<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 14:44:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 14:44:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مودی کا دورۂ متحدہ عرب امارات: بھارت اور یو اے ای کے درمیان دفاع و توانائی کے معاہدوں پر دستخط</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286335/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق جمعہ کے روز وزیرِاعظم نریندر مودی کے خلیجی ملک کے دورے کے دوران بھارت اور متحدہ عرب امارات نے اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد ایران جنگ کے تناظر میں تعلقات کو مزید گہرا کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق بھارت اور یو اے ای نے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر اور مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی ترسیل سے متعلق معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک نے دفاعی صنعتی تعاون کو فروغ دینے، جدت اور جدید ٹیکنالوجی، تربیت، مشترکہ مشقوں، بحری سلامتی، سائبر دفاع، محفوظ مواصلات اور معلومات کے تبادلے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/narendramodi/status/2055223180932091917'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/narendramodi/status/2055223180932091917"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مودی کے دورے سے قبل بھارتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ وزیرِاعظم اپنے میزبانوں کے ساتھ طویل المدتی توانائی کی فراہمی کے معاہدوں پر بات چیت کا امکان رکھتے ہیں اور ساتھ ہی نئی دہلی کے اسٹریٹجک تیل ذخائر کی توسیع کے لیے حمایت بھی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ یو اے ای کے اوپیک سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد توقع ہے کہ اس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، جس سے بھارت جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ، جو اب تیسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے، نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جو عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں ایران کے حملوں نے خلیجی ممالک، بشمول یو اے ای، میں نقل و حمل اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے، تاہم گزشتہ ماہ ایک کمزور جنگ بندی کے بعد صورتحال میں وقتی بہتری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری میں نئی دہلی اور ابو ظہبی نے 3 ارب ڈالر کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت بھارت کو یو اے ای سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) خریدنی ہے۔ یو اے ای بھارت کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اسی موقع پر دونوں ممالک نے اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے قیام کی جانب بڑھنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ سال بھارت کے حریف ملک پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار بھی ادا کیا ہے، جبکہ سعودی عرب کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات میں بھی معاونت کی ہے، خصوصاً اس وقت جب مملکت کو ایران کے سیکڑوں میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاض نے گزشتہ ماہ پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت کا اعلان بھی کیا تاکہ اسے یو اے ای کو کی جانے والی آئندہ قرض واپسی سے متعلق اربوں ڈالر کے مالی خلا کو پورا کرنے میں مدد دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق جمعہ کے روز جاری بیان میں یو اے ای کی جانب سے 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں ماضی کے معاہدے شامل ہیں، جیسے ایمریٹس این بی ڈی کی جانب سے گزشتہ سال آر بی ایل بینک میں 60 فیصد حصص کی 3 ارب ڈالر میں خریداری، اور ابو ظہبی کی آئی ایچ سی کی جانب سے سمعان (Sammaan) میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق جمعہ کے روز وزیرِاعظم نریندر مودی کے خلیجی ملک کے دورے کے دوران بھارت اور متحدہ عرب امارات نے اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد ایران جنگ کے تناظر میں تعلقات کو مزید گہرا کرنا ہے۔</strong></p>
<p>بیان کے مطابق بھارت اور یو اے ای نے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر اور مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی ترسیل سے متعلق معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔</p>
<p>اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک نے دفاعی صنعتی تعاون کو فروغ دینے، جدت اور جدید ٹیکنالوجی، تربیت، مشترکہ مشقوں، بحری سلامتی، سائبر دفاع، محفوظ مواصلات اور معلومات کے تبادلے میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/narendramodi/status/2055223180932091917'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/narendramodi/status/2055223180932091917"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مودی کے دورے سے قبل بھارتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ وزیرِاعظم اپنے میزبانوں کے ساتھ طویل المدتی توانائی کی فراہمی کے معاہدوں پر بات چیت کا امکان رکھتے ہیں اور ساتھ ہی نئی دہلی کے اسٹریٹجک تیل ذخائر کی توسیع کے لیے حمایت بھی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ یو اے ای کے اوپیک سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد توقع ہے کہ اس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، جس سے بھارت جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔</p>
<p>امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ، جو اب تیسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے، نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جو عالمی تیل کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں ایران کے حملوں نے خلیجی ممالک، بشمول یو اے ای، میں نقل و حمل اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے، تاہم گزشتہ ماہ ایک کمزور جنگ بندی کے بعد صورتحال میں وقتی بہتری آئی ہے۔</p>
<p>جنوری میں نئی دہلی اور ابو ظہبی نے 3 ارب ڈالر کے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت بھارت کو یو اے ای سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) خریدنی ہے۔ یو اے ای بھارت کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اسی موقع پر دونوں ممالک نے اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے قیام کی جانب بڑھنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے تھے۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ سال بھارت کے حریف ملک پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا۔</p>
<p>پاکستان نے اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم ثالث کا کردار بھی ادا کیا ہے، جبکہ سعودی عرب کے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات میں بھی معاونت کی ہے، خصوصاً اس وقت جب مملکت کو ایران کے سیکڑوں میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا۔</p>
<p>ریاض نے گزشتہ ماہ پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت کا اعلان بھی کیا تاکہ اسے یو اے ای کو کی جانے والی آئندہ قرض واپسی سے متعلق اربوں ڈالر کے مالی خلا کو پورا کرنے میں مدد دی جا سکے۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق جمعہ کے روز جاری بیان میں یو اے ای کی جانب سے 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں ماضی کے معاہدے شامل ہیں، جیسے ایمریٹس این بی ڈی کی جانب سے گزشتہ سال آر بی ایل بینک میں 60 فیصد حصص کی 3 ارب ڈالر میں خریداری، اور ابو ظہبی کی آئی ایچ سی کی جانب سے سمعان (Sammaan) میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286335</guid>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 18:43:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/15183013e4041ff.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/15183013e4041ff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
