<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ 3.44 ٹریلین روپے تک جا پہنچا، آئی ایم ایف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286350/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے اوائل تک گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ بڑھ کر تقریباً 34 کھرب 42 ارب روپے کی سنگین سطح کو چھو چکا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ گیس ٹیرف میں مسلسل اضافے کی بدولت نئے اصل قرضے میں تو ٹھہراؤ آیا ہے لیکن پہلے سے واجب الادا رقم پر عائد ہونے والے لیٹ پیمنٹ سرچارجز اب بھی مجموعی گردشی قرضے میں مسلسل اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی حالیہ جائزہ رپورٹ کے مطابق گیس کی قیمتوں میں لاگت کے تناسب سے مسلسل اضافے کی بدولت نئے اصل گردشی قرضے کو بڑھنے سے روک لیا گیا ہے۔ البتہ پہلے سے واجب الادا خطیر رقم پر بھاری سود اور لیٹ پیمنٹ سرچارجز کے باعث مجموعی گردشی قرضے کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے جو دسمبر 2024 تک 34 کھرب روپے (جی ڈی پی کے 2.7 فیصد) تک جا پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2027 کے پہلے چھ ماہ میں صنعتی شعبے میں گیس کی کھپت میں 29 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا مگر اس کے باوجود گھریلو صارفین اور پاور سیکٹر کی جانب سے طلب میں کمی اور سی پی پی پر منتقلی کے باعث گیس کمپنیوں کی مالی حالت بدستور دگرگوں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے گردشی قرضے کے تمام محرکات اور اس کے ذیلی عوامل کی تفصیلی نگرانی کے لیے ایک جدید اور جامع ڈیش بورڈ تیار کر لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری حکام نے واضح کیا ہم نے گیس سیکٹر کے گردشی قرضوں کی مانیٹرنگ کے لیے سہ ماہی رپورٹنگ کا نظام وضع کر لیا ہے جس سے ڈیٹا مینجمنٹ اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی صلاحیتوں میں بہتری آئی ہے۔ ہم نے ایک جامع سرکولر ڈیٹ مینجمنٹ پلان بھی تیار کیا ہے جسے مطلوبہ منظوریوں کے بعد مالی سال 2027 میں لاگو کر دیا جائے گا جبکہ اس پلان پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ونگ بھی قائم ہو گا۔ اس سلسلے میں آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کو ہر سہ ماہی کے اختتام پر دو ماہ کے اندر گیس کے گردشی قرضوں کے اعداد و شمار فراہم کیے جائیں گے اور ماہانہ بلنگ کا ڈیٹا بھی چھ ہفتوں کے وقفے سے باقاعدگی سے شیئر کیا جاتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گیس سیکٹر کے استحکام اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کرنے کے لیے حکومت نے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کے اثرات گیس ٹیرف میں باقاعدہ اضافے کے ذریعے صارفین تک منتقل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حکومت اوگرا کی سفارشات کے مطابق سال میں دو بار گیس کی قیمتوں پر نظرثانی کے شیڈول (یکم جولائی 2026 اور 15 فروری 2027) کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی پابند ہوگی۔ اس فیصلے کے تحت مہنگی درآمدی آر ایل این جی کا بوجھ عام صارفین پر ڈالا جائے گا تاہم غریب اور کم آمدنی والے طبقے کو ٹارگٹڈ سبسڈیز کے ذریعے اس مہنگائی کے اثرات سے بچایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، زائد مقدار میں موجود آر ایل این جی کو ٹھکانے لگانے کے لیے پاور سیکٹر کے ساتھ قریبی تعاون قائم کیا جائے گا اور موجودہ معاہدوں کی حدود میں رہتے ہوئے سپلائی چین کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ محدود رہنے کی توقع ہے تاہم عالمی سطح پر توانائی کے نرخ بڑھنے سے سال کے آخری مہینوں میں ملکی درآمدات کا گراف تیزی سے اوپر جائے گا۔ اگلے مالی سال 2027 میں پٹرولیم مصنوعات اور گیس مہنگی ہونے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں مزید اضافے کا امکان ہے البتہ ملکی سطح پر طلب میں کمی کے باعث توانائی کی درآمدات کا تجارتی خسارے پر بوجھ قدرے کم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیاتی ادارے نے واضح کیا کہ عالمی منڈی میں کموڈٹیز کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر پاکستان کو انرجی سیکٹر کی مالیاتی صحت میں ہونے والی حالیہ بہتری برقرار رکھنی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ملکی سطح پر پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو لاگت کے تناسب سے مستقل بڑھانا ہوگا جبکہ غریب طبقے کو ٹارگٹڈ سبسڈیز کے ذریعے اس بوجھ سے بچانا ہوگا۔ توانائی شعبے کے نقصانات کم کرنے اور خامیاں دور کرنے کے لیے اصلاحاتی عمل کا تسلسل ہی اس شعبے کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتا ہے اور پاکستان کی کاروباری مسابقت کو بہتر بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق سال 2026 کے اوائل تک گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ بڑھ کر تقریباً 34 کھرب 42 ارب روپے کی سنگین سطح کو چھو چکا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ گیس ٹیرف میں مسلسل اضافے کی بدولت نئے اصل قرضے میں تو ٹھہراؤ آیا ہے لیکن پہلے سے واجب الادا رقم پر عائد ہونے والے لیٹ پیمنٹ سرچارجز اب بھی مجموعی گردشی قرضے میں مسلسل اضافے کی بڑی وجہ ہیں۔</strong></p>
