<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Commodities</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 07:05:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 28 Jun 2026 07:05:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا سونے اور چاندی پر درآمدی ٹیرف 15 فیصد کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286222/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت نے سونے اور چاندی کی درآمدی ڈیوٹی 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دی ہے تاکہ بیرون ملک سے قیمتی دھاتوں کی خریداری میں کمی لائی جا سکے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری احکامات کے مطابق حکومت نے 10 فیصد بنیادی کسٹمز ڈیوٹی اور 5 فیصد ایگریکلچر انفرااسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ سیس نافذ کیا ہے، جس کے بعد مجموعی درآمدی ٹیکس 15 فیصد ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اس اقدام سے دنیا کے دوسرے بڑے قیمتی دھاتوں کے صارف ملک میں طلب متاثر ہونے کا امکان ہے، تاہم اس سے تجارتی خسارہ کم کرنے اور روپے کو سہارا دینے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نریندر مودی نے بھی حال ہی میں عوام سے ایک سال تک سونے کی خریداری سے گریز کرنے کی اپیل کی تھی تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ رکھے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بلند ٹیکسوں سے غیر قانونی اسمگلنگ دوبارہ بڑھنے کا خدشہ ہے، کیونکہ اس سے غیر رسمی مارکیٹ کے منافع میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بھارت میں سونے کی درآمد تقریباً مکمل طور پر بیرون ملک سے پوری کی جاتی ہے، جس کے باعث حالیہ اقدامات کا عالمی مارکیٹ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت نے سونے اور چاندی کی درآمدی ڈیوٹی 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دی ہے تاکہ بیرون ملک سے قیمتی دھاتوں کی خریداری میں کمی لائی جا سکے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>سرکاری احکامات کے مطابق حکومت نے 10 فیصد بنیادی کسٹمز ڈیوٹی اور 5 فیصد ایگریکلچر انفرااسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ سیس نافذ کیا ہے، جس کے بعد مجموعی درآمدی ٹیکس 15 فیصد ہو گیا ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق اس اقدام سے دنیا کے دوسرے بڑے قیمتی دھاتوں کے صارف ملک میں طلب متاثر ہونے کا امکان ہے، تاہم اس سے تجارتی خسارہ کم کرنے اور روپے کو سہارا دینے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم نریندر مودی نے بھی حال ہی میں عوام سے ایک سال تک سونے کی خریداری سے گریز کرنے کی اپیل کی تھی تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ رکھے جا سکیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق بلند ٹیکسوں سے غیر قانونی اسمگلنگ دوبارہ بڑھنے کا خدشہ ہے، کیونکہ اس سے غیر رسمی مارکیٹ کے منافع میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بھارت میں سونے کی درآمد تقریباً مکمل طور پر بیرون ملک سے پوری کی جاتی ہے، جس کے باعث حالیہ اقدامات کا عالمی مارکیٹ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286222</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 11:45:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/131143358137765.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/131143358137765.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
