، لیکن دستاویزات میں اس تلخ حقیقت کو بالکل نظرانداز کر دیا گیا کہ یہ تمام تر ذخائر غیر ملکی قرضوں کی مرہونِ منت ہیں، جن میں دوست ممالک کے دیے گئے دوطرفہ قرضے، عالمی اداروں (کثیر الجہتی) کے فنڈز اور مارکیٹ سے مہنگے داموں اٹھائے گئے کمرشل قرضے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ہماری معیشت پر پڑنے والے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے (آئی ایم ایف کی جانب سے) بہت ہی معمولی رعایتیں دی گئی معلوم ہوتی ہیں۔ نقل و حمل (ٹرانسپورٹ) کے اخراجات میں اضافے نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی کو بڑھا دیا ہے، جہاں غربت کی انتہائی بلند شرح  کے باعث اس کے اثرات کہیں زیادہ نمایاں ہیں۔ اسی وجہ سے پالیسی ریٹ  بڑھا کر 11.5 فیصد کرنا پڑا  جو کہ اس کمی کے بالکل برعکس ہے جس کا اندازہ حکام نے دسمبر 2025 کے آخر تک لگایا تھا۔ مزید برآں، بیروزگاری میں اضافے کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے کیونکہ نجی شعبہ پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے علاقائی حریفوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ صورتحال آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے باعث مزید ابتر ہو گئی ہے جن میں شعبہ جاتی نااہلیوں کو دور کرنے کے بجائے، تمام تر اخراجات صارفین سے وصول کرنے کی شرط شامل ہے (جیسے کہ حال ہی میں گردشی قرضے کو ختم کرنے کے لیے 1.25 ٹریلین روپے حاصل کیے گئے، جن کا پورا بوجھ صارفین پر ڈال دیا گیا، اور اس سے بجلی مزید مہنگی ہو سکتی ہے کیونکہ حکومت نے شرح بڑھنے کی صورت میں ڈیٹ سروس سرچارج کی حد ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی دستاویزات میں اگرچہ شرائط پر عمل درآمد کی تعریف کی گئی ہے لیکن سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ حکومت نے شرائط کو صرف کاغذی حد تک پورا کیا، ان پر دل سے عمل نہیں کیا۔ اس کی دو مثالیں انتہائی تشویشناک ہیں۔ پہلی یہ کہ گورننس اینڈ ڈائیگنوسٹک اسسمنٹ کی رپورٹ کو دو ماہ تک دبا کر رکھا گیا جس کی وجہ سے دوسرے قرض پروگرام کا معاہدہ تاخیر کا شکار ہو کر 11 دسمبر 2025 کو منظور ہو سکا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ، نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اور خود قومی اسمبلی جیسے اداروں نے  رائٹ آف انفارمیشن کے قانون کو ہوا میں اڑا دیا۔ یہی نہیں بلکہ سرکاری کمپنیوں کے قوانین اور ججوں کی تعیناتی، خصوصی عدالتوں کی کارکردگی اور عدالتی عملے کے احتساب سے جڑی اہم عدالتی اصلاحات کو بھی پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ دوسری مثال یہ ہے کہ کسی بھی سیکٹر کو ٹیکس میں خصوصی رعایت نہ دینے کی بنیادی شرط کو اس وقت توڑا گیا جب چینی کی امپورٹ پر ٹیکس چھوٹ دی گئی (اگرچہ بعد میں آئی ایم ایف کے دباؤ پر اسے بغیر استعمال کیے ختم کرنا پڑا)۔ یہ بات ان الزامات کو سچ ثابت کرتی ہے کہ ایف بی آر صرف کمزوروں پر ہاتھ ڈال کر ٹیکس ہدف پورا کر رہا ہے جبکہ بااثر مافیاز اور لاڈلے شعبوں کو ٹیکس چھوٹ دی جا رہی تھی جسے آئی ایم ایف کی ٹوکنے پر ہی ختم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی اس رپورٹ میں ان خطرات کا ذکر ہے جو خطے کی سیاسی کشیدگی اور جنگی حالات کی وجہ سے معیشت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جس سے شرحِ سود اور رسک پریمیم بڑھنے کا خدشہ ہے۔ (لیکن مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ عالمی ادارہ اس تلخ حقیقت کو نظرانداز کررہا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام زیادہ تر ان ڈائریکٹ ٹیکسز پر چل رہا ہے جو امیر سے زیادہ غریب کی کمر توڑتے ہیں)۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ میں پہلی بار ملکی معیشت کی جلد بحالی کے روشن پہلوؤں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک طرف تو یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے معاشی فارمولے پر چلنے سے ترقی ہوگی (حالانکہ آئی ایم ایف کی تاریخ میں ایسی کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی جہاں ان کے نسخے نے معیشت کا بھلا کیا ہو)، دوسری طرف یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے بہتر ہوتے تعلقات سے ملکی معیشت کو بڑا سہارا ملے گا۔ یہ دراصل عالمی سطح پر پاکستان کے ثالثی کردار اور سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے حالیہ دفاعی معاہدے کا اعتراف ہے، جس میں اب ترکیہ نے بھی شامل ہونے کا اشارہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے چوبیسویں قرض پروگرام کے چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ جیسا کہ عالمی ادارے کی رپورٹس خود گواہی دیتی ہیں کہ پاکستان نے کبھی بھی کسی پروگرام پر پوری طرح عمل نہیں کیا، بلکہ قرض ملتے ہی یا پروگرام معطل ہوتے ہی اصلاحات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملکی حکام لکیر کے فقیر بننے کے بجائے خود اپنی زمین سے جڑا کوئی منفرد معاشی فارمولا تیار کریں اور آئی ایم ایف کو باور کرائیں کہ ملک کو دلدل سے نکالنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ حکومت کو اب سخت اقدامات یا ملکی و غیر ملکی قرضوں پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنے بجٹ اور پرائمری خسارے کو کم کرنے کے لیے شاہانہ سرکاری اخراجات پر بے رحمانہ کٹ لگانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے 7 ارب ڈالر کے جاری توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تیسرے جائزے کے حوالے سے اسٹاف لیول معاہدے (ایس ایل اے) کی دستاویزات 16 مئی کی علی الصبح اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیں۔یہ اقدام بورڈ کی جانب سے 9 مئی کو انہی دستاویزات کی بنیاد پر قسط جاری کرنے کی باضابطہ منظوری کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا۔ معاہدے کا اعلان خود 27 مارچ کو کیا گیا تھا جب کہ 7 ہفتوں کی تاخیر کو آزاد ماہرینِ معاشیات حکام کی جانب سے پیشگی شرائط پر عملدرآمد سے مشروط قرار دے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ایسی ہی دو شرائط سامنے آئی ہیں، خاص طور پر جولائی سے اپریل کے دوران 683 ارب روپے کے شارٹ فال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف بی آر کے حق میں عدالتی فیصلوں کے ذریعے واجب الادا ٹیکس ریونیو وصول کر کے وسائل اکٹھے کرنے کے اقدامات (جو کہ جی ڈی پی کا 0.3 فیصد ہیں اور ان کا بڑا حصہ سپر ٹیکس سے حاصل ہونا ہے)، تاہم رپورٹس اشارہ کرتی ہیں کہ قانونی چارہ جوئی اب بھی جاری ہے جو کہ مقدمہ دائر کرنے والوں کے حق میں بھی ختم ہوسکتی ہے۔ مزید برآں اخراجات کی حدوں میں بھی نظرثانی کی گئی ہے (جی ڈی پی کا 0.1 فیصد) اگرچہ یہ کٹوتی مکمل طور پر ترقیاتی اخراجات سے کی گئی ہے جس کے معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، بجائے اس کے کہ جاری (سرکاری) اخراجات میں کمی کی جاتی۔ اس کے علاوہ ملکی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کو روکنے کے لیے سبسڈیز امتیازی اور مالیاتی طور پر ناقابلِ برداشت ہیں، اگرچہ اس حقیقت کو اجاگر نہیں کیا گیا کہ ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اصل سوال اب یہ ہے کہ کیا یہ پیشگی شرائط اور آئندہ جائزے سے پہلے پوری کی جانے والی دیگر شرائط اپنی اصل حالت میں برقرار رہیں گی، یا پھر مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ جنگی صورتحال کے پیشِ نظر ان میں کوئی نرمی کی جائے گی؛ خصوصاً ایک ایسے وقت میں جب آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام خود یہ یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ وہ بحرانی حالات سے گزرنے والے رکن ممالک کو پہلے سے بڑھ کر ریلیف اور تعاون فراہم کریں گے۔</p>
