<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 12:54:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 12:54:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شی جن پنگ سے سربراہ ملاقات کے لیے ٹرمپ چین پہنچ گئے، این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو بھی ہمراہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286246/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز بیجنگ پہنچ گئے، جہاں ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے جس میں این ویڈیا کے جینسن ہوانگ اور ایلون مسک بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ پر زور دینے کا عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ کاروبار کے لیے اپنی منڈی ”کھولیں“، یہ بات انہوں نے دو روزہ سربراہی اجلاس کے آغاز پر کہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا یہ دورہ تقریباً ایک دہائی میں کسی بھی امریکی صدر کا چین کا پہلا دورہ ہے، جس کا مقصد ممکنہ تجارتی معاہدے حاصل کرنا، دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے ساتھ نازک تجارتی جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث متاثرہ اپنی عوامی مقبولیت کو سہارا دینا بتایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر کے ہمراہ جانے والے سی ای اوز کا تعلق زیادہ تر ان کمپنیوں سے ہے جو چین میں اپنے کاروباری مسائل حل کرانا چاہتی ہیں، جن میں این ویڈیا بھی شامل ہے، جسے اپنی طاقتور اے آئی چِپس H200 کی چین کو فروخت کے لیے ریگولیٹری منظوری کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے آخری وقت میں جینسن ہوانگ کو اس دورے میں شامل ہونے کی دعوت دی، اور انہیں الاسکا میں ایندھن بھرنے کے دوران ایئر فورس ون پر سوار ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر کہا ہے کہ وہ صدر شی جن پنگ سے کہیں گے کہ وہ چین کو ”کھولیں“ تاکہ یہ باصلاحیت افراد اپنی صلاحیتیں استعمال کر سکیں۔ انہوں نے کہا، ”میں اپنی پہلی درخواست یہی کروں گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ تعاون بڑھانے، اختلافات کو منظم انداز میں حل کرنے اور ”ایک غیر یقینی اور غیر مستحکم دنیا“ میں زیادہ استحکام اور یقین پیدا کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ اس پُروقار اور تزئین و آرائش سے بھرپور موقع کی تیاری کر رہے تھے، جبکہ ان کے تجارتی مذاکرات کار اسکاٹ بیسنٹ نے جنوبی کوریا میں چینی حکام کے ساتھ تین گھنٹے طویل ابتدائی مذاکرات مکمل کیے۔ چین کی سرکاری خبر ایجنسی شنہوا نے ان مذاکرات کو ”واضح، گہرے اور تعمیری“ قرار دیا، تاہم حکام نے اس کی تفصیلی رپورٹ جاری نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے دو روزہ دورے میں عظیم عوامی ہال میں شاندار استقبالیہ، یونیسکو عالمی ورثہ قرار دیے گئے ”ٹیمپل آف ہیون“ کا دورہ اور ایک سرکاری عشائیہ شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارت کے علاوہ یہ مذاکرات کئی حساس موضوعات کا احاطہ کریں گے جن میں ایران کے ساتھ جنگ اور چین کی جانب سے دعویٰ کردہ مگر جمہوری طور پر چلنے والے جزیرے تائیوان کو امریکی اسلحہ کی فروخت جیسے معاملات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ چین پر زور دیں گے کہ وہ تہران کو واشنگٹن کے ساتھ معاہدے پر آمادہ کرے تاکہ تنازع ختم کیا جا سکے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں اس سلسلے میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے بدھ کے روز تائیوان کو امریکی اسلحہ کی فروخت کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا، جبکہ تقریباً 14 ارب ڈالر کے ایک مجوزہ دفاعی پیکیج کی منظوری کا معاملہ ابھی تک غیر واضح ہے، جسے ٹرمپ کی توثیق درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانونی طور پر امریکا تائیوان کو اپنے دفاع کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کا پابند ہے، اگرچہ دونوں کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات موجود نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بیسنٹ کی جنوبی کوریا میں تیاریوں کے مذاکرات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں ٹرمپ ایئر فورس ون میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ موجود تھے، وہیں اسکاٹ بیسنٹ نے جنوبی کوریا کے انچیون ایئرپورٹ کے ایک وی آئی پی لاؤنج میں چینی نائب وزیراعظم ہی لی فنگ کے ساتھ تازہ تجارتی مذاکرات کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک امریکی اہلکار کے مطابق یہ ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی اور دوپہر 4 بجے (0700 جی ایم ٹی) سے کچھ پہلے ختم ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریق اس جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں جو گزشتہ اکتوبر میں طے پائی تھی، جس کے تحت ٹرمپ نے چین پر عائد تین ہندسوں والے ٹیرف معطل کر دیے تھے، جبکہ شی جن پنگ نے نایاب معدنیات کی عالمی سپلائی روکنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جو الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر ہتھیاروں تک میں استعمال ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ دونوں ممالک تجارتی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے فورمز، اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق مکالمے پر بھی غور کر رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن بوئنگ طیاروں، زرعی مصنوعات اور توانائی کی چین کو فروخت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ تجارتی خسارے میں کمی لائی جا سکے، جو ٹرمپ کے لیے طویل عرصے سے تشویش کا باعث رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ کی جانب سے امریکا پر دباؤ ہے کہ وہ چِپ سازی کے آلات اور جدید سیمی کنڈکٹرز کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ ان مذاکرات میں نسبتاً کمزور پوزیشن کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں، کیونکہ امریکی عدالتوں نے چین سمیت دیگر ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کے ان کے صوابدیدی اختیار کو محدود کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران ایران کے ساتھ جنگ نے امریکا میں مہنگائی میں اضافہ کیا ہے اور اس خدشے کو بھی بڑھا دیا ہے کہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے ایوانوں میں اکثریت کھو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ چینی معیشت بھی سست روی کا شکار ہے، لیکن صدر شی جن پنگ کو امریکا کے برعکس کسی بڑے معاشی یا سیاسی دباؤ کا سامنا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ میں قائم جیو پولیٹیکل ایڈوائزری فرم ”ووساوا ایڈوائزری“ کے بانی اور سی ای او لیو کیان نے کہا کہ ”ٹرمپ انتظامیہ کو اس ملاقات کی چین سے زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ اسے امریکی ووٹرز کو یہ دکھانا ہے کہ معاہدے ہو رہے ہیں اور معاشی فائدہ حاصل کیا جا رہا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ٹرمپ اکثر شی جن پنگ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات اور چین کے لیے احترام کا ذکر کرتے ہیں، لیکن بیجنگ کے کئی رہائشیوں نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ اس دورے کو امید اور شکوک کے ملے جلے جذبات سے دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک 44 سالہ خاتون لو ہوئی لین، جو تیل کی تجارت سے وابستہ ہیں، نے میٹرو اسٹیشن کے باہر روانگی کے وقت کہا: ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ واقعی مخلص ہیں یا نہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا: ”لیکن ایک چینی شہری اور تجارت سے وابستہ شخص کے طور پر، میری خواہش ہے کہ کچھ اچھی پالیسیاں سامنے آئیں۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز بیجنگ پہنچ گئے، جہاں ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے جس میں این ویڈیا کے جینسن ہوانگ اور ایلون مسک بھی شامل ہیں۔ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ پر زور دینے کا عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ کاروبار کے لیے اپنی منڈی ”کھولیں“، یہ بات انہوں نے دو روزہ سربراہی اجلاس کے آغاز پر کہی ہے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ کا یہ دورہ تقریباً ایک دہائی میں کسی بھی امریکی صدر کا چین کا پہلا دورہ ہے، جس کا مقصد ممکنہ تجارتی معاہدے حاصل کرنا، دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے ساتھ نازک تجارتی جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث متاثرہ اپنی عوامی مقبولیت کو سہارا دینا بتایا جا رہا ہے۔</p>
<p>صدر کے ہمراہ جانے والے سی ای اوز کا تعلق زیادہ تر ان کمپنیوں سے ہے جو چین میں اپنے کاروباری مسائل حل کرانا چاہتی ہیں، جن میں این ویڈیا بھی شامل ہے، جسے اپنی طاقتور اے آئی چِپس H200 کی چین کو فروخت کے لیے ریگولیٹری منظوری کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے آخری وقت میں جینسن ہوانگ کو اس دورے میں شامل ہونے کی دعوت دی، اور انہیں الاسکا میں ایندھن بھرنے کے دوران ایئر فورس ون پر سوار ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر کہا ہے کہ وہ صدر شی جن پنگ سے کہیں گے کہ وہ چین کو ”کھولیں“ تاکہ یہ باصلاحیت افراد اپنی صلاحیتیں استعمال کر سکیں۔ انہوں نے کہا، ”میں اپنی پہلی درخواست یہی کروں گا۔“</p>
<p>چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ تعاون بڑھانے، اختلافات کو منظم انداز میں حل کرنے اور ”ایک غیر یقینی اور غیر مستحکم دنیا“ میں زیادہ استحکام اور یقین پیدا کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ٹرمپ اس پُروقار اور تزئین و آرائش سے بھرپور موقع کی تیاری کر رہے تھے، جبکہ ان کے تجارتی مذاکرات کار اسکاٹ بیسنٹ نے جنوبی کوریا میں چینی حکام کے ساتھ تین گھنٹے طویل ابتدائی مذاکرات مکمل کیے۔ چین کی سرکاری خبر ایجنسی شنہوا نے ان مذاکرات کو ”واضح، گہرے اور تعمیری“ قرار دیا، تاہم حکام نے اس کی تفصیلی رپورٹ جاری نہیں کی۔</p>
