<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 17:45:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 17:45:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مارچ کے اختتام پر حکومتی قرضہ 80 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286262/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 کے اختتام پر پاکستان کی مرکزی حکومت کا مجموعی قرضہ 80 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ طویل مدتی ملکی قرضوں میں اضافہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے روز جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک کا مجموعی قرضہ، جس میں ملکی اور بیرونی دونوں واجبات شامل ہیں، رواں مالی سال  کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران 2.636 ٹریلین روپے بڑھ گیا۔ اس اضافے کے بعد مرکزی حکومت کا مجموعی قرضہ مارچ 2026 کے اختتام پر 80.524 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ جون 2025 میں یہ 77.888 ٹریلین روپے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق یہ اضافہ بنیادی طور پر وفاقی حکومت کی جانب سے ملکی ذرائع سے بڑھتی ہوئی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے لیے گئے قرضوں کا نتیجہ ہے، جبکہ اسی عرصے میں بیرونی قرضوں میں کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی قرضے مالی سال 26 کے جولائی تا مارچ  کے دوران 5.6 فیصد یا 3.1 ٹریلین روپے کے اضافے کے ساتھ 57.566 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، جو جون 2025 میں 54.472 ٹریلین روپے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس بیرونی قرضوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جو 458 ارب روپے کم ہو کر 23.417 ٹریلین روپے سے 22.959 ٹریلین روپے رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے اس دوران اسٹیٹ بینک کے واجب الادا قرضوں کی ادائیگی جاری رکھی، تاہم شیڈولڈ بینکوں سے قرض لینے میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح سود میں کمی سے فائدہ اٹھانے اور قرضوں کی میچورٹی پروفائل بہتر بنانے کے لیے حکومت نے ٹریژری بلز (ٹی بلز) کے نیلامی اہداف کو کم یا میچورٹی کے قریب رکھا، جس کے نتیجے میں اس مد میں نیٹ ریٹائرمنٹ دیکھی گئی۔ دوسری جانب پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) کے لیے زیادہ اہداف مقرر کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت نے شرح سود کے خطرات کو کم کرنے کے لیے زیادہ تر مالیاتی ضروریات پی آئی بیز (فکسڈ) اور اس کے بعد پی آئی بیز (فلوٹنگ) کے ذریعے پوری کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ میں مالیاتی خسارہ کم ہو کر 0.7 فیصد جی ڈی پی رہ گیا جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے کم سطح ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 2.6 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ محصولات میں بہتری، اخراجات پر کنٹرول، قرضوں کے دباؤ میں کمی اور بیرونی کھاتے میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پہلی بار کئی دہائیوں بعد مالیاتی اور بیرونی دونوں توازن بیک وقت بہتر ہوئے ہیں، جو معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 کے اختتام پر پاکستان کی مرکزی حکومت کا مجموعی قرضہ 80 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ طویل مدتی ملکی قرضوں میں اضافہ ہے۔</strong></p>
<p>بدھ کے روز جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک کا مجموعی قرضہ، جس میں ملکی اور بیرونی دونوں واجبات شامل ہیں، رواں مالی سال  کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران 2.636 ٹریلین روپے بڑھ گیا۔ اس اضافے کے بعد مرکزی حکومت کا مجموعی قرضہ مارچ 2026 کے اختتام پر 80.524 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ جون 2025 میں یہ 77.888 ٹریلین روپے تھا۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق یہ اضافہ بنیادی طور پر وفاقی حکومت کی جانب سے ملکی ذرائع سے بڑھتی ہوئی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے لیے گئے قرضوں کا نتیجہ ہے، جبکہ اسی عرصے میں بیرونی قرضوں میں کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>ملکی قرضے مالی سال 26 کے جولائی تا مارچ  کے دوران 5.6 فیصد یا 3.1 ٹریلین روپے کے اضافے کے ساتھ 57.566 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، جو جون 2025 میں 54.472 ٹریلین روپے تھے۔</p>
<p>اس کے برعکس بیرونی قرضوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جو 458 ارب روپے کم ہو کر 23.417 ٹریلین روپے سے 22.959 ٹریلین روپے رہ گئے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے اس دوران اسٹیٹ بینک کے واجب الادا قرضوں کی ادائیگی جاری رکھی، تاہم شیڈولڈ بینکوں سے قرض لینے میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>شرح سود میں کمی سے فائدہ اٹھانے اور قرضوں کی میچورٹی پروفائل بہتر بنانے کے لیے حکومت نے ٹریژری بلز (ٹی بلز) کے نیلامی اہداف کو کم یا میچورٹی کے قریب رکھا، جس کے نتیجے میں اس مد میں نیٹ ریٹائرمنٹ دیکھی گئی۔ دوسری جانب پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بیز) کے لیے زیادہ اہداف مقرر کیے گئے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت نے شرح سود کے خطرات کو کم کرنے کے لیے زیادہ تر مالیاتی ضروریات پی آئی بیز (فکسڈ) اور اس کے بعد پی آئی بیز (فلوٹنگ) کے ذریعے پوری کیں۔</p>
<p>وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ میں مالیاتی خسارہ کم ہو کر 0.7 فیصد جی ڈی پی رہ گیا جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے کم سطح ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 2.6 فیصد تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ محصولات میں بہتری، اخراجات پر کنٹرول، قرضوں کے دباؤ میں کمی اور بیرونی کھاتے میں استحکام دیکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق پہلی بار کئی دہائیوں بعد مالیاتی اور بیرونی دونوں توازن بیک وقت بہتر ہوئے ہیں، جو معاشی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی علامت ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286262</guid>
      <pubDate>Thu, 14 May 2026 09:50:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/140948024315d79.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/140948024315d79.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
