<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 03:57:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 03:57:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزارت خزانہ نے بجٹ سازی کا عمل اسحاق ڈار کے سپرد کرنے کی گمراہ کن خبروں کی تردید کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286287/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت خزانہ نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بجٹ سازی کا عمل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے حوالے کر دیا ہے۔ وزارت نے ان دعوؤں کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ  وزارتِ خزانہ 14 مئی 2026 کو ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی خبر بعنوان وزیراعظم نے بجٹ سازی ڈار کے حوالے کر دی کے ذریعے پیدا ہونے والے گمراہ کن اور قیاس آرائیوں پر مبنی تاثر کی سختی سے تردید کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کا کہنا ہے کہ مذکورہ خبر میں وزیراعظم کی جانب سے ایک اعلیٰ سطح کی ریویو کمیٹی کی تشکیل کو غلط طور پر فنانس ڈویژن سے بجٹ سازی کے عمل کی منتقلی یا وزیرِ خزانہ کو سائیڈ لائن کرنے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وضاحت میں مزید کہا گیا کہ یہ تشریح حقیقت کے برعکس، گمراہ کن  اور کمیٹی کے اصل مینڈیٹ یا طریقہ کار کی عکاسی نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے مطلع کیا کہ تشکیل دی گئی کمیٹی کو آئندہ بجٹ کے تناظر میں ٹیکس پالیسی آفس کی تیار کردہ مخصوص ٹیکس تجاویز کا جائزہ لینے اور تجزیہ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اس طرح کے مشاورتی اور بین الوزارتی جائزے کے طریقہ کار نہ تو غیر معمولی ہیں اور نہ ہی انوکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کا موقف تھا کہ وزیراعظم حکومت کے سربراہ ہونے کے ناطے ٹیکس تجاویز کو حتمی شکل دینے سے پہلے متعلقہ کابینہ کے ارکان سے وسیع تر مشاورت کا مکمل آئینی اور انتظامی اختیار رکھتے ہیں، کیونکہ یہ تجاویز کاروبار، مہنگائی، سرمایہ کاری کے ماحول اور وسیع تر معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کسی بھی مرحلے پر بجٹ سازی کا عمل وزارتِ خزانہ یا فنانس ڈویژن سے کہیں اور منتقل نہیں کیا گیا۔ وفاقی بجٹ کی تیاری بدستور وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں وزارتِ خزانہ ہی انجام دے رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں واضح کیا گیا کہ محمد اورنگزیب وزیراعظم کی تشکیل کردہ اس کمیٹی کے رکن بھی ہیں اور وہ تمام بجٹ اور میکرو اکنامک معاملات پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کی قیادت جاری رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں نفاذ کے اقدامات سے متعلق کمیٹی صرف متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ریونیو ایڈمنسٹریشن اور انفورسمنٹ کی تجاویز کو بہتر اور مضبوط بنانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق اس طرح کے ہم آہنگی کے میکانزم گورننس اور مالیاتی انتظام کا ایک معمول کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ نے کہا کہ وفاقی بجٹ ایک اجتماعی، آئینی اور کابینہ کی زیرِ نگرانی مشق ہے جس میں وزارتِ خزانہ اپنا مرکزی اور لازمی ادارہ جاتی کردار ادا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں وزارت نے امید ظاہر کی کہ میڈیا کے ذمہ دار حلقے قیاس آرائیوں پر مبنی تشریحات سے گریز کریں گے اور ادارہ جاتی عمل کو درستگی، سیاق و سباق اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ رپورٹ کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت خزانہ نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بجٹ سازی کا عمل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے حوالے کر دیا ہے۔ وزارت نے ان دعوؤں کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>وزارت خزانہ کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ  وزارتِ خزانہ 14 مئی 2026 کو ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والی خبر بعنوان وزیراعظم نے بجٹ سازی ڈار کے حوالے کر دی کے ذریعے پیدا ہونے والے گمراہ کن اور قیاس آرائیوں پر مبنی تاثر کی سختی سے تردید کرتی ہے۔</p>
<p>وزارت کا کہنا ہے کہ مذکورہ خبر میں وزیراعظم کی جانب سے ایک اعلیٰ سطح کی ریویو کمیٹی کی تشکیل کو غلط طور پر فنانس ڈویژن سے بجٹ سازی کے عمل کی منتقلی یا وزیرِ خزانہ کو سائیڈ لائن کرنے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>وضاحت میں مزید کہا گیا کہ یہ تشریح حقیقت کے برعکس، گمراہ کن  اور کمیٹی کے اصل مینڈیٹ یا طریقہ کار کی عکاسی نہیں کرتی۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے مطلع کیا کہ تشکیل دی گئی کمیٹی کو آئندہ بجٹ کے تناظر میں ٹیکس پالیسی آفس کی تیار کردہ مخصوص ٹیکس تجاویز کا جائزہ لینے اور تجزیہ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اس طرح کے مشاورتی اور بین الوزارتی جائزے کے طریقہ کار نہ تو غیر معمولی ہیں اور نہ ہی انوکھے۔</p>
<p>وزارت کا موقف تھا کہ وزیراعظم حکومت کے سربراہ ہونے کے ناطے ٹیکس تجاویز کو حتمی شکل دینے سے پہلے متعلقہ کابینہ کے ارکان سے وسیع تر مشاورت کا مکمل آئینی اور انتظامی اختیار رکھتے ہیں، کیونکہ یہ تجاویز کاروبار، مہنگائی، سرمایہ کاری کے ماحول اور وسیع تر معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>وزارت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کسی بھی مرحلے پر بجٹ سازی کا عمل وزارتِ خزانہ یا فنانس ڈویژن سے کہیں اور منتقل نہیں کیا گیا۔ وفاقی بجٹ کی تیاری بدستور وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی قیادت میں وزارتِ خزانہ ہی انجام دے رہی ہے۔</p>
<p>بیان میں واضح کیا گیا کہ محمد اورنگزیب وزیراعظم کی تشکیل کردہ اس کمیٹی کے رکن بھی ہیں اور وہ تمام بجٹ اور میکرو اکنامک معاملات پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کی قیادت جاری رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>مزید برآں نفاذ کے اقدامات سے متعلق کمیٹی صرف متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ریونیو ایڈمنسٹریشن اور انفورسمنٹ کی تجاویز کو بہتر اور مضبوط بنانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ وزارت کے مطابق اس طرح کے ہم آہنگی کے میکانزم گورننس اور مالیاتی انتظام کا ایک معمول کا حصہ ہیں۔</p>
<p>وزارتِ خزانہ نے کہا کہ وفاقی بجٹ ایک اجتماعی، آئینی اور کابینہ کی زیرِ نگرانی مشق ہے جس میں وزارتِ خزانہ اپنا مرکزی اور لازمی ادارہ جاتی کردار ادا کر رہی ہے۔</p>
<p>آخر میں وزارت نے امید ظاہر کی کہ میڈیا کے ذمہ دار حلقے قیاس آرائیوں پر مبنی تشریحات سے گریز کریں گے اور ادارہ جاتی عمل کو درستگی، سیاق و سباق اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ رپورٹ کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286287</guid>
      <pubDate>Thu, 14 May 2026 15:40:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/14152752b276fe0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/14152752b276fe0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
