<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 10:27:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 10:27:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آٹو پارٹس انڈسٹری کی ترقی کے لیے مزید زمین الاٹ کی جائے، پاپام کی اپیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286284/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے مینوفیکچررز کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کے آٹو پارٹس اور انجینئرنگ سیکٹر کے لیے صنعتی اراضی کی مناسب دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کے مطابق یہ صنعت جس کے بڑے کلسٹرز لاہور، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں موجود ہیں، ٹریکٹرز، مسافر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور دفاعی گاڑیوں کے لیے درستگی کے ساتھ تیار کردہ پرزہ جات فراہم کرتی ہے جبکہ ملک کی برآمدات میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاپام  کا کہنا ہے کہ صنعتی اراضی تک محدود رسائی، پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں تاخیر اور پلاٹوں کی غیر منصفانہ منسوخی اس شعبے کی ترقی اور وسعت میں رکاوٹ بن رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ زیرِ التواء الاٹمنٹ کے عمل کو تیز کیا جائے اور صنعت کی مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر دوسرے سال صنعتی اسٹیٹس کے رقبے میں کم از کم 20,000 ایکڑ کا اضافہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے مینوفیکچررز کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کے آٹو پارٹس اور انجینئرنگ سیکٹر کے لیے صنعتی اراضی کی مناسب دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔</strong></p>
<p>ایسوسی ایشن کے مطابق یہ صنعت جس کے بڑے کلسٹرز لاہور، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں موجود ہیں، ٹریکٹرز، مسافر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور دفاعی گاڑیوں کے لیے درستگی کے ساتھ تیار کردہ پرزہ جات فراہم کرتی ہے جبکہ ملک کی برآمدات میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔</p>
<p>پاپام  کا کہنا ہے کہ صنعتی اراضی تک محدود رسائی، پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں تاخیر اور پلاٹوں کی غیر منصفانہ منسوخی اس شعبے کی ترقی اور وسعت میں رکاوٹ بن رہی ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ زیرِ التواء الاٹمنٹ کے عمل کو تیز کیا جائے اور صنعت کی مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر دوسرے سال صنعتی اسٹیٹس کے رقبے میں کم از کم 20,000 ایکڑ کا اضافہ کیا جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286284</guid>
      <pubDate>Thu, 14 May 2026 13:58:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/14135054a0e8a9c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/14135054a0e8a9c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