<p>ٹرمپ کے دو روزہ دورے میں عظیم عوامی ہال میں شاندار استقبالیہ، یونیسکو عالمی ورثہ قرار دیے گئے ”ٹیمپل آف ہیون“ کا دورہ اور ایک سرکاری عشائیہ شامل ہوگا۔</p>
<p>تجارت کے علاوہ یہ مذاکرات کئی حساس موضوعات کا احاطہ کریں گے جن میں ایران کے ساتھ جنگ اور چین کی جانب سے دعویٰ کردہ مگر جمہوری طور پر چلنے والے جزیرے تائیوان کو امریکی اسلحہ کی فروخت جیسے معاملات شامل ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ چین پر زور دیں گے کہ وہ تہران کو واشنگٹن کے ساتھ معاہدے پر آمادہ کرے تاکہ تنازع ختم کیا جا سکے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں اس سلسلے میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔</p>
<p>چین نے بدھ کے روز تائیوان کو امریکی اسلحہ کی فروخت کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا، جبکہ تقریباً 14 ارب ڈالر کے ایک مجوزہ دفاعی پیکیج کی منظوری کا معاملہ ابھی تک غیر واضح ہے، جسے ٹرمپ کی توثیق درکار ہے۔</p>
<p>قانونی طور پر امریکا تائیوان کو اپنے دفاع کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کا پابند ہے، اگرچہ دونوں کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات موجود نہیں۔</p>
<p><strong>بیسنٹ کی جنوبی کوریا میں تیاریوں کے مذاکرات</strong></p>
<p>جہاں ٹرمپ ایئر فورس ون میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ موجود تھے، وہیں اسکاٹ بیسنٹ نے جنوبی کوریا کے انچیون ایئرپورٹ کے ایک وی آئی پی لاؤنج میں چینی نائب وزیراعظم ہی لی فنگ کے ساتھ تازہ تجارتی مذاکرات کیے۔</p>
<p>ایک امریکی اہلکار کے مطابق یہ ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی اور دوپہر 4 بجے (0700 جی ایم ٹی) سے کچھ پہلے ختم ہوئی۔</p>
<p>دونوں فریق اس جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں جو گزشتہ اکتوبر میں طے پائی تھی، جس کے تحت ٹرمپ نے چین پر عائد تین ہندسوں والے ٹیرف معطل کر دیے تھے، جبکہ شی جن پنگ نے نایاب معدنیات کی عالمی سپلائی روکنے کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جو الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر ہتھیاروں تک میں استعمال ہوتے ہیں۔</p>
<p>مزید یہ کہ دونوں ممالک تجارتی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے فورمز، اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق مکالمے پر بھی غور کر رہے ہیں، جبکہ واشنگٹن بوئنگ طیاروں، زرعی مصنوعات اور توانائی کی چین کو فروخت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ تجارتی خسارے میں کمی لائی جا سکے، جو ٹرمپ کے لیے طویل عرصے سے تشویش کا باعث رہا ہے۔</p>
<p>بیجنگ کی جانب سے امریکا پر دباؤ ہے کہ وہ چِپ سازی کے آلات اور جدید سیمی کنڈکٹرز کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے۔</p>
<p>ٹرمپ ان مذاکرات میں نسبتاً کمزور پوزیشن کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں، کیونکہ امریکی عدالتوں نے چین سمیت دیگر ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کے ان کے صوابدیدی اختیار کو محدود کر دیا ہے۔</p>
<p>اسی دوران ایران کے ساتھ جنگ نے امریکا میں مہنگائی میں اضافہ کیا ہے اور اس خدشے کو بھی بڑھا دیا ہے کہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے ایوانوں میں اکثریت کھو سکتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ چینی معیشت بھی سست روی کا شکار ہے، لیکن صدر شی جن پنگ کو امریکا کے برعکس کسی بڑے معاشی یا سیاسی دباؤ کا سامنا نہیں۔</p>
<p>بیجنگ میں قائم جیو پولیٹیکل ایڈوائزری فرم ”ووساوا ایڈوائزری“ کے بانی اور سی ای او لیو کیان نے کہا کہ ”ٹرمپ انتظامیہ کو اس ملاقات کی چین سے زیادہ ضرورت ہے، کیونکہ اسے امریکی ووٹرز کو یہ دکھانا ہے کہ معاہدے ہو رہے ہیں اور معاشی فائدہ حاصل کیا جا رہا ہے۔“</p>
<p>اگرچہ ٹرمپ اکثر شی جن پنگ کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات اور چین کے لیے احترام کا ذکر کرتے ہیں، لیکن بیجنگ کے کئی رہائشیوں نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ اس دورے کو امید اور شکوک کے ملے جلے جذبات سے دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p>ایک 44 سالہ خاتون لو ہوئی لین، جو تیل کی تجارت سے وابستہ ہیں، نے میٹرو اسٹیشن کے باہر روانگی کے وقت کہا: ”مجھے نہیں معلوم کہ وہ واقعی مخلص ہیں یا نہیں۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا: ”لیکن ایک چینی شہری اور تجارت سے وابستہ شخص کے طور پر، میری خواہش ہے کہ کچھ اچھی پالیسیاں سامنے آئیں۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286246</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 18:21:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/f5t01QHniE4/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/f5t01QHniE4/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=f5t01QHniE4"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
