<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ کپ میں شرکت کا معاملہ: فیفا حکام اور ایران فٹ بال فیڈریشن کی اہم ملاقات آج استنبول میں ہوگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286358/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا کے سیکرٹری جنرل متیاس گرافسٹ روم ہفتے کو استنبول میں ایرانی فٹبال فیڈریشن کے حکام سے ملاقات کریں گے اور ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت کے حوالے سے انہیں تسلی اور یقین دہانی کرائیں گے۔ مذاکرات سے باخبر ایک ذریعے نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو یہ معلومات فراہم کی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیڈول کے مطابق ایران کو ورلڈ کپ کے گروپ اسٹیج کے اپنے تینوں میچز امریکہ میں کھیلنے ہیں لیکن 11 جون سے 19 جولائی تک ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں ایرانی ٹیم کی شرکت فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے پر مزید سوالات اس وقت کھڑے ہوئے جب ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج کو پاسدارانِ انقلابِ اسلامی سے روابط کے باعث رواں ماہ کے شروع میں وینکوور میں ہونے والی فیفا کانگریس میں شرکت کے لیے کینیڈا میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ میکسیکو کے ساتھ ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کرنے والے ممالک، امریکہ اور کینیڈا دونوں ہی ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں اور انہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ اس فورس سے وابستہ کسی بھی فرد کو ملک میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال پر ایرانی نائب وزیرِ خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پر اپنے مؤقف میں کہا کہ فیفا کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام کوالیفائی کرنے والی ٹیموں اور ان کے آفیشلز کی میزبان ممالک تک رسائی یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید لکھا کہ ایران کی فٹ بال ٹیم نے فیفا قوانین کے تحت باقاعدہ کوالیفائنگ راؤنڈ کھیل کر ورلڈ کپ میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ کھلاڑیوں، کوچنگ اسٹاف، فیڈریشن حکام یا ایرانی وفد کے کسی بھی رکن کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا فٹ بال ورلڈ کپ کے بنیادی اصولوں اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے صریحاً منافی ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا کے سیکرٹری جنرل متیاس گرافسٹ روم ہفتے کو استنبول میں ایرانی فٹبال فیڈریشن کے حکام سے ملاقات کریں گے اور ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت کے حوالے سے انہیں تسلی اور یقین دہانی کرائیں گے۔ مذاکرات سے باخبر ایک ذریعے نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو یہ معلومات فراہم کی ہیں۔</strong></p>
<p>شیڈول کے مطابق ایران کو ورلڈ کپ کے گروپ اسٹیج کے اپنے تینوں میچز امریکہ میں کھیلنے ہیں لیکن 11 جون سے 19 جولائی تک ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں ایرانی ٹیم کی شرکت فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔</p>
<p>اس معاملے پر مزید سوالات اس وقت کھڑے ہوئے جب ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج کو پاسدارانِ انقلابِ اسلامی سے روابط کے باعث رواں ماہ کے شروع میں وینکوور میں ہونے والی فیفا کانگریس میں شرکت کے لیے کینیڈا میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ میکسیکو کے ساتھ ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کرنے والے ممالک، امریکہ اور کینیڈا دونوں ہی ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں اور انہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ اس فورس سے وابستہ کسی بھی فرد کو ملک میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔</p>
<p>اس صورتحال پر ایرانی نائب وزیرِ خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پر اپنے مؤقف میں کہا کہ فیفا کا یہ فرض ہے کہ وہ تمام کوالیفائی کرنے والی ٹیموں اور ان کے آفیشلز کی میزبان ممالک تک رسائی یقینی بنائے۔</p>
<p>انہوں نے مزید لکھا کہ ایران کی فٹ بال ٹیم نے فیفا قوانین کے تحت باقاعدہ کوالیفائنگ راؤنڈ کھیل کر ورلڈ کپ میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ کھلاڑیوں، کوچنگ اسٹاف، فیڈریشن حکام یا ایرانی وفد کے کسی بھی رکن کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا فٹ بال ورلڈ کپ کے بنیادی اصولوں اور اسپورٹس مین اسپرٹ کے صریحاً منافی ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286358</guid>
      <pubDate>Sat, 16 May 2026 15:33:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/16152951b21d968.webp" type="image/webp" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/16152951b21d968.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