<p>بظاہر آئی ایم ایف کی جانب سے دی جانے والی رعایت صرف مجموعی معاشی تخمینوں تک ہی محدود نظر آتی ہے، جہاں حیرت انگیز طور پر رواں سال کے لیے ملکی ترقی کا ہدف 3.2 فیصد سے بڑھا کر 3.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس دعوے کی بنیاد فروری  میں سامنے آنے والی مبینہ معاشی تیزی ہے، جس کا اندازہ وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ ان اعدادوشمار سے لگایا گیا ہے جس میں جولائی تا فروری بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 5.9 فیصد اضافہ دکھایا گیا (جو جولائی تا جنوری 5.75 فیصد تھا)۔ دوسری طرف، ملک کے بڑے صنعتی شعبے ان حکومتی دعووں کو یکسر مسترد کر رہے ہیں، خاص طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری نے ڈیٹا جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ (سازگار حالات نہ ہونے کی وجہ سے) ملک بھر میں 150 ٹیکسٹائل ملز مستقل طور پر بند ہوچکی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں اگلے مالی سال کے لیے معاشی ترقی کے ہدف کو 4.1 فیصد سے کم کر کے 3.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک کے آفیشل زرمبادلہ کے ذخائر کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے، لیکن دستاویزات میں اس تلخ حقیقت کو بالکل نظرانداز کر دیا گیا کہ یہ تمام تر ذخائر غیر ملکی قرضوں کی مرہونِ منت ہیں، جن میں دوست ممالک کے دیے گئے دوطرفہ قرضے، عالمی اداروں (کثیر الجہتی) کے فنڈز اور مارکیٹ سے مہنگے داموں اٹھائے گئے کمرشل قرضے شامل ہیں۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ہماری معیشت پر پڑنے والے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے (آئی ایم ایف کی جانب سے) بہت ہی معمولی رعایتیں دی گئی معلوم ہوتی ہیں۔ نقل و حمل (ٹرانسپورٹ) کے اخراجات میں اضافے نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی کو بڑھا دیا ہے، جہاں غربت کی انتہائی بلند شرح  کے باعث اس کے اثرات کہیں زیادہ نمایاں ہیں۔ اسی وجہ سے پالیسی ریٹ  بڑھا کر 11.5 فیصد کرنا پڑا  جو کہ اس کمی کے بالکل برعکس ہے جس کا اندازہ حکام نے دسمبر 2025 کے آخر تک لگایا تھا۔ مزید برآں، بیروزگاری میں اضافے کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے کیونکہ نجی شعبہ پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے علاقائی حریفوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ صورتحال آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے باعث مزید ابتر ہو گئی ہے جن میں شعبہ جاتی نااہلیوں کو دور کرنے کے بجائے، تمام تر اخراجات صارفین سے وصول کرنے کی شرط شامل ہے (جیسے کہ حال ہی میں گردشی قرضے کو ختم کرنے کے لیے 1.25 ٹریلین روپے حاصل کیے گئے، جن کا پورا بوجھ صارفین پر ڈال دیا گیا، اور اس سے بجلی مزید مہنگی ہو سکتی ہے کیونکہ حکومت نے شرح بڑھنے کی صورت میں ڈیٹ سروس سرچارج کی حد ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے)۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی دستاویزات میں اگرچہ شرائط پر عمل درآمد کی تعریف کی گئی ہے لیکن سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ حکومت نے شرائط کو صرف کاغذی حد تک پورا کیا، ان پر دل سے عمل نہیں کیا۔ اس کی دو مثالیں انتہائی تشویشناک ہیں۔ پہلی یہ کہ گورننس اینڈ ڈائیگنوسٹک اسسمنٹ کی رپورٹ کو دو ماہ تک دبا کر رکھا گیا جس کی وجہ سے دوسرے قرض پروگرام کا معاہدہ تاخیر کا شکار ہو کر 11 دسمبر 2025 کو منظور ہو سکا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزارتِ داخلہ، نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اور خود قومی اسمبلی جیسے اداروں نے  رائٹ آف انفارمیشن کے قانون کو ہوا میں اڑا دیا۔ یہی نہیں بلکہ سرکاری کمپنیوں کے قوانین اور ججوں کی تعیناتی، خصوصی عدالتوں کی کارکردگی اور عدالتی عملے کے احتساب سے جڑی اہم عدالتی اصلاحات کو بھی پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ دوسری مثال یہ ہے کہ کسی بھی سیکٹر کو ٹیکس میں خصوصی رعایت نہ دینے کی بنیادی شرط کو اس وقت توڑا گیا جب چینی کی امپورٹ پر ٹیکس چھوٹ دی گئی (اگرچہ بعد میں آئی ایم ایف کے دباؤ پر اسے بغیر استعمال کیے ختم کرنا پڑا)۔ یہ بات ان الزامات کو سچ ثابت کرتی ہے کہ ایف بی آر صرف کمزوروں پر ہاتھ ڈال کر ٹیکس ہدف پورا کر رہا ہے جبکہ بااثر مافیاز اور لاڈلے شعبوں کو ٹیکس چھوٹ دی جا رہی تھی جسے آئی ایم ایف کی ٹوکنے پر ہی ختم کیا گیا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی اس رپورٹ میں ان خطرات کا ذکر ہے جو خطے کی سیاسی کشیدگی اور جنگی حالات کی وجہ سے معیشت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جس سے شرحِ سود اور رسک پریمیم بڑھنے کا خدشہ ہے۔ (لیکن مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ عالمی ادارہ اس تلخ حقیقت کو نظرانداز کررہا ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام زیادہ تر ان ڈائریکٹ ٹیکسز پر چل رہا ہے جو امیر سے زیادہ غریب کی کمر توڑتے ہیں)۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ میں پہلی بار ملکی معیشت کی جلد بحالی کے روشن پہلوؤں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک طرف تو یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے معاشی فارمولے پر چلنے سے ترقی ہوگی (حالانکہ آئی ایم ایف کی تاریخ میں ایسی کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی جہاں ان کے نسخے نے معیشت کا بھلا کیا ہو)، دوسری طرف یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے بہتر ہوتے تعلقات سے ملکی معیشت کو بڑا سہارا ملے گا۔ یہ دراصل عالمی سطح پر پاکستان کے ثالثی کردار اور سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے حالیہ دفاعی معاہدے کا اعتراف ہے، جس میں اب ترکیہ نے بھی شامل ہونے کا اشارہ دیا ہے۔</p>
<p>خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے چوبیسویں قرض پروگرام کے چکر میں پھنسا ہوا ہے۔ جیسا کہ عالمی ادارے کی رپورٹس خود گواہی دیتی ہیں کہ پاکستان نے کبھی بھی کسی پروگرام پر پوری طرح عمل نہیں کیا، بلکہ قرض ملتے ہی یا پروگرام معطل ہوتے ہی اصلاحات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ملکی حکام لکیر کے فقیر بننے کے بجائے خود اپنی زمین سے جڑا کوئی منفرد معاشی فارمولا تیار کریں اور آئی ایم ایف کو باور کرائیں کہ ملک کو دلدل سے نکالنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ حکومت کو اب سخت اقدامات یا ملکی و غیر ملکی قرضوں پر تکیہ کرنے کے بجائے اپنے بجٹ اور پرائمری خسارے کو کم کرنے کے لیے شاہانہ سرکاری اخراجات پر بے رحمانہ کٹ لگانا ہوگا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286361</guid>
      <pubDate>Sat, 16 May 2026 16:19:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/16163143db2871f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/16163143db2871f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
