<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 14:29:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 14:29:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا نے ایران سے بجلی کی درآمد کیلئے ٹیرف کی منظوری دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286309/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;قومی توانائی ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایران کی سرکاری پاور کمپنی توانیر سے 104 میگاواٹ بجلی کی درآمد اور مزید 100 میگاواٹ اضافی بجلی کے لیے 12.40 سینٹس فی کلو واٹ آور (کے ڈبلیو ایچ) کی حد میں ٹیرف کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس کے ساتھ پاکستانی حکام کی جانب سے طریقہ کار کی خلاف ورزیوں اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے فقدان پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی-گارنٹی لمیٹڈ (سی پی پی اے-جی) کی درخواست پر کیا گیا، جو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی اگست 2023 میں دی گئی منظوری کے بعد ایران کے ساتھ سرحد پار بجلی کی فراہمی کے معاہدے میں توسیع اور اس کے دائرہ کار میں اضافے سے متعلق تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی پی پی اے-جی نے پرانے معاہدے کے تحت 104 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے ٹیرف میں توسیع اور ایران کے ساتھ طویل المدتی پاور پرچیز ایگریمنٹ میں ترامیم کے ذریعے مزید 100 میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کی منظوری طلب کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ معاہدہ اصل میں 2002 میں دستخط کیا گیا تھا اور اب تک اس میں متعدد بار ترامیم کی جا چکی ہیں۔ تازہ ترین ترامیم (نمبر 7، 8 اور 9) میں نظرثانی شدہ ٹیرف میکانزم، ادائیگی کی شرائط اور بجلی کی ترسیل سے متعلق تکنیکی انتظامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترمیم نمبر 7 (جو پہلے ہی ختم ہو چکی ہے) کے تحت ٹیرف کی شرائط 31 دسمبر 2024 تک بڑھائی گئی تھیں، جبکہ ادائیگی 45 دن کے اندر طے کرنا لازم قرار دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ترمیم نمبر 8 کے تحت پولان-گبد ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے مزید 100 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کی اجازت دی گئی، جس کے لیے سرحد کے دونوں جانب انفرااسٹرکچر کی تعمیر لازمی قرار دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی مجوزہ ترمیم نمبر 9 میں ٹیرف کا ایک نیا فارمولا شامل کیا گیا ہے جو عالمی تیل کی قیمتوں سے منسلک ہے۔ اس کے مطابق بجلی کی قیمت میں ایک فکسڈ حصہ اور ایک متغیر حصہ شامل ہوگا جو ماہانہ اوسط اوپیک تیل کی قیمت سے منسلک ہوگا۔ اس کے نتیجے میں بجلی کا مجموعی ٹیرف 12.40 سینٹس فی کلو واٹ آور کی حد میں رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترامیم کی منظوری کے باوجود نیپرا نے سی پی پی اے-جی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ معاہدے اکثر منظوری کے بعد جمع کرائے جاتے ہیں جو ریگولیٹری تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے نشاندہی کی کہ ترامیم بعد از وقوع  پیش کی گئیں جو کہ ای پی پی آر 2022 کے تحت لازمی پیشگی منظوری کے قواعد کے خلاف ہیں۔ ٹیرف میں توسیع کی درخواست ستمبر 2023 میں دی گئی تھی، جبکہ یہ مدت جنوری 2022 سے شروع ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے پہلے دی گئی ہدایات کو نظر انداز کرنے پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ یہ رویہ نظامی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی نے خبردار کیا کہ مستقبل میں تاخیر یا بعد از منظوری  کی صورت میں سخت ریگولیٹری کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بلوچستان کے مکران علاقے کے لیے درآمد شدہ بجلی کا کوئی فوری متبادل موجود نہیں، اور یہ خطہ اب بھی بڑی حد تک ایرانی بجلی پر انحصار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>قومی توانائی ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایران کی سرکاری پاور کمپنی توانیر سے 104 میگاواٹ بجلی کی درآمد اور مزید 100 میگاواٹ اضافی بجلی کے لیے 12.40 سینٹس فی کلو واٹ آور (کے ڈبلیو ایچ) کی حد میں ٹیرف کی منظوری دے دی ہے، تاہم اس کے ساتھ پاکستانی حکام کی جانب سے طریقہ کار کی خلاف ورزیوں اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے فقدان پر شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی-گارنٹی لمیٹڈ (سی پی پی اے-جی) کی درخواست پر کیا گیا، جو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی اگست 2023 میں دی گئی منظوری کے بعد ایران کے ساتھ سرحد پار بجلی کی فراہمی کے معاہدے میں توسیع اور اس کے دائرہ کار میں اضافے سے متعلق تھا۔</p>
<p>سی پی پی اے-جی نے پرانے معاہدے کے تحت 104 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کے ٹیرف میں توسیع اور ایران کے ساتھ طویل المدتی پاور پرچیز ایگریمنٹ میں ترامیم کے ذریعے مزید 100 میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کی منظوری طلب کی تھی۔</p>
<p>یہ معاہدہ اصل میں 2002 میں دستخط کیا گیا تھا اور اب تک اس میں متعدد بار ترامیم کی جا چکی ہیں۔ تازہ ترین ترامیم (نمبر 7، 8 اور 9) میں نظرثانی شدہ ٹیرف میکانزم، ادائیگی کی شرائط اور بجلی کی ترسیل سے متعلق تکنیکی انتظامات شامل ہیں۔</p>
<p>ترمیم نمبر 7 (جو پہلے ہی ختم ہو چکی ہے) کے تحت ٹیرف کی شرائط 31 دسمبر 2024 تک بڑھائی گئی تھیں، جبکہ ادائیگی 45 دن کے اندر طے کرنا لازم قرار دیا گیا تھا۔</p>
<p>اسی طرح ترمیم نمبر 8 کے تحت پولان-گبد ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے مزید 100 میگاواٹ بجلی کی فراہمی کی اجازت دی گئی، جس کے لیے سرحد کے دونوں جانب انفرااسٹرکچر کی تعمیر لازمی قرار دی گئی۔</p>
<p>نئی مجوزہ ترمیم نمبر 9 میں ٹیرف کا ایک نیا فارمولا شامل کیا گیا ہے جو عالمی تیل کی قیمتوں سے منسلک ہے۔ اس کے مطابق بجلی کی قیمت میں ایک فکسڈ حصہ اور ایک متغیر حصہ شامل ہوگا جو ماہانہ اوسط اوپیک تیل کی قیمت سے منسلک ہوگا۔ اس کے نتیجے میں بجلی کا مجموعی ٹیرف 12.40 سینٹس فی کلو واٹ آور کی حد میں رہے گا۔</p>
<p>ترامیم کی منظوری کے باوجود نیپرا نے سی پی پی اے-جی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ معاہدے اکثر منظوری کے بعد جمع کرائے جاتے ہیں جو ریگولیٹری تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>اتھارٹی نے نشاندہی کی کہ ترامیم بعد از وقوع  پیش کی گئیں جو کہ ای پی پی آر 2022 کے تحت لازمی پیشگی منظوری کے قواعد کے خلاف ہیں۔ ٹیرف میں توسیع کی درخواست ستمبر 2023 میں دی گئی تھی، جبکہ یہ مدت جنوری 2022 سے شروع ہوتی ہے۔</p>
<p>نیپرا نے پہلے دی گئی ہدایات کو نظر انداز کرنے پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ یہ رویہ نظامی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>اتھارٹی نے خبردار کیا کہ مستقبل میں تاخیر یا بعد از منظوری  کی صورت میں سخت ریگولیٹری کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>نیپرا نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بلوچستان کے مکران علاقے کے لیے درآمد شدہ بجلی کا کوئی فوری متبادل موجود نہیں، اور یہ خطہ اب بھی بڑی حد تک ایرانی بجلی پر انحصار کرتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286309</guid>
      <pubDate>Fri, 15 May 2026 09:35:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/1509334802064e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/1509334802064e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
