<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 14:44:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 14:44:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ کے اثرات دہلی میں برکس اجلاس پر پڑنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286227/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات اب برکس ممالک کے دو روزہ اجلاس پر بھی پڑنے کا امکان ہے، جو جمعرات سے نئی دہلی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان مشترکہ مؤقف اور مشترکہ اعلامیے پر اتفاقِ رائے ایک بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برکس گروپ، جس میں ابتدائی طور پر برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل تھے، بعد میں مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات کی شمولیت سے وسیع ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ایران نے، جو 2026 کے لیے برکس کی صدارت سنبھالنے والا ہے، بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے خلیجی تنازع میں امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت پر اتفاقِ رائے پیدا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اجلاس میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات نمایاں ہیں، کیونکہ دونوں ممالک حالیہ جنگ میں مخالف فریقین کی حمایت کرتے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں جبکہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی بھی آمد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی نمائندگی اس کے سفیر کریں گے۔ اجلاس کے دوران توانائی بحران اور خطے کی کشیدگی بھی اہم موضوعات ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات اب برکس ممالک کے دو روزہ اجلاس پر بھی پڑنے کا امکان ہے، جو جمعرات سے نئی دہلی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں رکن ممالک کے درمیان مشترکہ مؤقف اور مشترکہ اعلامیے پر اتفاقِ رائے ایک بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>برکس گروپ، جس میں ابتدائی طور پر برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل تھے، بعد میں مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات کی شمولیت سے وسیع ہو گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق ایران نے، جو 2026 کے لیے برکس کی صدارت سنبھالنے والا ہے، بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے خلیجی تنازع میں امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت پر اتفاقِ رائے پیدا کرے۔</p>
<p>تاہم اجلاس میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات نمایاں ہیں، کیونکہ دونوں ممالک حالیہ جنگ میں مخالف فریقین کی حمایت کرتے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں جبکہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی بھی آمد متوقع ہے۔</p>
<p>چین کی نمائندگی اس کے سفیر کریں گے۔ اجلاس کے دوران توانائی بحران اور خطے کی کشیدگی بھی اہم موضوعات ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286227</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 12:52:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/13125022d00cb15.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/13125022d00cb15.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