<p>آئی ایم ایف کی حالیہ جائزہ رپورٹ کے مطابق گیس کی قیمتوں میں لاگت کے تناسب سے مسلسل اضافے کی بدولت نئے اصل گردشی قرضے کو بڑھنے سے روک لیا گیا ہے۔ البتہ پہلے سے واجب الادا خطیر رقم پر بھاری سود اور لیٹ پیمنٹ سرچارجز کے باعث مجموعی گردشی قرضے کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے جو دسمبر 2024 تک 34 کھرب روپے (جی ڈی پی کے 2.7 فیصد) تک جا پہنچا تھا۔</p>
<p>مالی سال 2027 کے پہلے چھ ماہ میں صنعتی شعبے میں گیس کی کھپت میں 29 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا مگر اس کے باوجود گھریلو صارفین اور پاور سیکٹر کی جانب سے طلب میں کمی اور سی پی پی پر منتقلی کے باعث گیس کمپنیوں کی مالی حالت بدستور دگرگوں رہی۔</p>
<p>دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے گردشی قرضے کے تمام محرکات اور اس کے ذیلی عوامل کی تفصیلی نگرانی کے لیے ایک جدید اور جامع ڈیش بورڈ تیار کر لیا ہے۔</p>
<p>سرکاری حکام نے واضح کیا ہم نے گیس سیکٹر کے گردشی قرضوں کی مانیٹرنگ کے لیے سہ ماہی رپورٹنگ کا نظام وضع کر لیا ہے جس سے ڈیٹا مینجمنٹ اور مستقبل کی منصوبہ بندی کی صلاحیتوں میں بہتری آئی ہے۔ ہم نے ایک جامع سرکولر ڈیٹ مینجمنٹ پلان بھی تیار کیا ہے جسے مطلوبہ منظوریوں کے بعد مالی سال 2027 میں لاگو کر دیا جائے گا جبکہ اس پلان پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ونگ بھی قائم ہو گا۔ اس سلسلے میں آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کو ہر سہ ماہی کے اختتام پر دو ماہ کے اندر گیس کے گردشی قرضوں کے اعداد و شمار فراہم کیے جائیں گے اور ماہانہ بلنگ کا ڈیٹا بھی چھ ہفتوں کے وقفے سے باقاعدگی سے شیئر کیا جاتا رہے گا۔</p>
<p>گیس سیکٹر کے استحکام اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پوری کرنے کے لیے حکومت نے عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں کے اثرات گیس ٹیرف میں باقاعدہ اضافے کے ذریعے صارفین تک منتقل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حکومت اوگرا کی سفارشات کے مطابق سال میں دو بار گیس کی قیمتوں پر نظرثانی کے شیڈول (یکم جولائی 2026 اور 15 فروری 2027) کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی پابند ہوگی۔ اس فیصلے کے تحت مہنگی درآمدی آر ایل این جی کا بوجھ عام صارفین پر ڈالا جائے گا تاہم غریب اور کم آمدنی والے طبقے کو ٹارگٹڈ سبسڈیز کے ذریعے اس مہنگائی کے اثرات سے بچایا جائے گا۔</p>
<p>اس کے علاوہ، زائد مقدار میں موجود آر ایل این جی کو ٹھکانے لگانے کے لیے پاور سیکٹر کے ساتھ قریبی تعاون قائم کیا جائے گا اور موجودہ معاہدوں کی حدود میں رہتے ہوئے سپلائی چین کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ محدود رہنے کی توقع ہے تاہم عالمی سطح پر توانائی کے نرخ بڑھنے سے سال کے آخری مہینوں میں ملکی درآمدات کا گراف تیزی سے اوپر جائے گا۔ اگلے مالی سال 2027 میں پٹرولیم مصنوعات اور گیس مہنگی ہونے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں مزید اضافے کا امکان ہے البتہ ملکی سطح پر طلب میں کمی کے باعث توانائی کی درآمدات کا تجارتی خسارے پر بوجھ قدرے کم ہو جائے گا۔</p>
<p>عالمی مالیاتی ادارے نے واضح کیا کہ عالمی منڈی میں کموڈٹیز کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر پاکستان کو انرجی سیکٹر کی مالیاتی صحت میں ہونے والی حالیہ بہتری برقرار رکھنی ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ملکی سطح پر پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو لاگت کے تناسب سے مستقل بڑھانا ہوگا جبکہ غریب طبقے کو ٹارگٹڈ سبسڈیز کے ذریعے اس بوجھ سے بچانا ہوگا۔ توانائی شعبے کے نقصانات کم کرنے اور خامیاں دور کرنے کے لیے اصلاحاتی عمل کا تسلسل ہی اس شعبے کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتا ہے اور پاکستان کی کاروباری مسابقت کو بہتر بنا سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286350</guid>
      <pubDate>Sat, 16 May 2026 12:02:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/1611550229e4800.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/1611550229e4800.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
