<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 18:13:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 18:13:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سول اخراجات سے متعلق میڈیا رپورٹس بے بنیاد، اضافہ صرف 12.5 فیصد ہے، وزارتِ خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286291/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ خزانہ نے جمعرات کو وضاحت کی کہ سول حکومت کے اخراجات سے متعلق حالیہ میڈیا رپورٹس میں مجموعی اعدادوشمار کو درست سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا گیا جبکہ مجموعی اخراجات میں اضافہ 12.5 فیصد رہا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ بعض میڈیا رپورٹس میں سول حکومت کے اخراجات سے متعلق مجموعی اعداد و شمار کو ضروری سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا گیا جس سے وفاقی اخراجات کی نوعیت اور حجم کے بارے میں گمراہ کن تاثر پیدا ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے وضاحت کی کہ رپورٹ کردہ اضافے کا ایک بڑا حصہ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں کی گئی ترامیم اور صحتِ عامہ کے ضروری اقدامات، بالخصوص حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام کے لیے مختص فنڈز سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق جب ان عوامل کو درست طور پر شامل کیا جائے تو آپریشنل غیر ملازم اخراجات میں حقیقی اضافہ معمولی رہ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ مالی سال 25-2024 کے پہلے نو ماہ کے دوران سول حکومت کے اخراجات 559 ارب روپے رہے جن میں 388 ارب روپے ملازمین سے متعلقہ اخراجات اور 171 ارب روپے غیر ملازمتی اخراجات پر مشتمل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق مالی سال 26-2025 کے اسی عرصے کے دوران، سول حکومت کے اخراجات کی مالیت 629 ارب روپے رہی جس میں 427 ارب روپے ملازمین سے متعلقہ اخراجات اور 202 ارب روپے غیر ملازمتی اخراجات شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ تاہم اخراجات کی تفصیلی درجہ بندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملازمین سے متعلق اخراجات میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ وفاقی بجٹ میں تنخواہوں اور مراعات میں کیا گیا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء غیر ملازمتی اخراجات 171 ارب روپے سے بڑھ کر 202 ارب روپے ہو گئے جس سے 31 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس 31 ارب روپے کے اضافے میں سے 29 ارب روپے رواں مالی سال کے دوران حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام  کے لیے مختص کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے لیے مختص رقم کو نکال کر دیکھا جائے تو غیر ملازمتی اخراجات میں اصل اضافہ صرف تقریباً 2 ارب روپے بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ان ضروری اجزاء اور عوامی بہبود کے لیے مختص فنڈز کو اجاگر کیے بغیر اخراجات کے اعداد و شمار پیش کرنا، حکومتی اخراجات کے رجحانات کی مکمل یا درست تصویر فراہم نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ خزانہ نے جمعرات کو وضاحت کی کہ سول حکومت کے اخراجات سے متعلق حالیہ میڈیا رپورٹس میں مجموعی اعدادوشمار کو درست سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا گیا جبکہ مجموعی اخراجات میں اضافہ 12.5 فیصد رہا۔</strong></p>
<p>وزارتِ خزانہ نے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ بعض میڈیا رپورٹس میں سول حکومت کے اخراجات سے متعلق مجموعی اعداد و شمار کو ضروری سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا گیا جس سے وفاقی اخراجات کی نوعیت اور حجم کے بارے میں گمراہ کن تاثر پیدا ہوا۔</p>
<p>وزارت نے وضاحت کی کہ رپورٹ کردہ اضافے کا ایک بڑا حصہ بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں کی گئی ترامیم اور صحتِ عامہ کے ضروری اقدامات، بالخصوص حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام کے لیے مختص فنڈز سے متعلق ہے۔</p>
<p>وزارت کے مطابق جب ان عوامل کو درست طور پر شامل کیا جائے تو آپریشنل غیر ملازم اخراجات میں حقیقی اضافہ معمولی رہ جاتا ہے۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ مالی سال 25-2024 کے پہلے نو ماہ کے دوران سول حکومت کے اخراجات 559 ارب روپے رہے جن میں 388 ارب روپے ملازمین سے متعلقہ اخراجات اور 171 ارب روپے غیر ملازمتی اخراجات پر مشتمل تھے۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق مالی سال 26-2025 کے اسی عرصے کے دوران، سول حکومت کے اخراجات کی مالیت 629 ارب روپے رہی جس میں 427 ارب روپے ملازمین سے متعلقہ اخراجات اور 202 ارب روپے غیر ملازمتی اخراجات شامل تھے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ تاہم اخراجات کی تفصیلی درجہ بندی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملازمین سے متعلق اخراجات میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ وفاقی بجٹ میں تنخواہوں اور مراعات میں کیا گیا اضافہ ہے۔</p>
<p>دریں اثناء غیر ملازمتی اخراجات 171 ارب روپے سے بڑھ کر 202 ارب روپے ہو گئے جس سے 31 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس 31 ارب روپے کے اضافے میں سے 29 ارب روپے رواں مالی سال کے دوران حفاظتی ٹیکوں کے توسیعی پروگرام  کے لیے مختص کیے گئے تھے۔</p>
<p>لہٰذا حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے لیے مختص رقم کو نکال کر دیکھا جائے تو غیر ملازمتی اخراجات میں اصل اضافہ صرف تقریباً 2 ارب روپے بنتا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ان ضروری اجزاء اور عوامی بہبود کے لیے مختص فنڈز کو اجاگر کیے بغیر اخراجات کے اعداد و شمار پیش کرنا، حکومتی اخراجات کے رجحانات کی مکمل یا درست تصویر فراہم نہیں کرتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286291</guid>
      <pubDate>Thu, 14 May 2026 16:34:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/14161725192e5fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/14161725192e5fd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
