<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 21:34:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 21:34:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے ڈی بی اور اے آئی آئی بی کی پاکستان میں گرین منصوبوں کیلئے پہلے پانڈا بانڈ اجرا کی حمایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286341/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) نے پاکستان کے پائیدار اور گرین انفرااسٹرکچر منصوبے کی مالی معاونت کیلئے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا میں تعاون کیا ہے۔ یہ بات اے ڈی بی نے اپنے بیان میں کہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے 25 کروڑ ڈالر مالیت کا اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کیا، جس کے ساتھ ہی اس نے چین کی کیپٹل مارکیٹ میں باضابطہ داخلہ حاصل کر لیا اور پاکستان-چین مالیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے مطابق 1.75 ارب چینی یوآن (تقریباً 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) مالیت کا یہ پائیدار ترقیاتی بانڈ، جو آج جاری کیا گیا، رینمنبی بانڈ مارکیٹ میں پاکستان کا پہلا اجرا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ یہ بانڈ چین میں کسی ترقی پذیر رکن ملک کو کیپٹل مارکیٹ تک رسائی دینے کے لیے گارنٹی کے استعمال میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے مطابق 100 فیصد سے کم گارنٹی کوریج کے باوجود مقامی سطح پر ٹرپل اے ریٹنگ حاصل کرنے والا یہ پہلا بانڈ ہے جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے نجی شعبے کے سرمائے کو متحرک کرنے میں جزوی کریڈٹ گارنٹی کے استعمال کی ایک اہم مثال قائم کرتا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک نے کہا کہ سرمایہ کاروں نے ان بانڈز میں بھرپور دلچسپی ظاہر کی جو پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے اور گرین و سماجی طور پر جامع انفرااسٹرکچر منصوبوں کے ذریعے پائیدار ترقی کے عزم پر اعتماد کا اظہار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کی وسطی و مغربی ایشیا کے لیے ڈائریکٹر جنرل لیہ گوٹیریز کے مطابق، ’’اس ٹرانزیکشن نے نہ صرف پاکستان کو چین کی آن شور بانڈ مارکیٹ تک رسائی دی بلکہ مسابقتی شرح پر فنڈنگ حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کیا، جو ملک میں پائیدار انفرااسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی میں معاون ثابت ہوگی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پانڈا بانڈ کے اجرا سے پاکستان کی بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی میں وسعت آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے مطابق اس بانڈ سے حاصل ہونے والی رقم پانی کے نظم و نسق، توانائی کی قابلِ بھروسہ فراہمی اور کارکردگی، اور صحت کے شعبے کی استعداد بڑھانے سے متعلق متعدد اہم منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ’’سرکاری مالیاتی نظام میں پائیداری کے اہداف کو شامل کر کے یہ ٹرانزیکشن پاکستان حکومت کے گرین اور پائیدار انفرااسٹرکچر کے فروغ کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتی ہے اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس کے ساتھ ملک کے فعال روابط کو مزید مستحکم بناتی ہے۔‘‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) اور ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) نے پاکستان کے پائیدار اور گرین انفرااسٹرکچر منصوبے کی مالی معاونت کیلئے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا میں تعاون کیا ہے۔ یہ بات اے ڈی بی نے اپنے بیان میں کہی۔</strong></p>
<p>پاکستان نے 25 کروڑ ڈالر مالیت کا اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کیا، جس کے ساتھ ہی اس نے چین کی کیپٹل مارکیٹ میں باضابطہ داخلہ حاصل کر لیا اور پاکستان-چین مالیاتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا۔</p>
<p>اے ڈی بی کے مطابق 1.75 ارب چینی یوآن (تقریباً 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر) مالیت کا یہ پائیدار ترقیاتی بانڈ، جو آج جاری کیا گیا، رینمنبی بانڈ مارکیٹ میں پاکستان کا پہلا اجرا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ یہ بانڈ چین میں کسی ترقی پذیر رکن ملک کو کیپٹل مارکیٹ تک رسائی دینے کے لیے گارنٹی کے استعمال میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔</p>
<p>اے ڈی بی کے مطابق 100 فیصد سے کم گارنٹی کوریج کے باوجود مقامی سطح پر ٹرپل اے ریٹنگ حاصل کرنے والا یہ پہلا بانڈ ہے جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے نجی شعبے کے سرمائے کو متحرک کرنے میں جزوی کریڈٹ گارنٹی کے استعمال کی ایک اہم مثال قائم کرتا ہے۔‘</p>
<p>بینک نے کہا کہ سرمایہ کاروں نے ان بانڈز میں بھرپور دلچسپی ظاہر کی جو پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے اور گرین و سماجی طور پر جامع انفرااسٹرکچر منصوبوں کے ذریعے پائیدار ترقی کے عزم پر اعتماد کا اظہار ہے۔</p>
<p>اے ڈی بی کی وسطی و مغربی ایشیا کے لیے ڈائریکٹر جنرل لیہ گوٹیریز کے مطابق، ’’اس ٹرانزیکشن نے نہ صرف پاکستان کو چین کی آن شور بانڈ مارکیٹ تک رسائی دی بلکہ مسابقتی شرح پر فنڈنگ حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کیا، جو ملک میں پائیدار انفرااسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی میں معاون ثابت ہوگی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پانڈا بانڈ کے اجرا سے پاکستان کی بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس تک رسائی میں وسعت آئے گی۔</p>
<p>اے ڈی بی کے مطابق اس بانڈ سے حاصل ہونے والی رقم پانی کے نظم و نسق، توانائی کی قابلِ بھروسہ فراہمی اور کارکردگی، اور صحت کے شعبے کی استعداد بڑھانے سے متعلق متعدد اہم منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ’’سرکاری مالیاتی نظام میں پائیداری کے اہداف کو شامل کر کے یہ ٹرانزیکشن پاکستان حکومت کے گرین اور پائیدار انفرااسٹرکچر کے فروغ کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتی ہے اور بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹس کے ساتھ ملک کے فعال روابط کو مزید مستحکم بناتی ہے۔‘‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286341</guid>
      <pubDate>Sat, 16 May 2026 10:58:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/1522180038fdb03.webp" type="image/webp" medium="image" height="1000" width="1500">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/1522180038fdb03.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
