<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 28 Jun 2026 18:09:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 28 Jun 2026 18:09:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اے آئی سے عالمی مالیاتی نظام کیلئے بڑھتے خطرات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286219/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;7 مئی کو آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک وارننگ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مالیاتی سلامتی سے متعلق بحث میں ایک نئی شدت اور فوری نوعیت پیدا کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بلاگ پوسٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی عالمی مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ یہ اہم مالیاتی انفرااسٹرکچر کے خلاف مزید پیچیدہ اور جدید سائبر حملوں کو ممکن بنا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینتھروپک کی تیار کردہ ایک انتہائی جدید، اگلی نسل کے اے آئی ماڈل کلاؤڈ مائتھوس کی مثال دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے نشاندہی کی ہے کہ ایسے جدید اے آئی سسٹمز کس تیزی سے کم وقت، کم مہارت اور کم لاگت میں کمزوریوں  کو تلاش کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے آئی کے پرجوش حامی طویل عرصے سے حتیٰ کہ معتدل انتباہات کو بھی ٹیکنالوجی مخالف لوڈائٹس کی بڑبڑاہٹ قرار دے کر مسترد کرتے رہے ہیں جو ترقی کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ تاہم جب آئی ایم ایف جیسا اہم ادارہ عالمی مالیاتی نظام کو درپیش سائبر سیکیورٹی خطرات پر الارم بجاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ احتیاطی انتباہات اب نظرانداز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سوال یہ نہیں رہا کہ آیا اے آئی عالمی مالیات کو تبدیل کرے گا یا نہیں، کیونکہ یہ حقیقت پہلے ہی سامنے آ چکی ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا حکومتیں، ریگولیٹرز اور مالیاتی ادارے اس تبدیلی کے ساتھ آنے والے خطرات کو روکنے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کر سکتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی اے آئی کی کارکردگی، شمولیت اور ترقی کے امکانات سے فائدہ بھی اٹھایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص طور پر مائتھوس کا ظہور اس بات کی ایک پریشان کن جھلک پیش کرتا ہے کہ اے آئی کس تیزی سے موجودہ حفاظتی نظاموں سے آگے نکل رہا ہے۔ اس ماڈل کو گزشتہ ماہ عوامی ریلیز سے اس خوف کے باعث روکا گیا کہ یہ سائبر سیکیورٹی کے بڑے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ یہ ماڈل زیرو ڈے کمزوریوں کو تلاش کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو بڑے آپریٹنگ سسٹمز اور ویب براؤزرز میں پہلے سے موجود مگر نامعلوم خامیاں ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ اے آئی سسٹمز بدنیت عناصر  کے لیے تکنیکی مہارت کی ضرورت کو کم کر رہے ہیں، جس سے ان خامیوں سے فائدہ اٹھانا آسان ہو جاتا ہے۔ زیرو ڈے کمزوریاں خاص طور پر خطرناک ہوتی ہیں کیونکہ اداروں کو ان کا علم حملے کے بعد ہوتا ہے، یعنی ان کے پاس پہلے سے حفاظتی پیچ لگانے کا موقع نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رپورٹس کہ غیر مجاز افراد نے ممکنہ طور پر مائتھوس تک رسائی حاصل کر لی، ان خدشات کو مزید بڑھا رہی ہیں کہ حتیٰ کہ ان ٹیکنالوجیز کو تیار کرنے والی کمپنیاں بھی انہیں مکمل طور پر قابو میں نہیں رکھ سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں اور ریگولیٹرز کو ٹیکنالوجی کمپنیوں کی طاقت اور خودمختاری کو زیادہ مؤثر اور تیزی سے چیلنج کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ برسوں سے انہیں تقریباً بغیر نگرانی کے تیزی سے جدت لانے کی اجازت دی گئی ہے۔ مسئلہ مزید اس وجہ سے بھی بڑھ جاتا ہے کہ اے آئی میں ہونے والی پیشرفت بہت تیزی سے مختلف شعبوں میں نقل ہو سکتی ہے، خصوصاً اوپن سورس ڈویلپرز کے ذریعے جن کے ماڈلز کم یا بغیر حفاظتی اقدامات کے دستیاب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیات کے تناظر میں یہ خطرات خاص طور پر شدید ہیں کیونکہ مالیاتی نظام انتہائی باہم مربوط  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی ایک ادارے، پلیٹ فارم یا کلاؤڈ فراہم کنندہ میں کوئی کمزوری استعمال کر لی جائے تو یہ پورے بینکنگ نیٹ ورکس، ادائیگی کے نظام اور سرمایہ مارکیٹوں میں سلسلہ وار خلل  پیدا کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے، یہ خطرات نظامی  نوعیت کے ہیں اور پورے شعبوں اور سرحدوں کے پار اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ چند بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں پر بڑھتا ہوا انحصار کسی ایک نظام کی خرابی کے اثرات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اس لیے حکومتوں کی جانب سے زیادہ مضبوط ریگولیٹری اور پالیسی ردعمل کی ضرورت ہے، جس میں سائبر سیکیورٹی کو مالیاتی استحکام کا مرکزی ستون سمجھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ترقی یافتہ معیشتیں اب بھی ان خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ وسائل اور ادارہ جاتی صلاحیت رکھتی ہیں، مگر کمزور ڈیجیٹل دفاع، محدود تکنیکی مہارت اور مالی وسائل رکھنے والی ابھرتی ہوئی معیشتیں کہیں زیادہ خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ یہی حقیقت بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کو مزید بڑھا دیتی ہے، اس سے پہلے کہ اے آئی سے متعلق ریگولیٹری تاخیر کے نتائج قابو سے باہر ہو جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>7 مئی کو آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک وارننگ نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مالیاتی سلامتی سے متعلق بحث میں ایک نئی شدت اور فوری نوعیت پیدا کر دی ہے۔</strong></p>
<p>آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بلاگ پوسٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اے آئی کی تیز رفتار ترقی عالمی مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ یہ اہم مالیاتی انفرااسٹرکچر کے خلاف مزید پیچیدہ اور جدید سائبر حملوں کو ممکن بنا رہی ہے۔</p>
<p>اینتھروپک کی تیار کردہ ایک انتہائی جدید، اگلی نسل کے اے آئی ماڈل کلاؤڈ مائتھوس کی مثال دیتے ہوئے آئی ایم ایف نے نشاندہی کی ہے کہ ایسے جدید اے آئی سسٹمز کس تیزی سے کم وقت، کم مہارت اور کم لاگت میں کمزوریوں  کو تلاش کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>اے آئی کے پرجوش حامی طویل عرصے سے حتیٰ کہ معتدل انتباہات کو بھی ٹیکنالوجی مخالف لوڈائٹس کی بڑبڑاہٹ قرار دے کر مسترد کرتے رہے ہیں جو ترقی کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ تاہم جب آئی ایم ایف جیسا اہم ادارہ عالمی مالیاتی نظام کو درپیش سائبر سیکیورٹی خطرات پر الارم بجاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ احتیاطی انتباہات اب نظرانداز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔</p>
<p>اب سوال یہ نہیں رہا کہ آیا اے آئی عالمی مالیات کو تبدیل کرے گا یا نہیں، کیونکہ یہ حقیقت پہلے ہی سامنے آ چکی ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا حکومتیں، ریگولیٹرز اور مالیاتی ادارے اس تبدیلی کے ساتھ آنے والے خطرات کو روکنے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کر سکتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی اے آئی کی کارکردگی، شمولیت اور ترقی کے امکانات سے فائدہ بھی اٹھایا جائے۔</p>
<p>خاص طور پر مائتھوس کا ظہور اس بات کی ایک پریشان کن جھلک پیش کرتا ہے کہ اے آئی کس تیزی سے موجودہ حفاظتی نظاموں سے آگے نکل رہا ہے۔ اس ماڈل کو گزشتہ ماہ عوامی ریلیز سے اس خوف کے باعث روکا گیا کہ یہ سائبر سیکیورٹی کے بڑے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ یہ ماڈل زیرو ڈے کمزوریوں کو تلاش کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو بڑے آپریٹنگ سسٹمز اور ویب براؤزرز میں پہلے سے موجود مگر نامعلوم خامیاں ہوتی ہیں۔</p>
<p>مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ اے آئی سسٹمز بدنیت عناصر  کے لیے تکنیکی مہارت کی ضرورت کو کم کر رہے ہیں، جس سے ان خامیوں سے فائدہ اٹھانا آسان ہو جاتا ہے۔ زیرو ڈے کمزوریاں خاص طور پر خطرناک ہوتی ہیں کیونکہ اداروں کو ان کا علم حملے کے بعد ہوتا ہے، یعنی ان کے پاس پہلے سے حفاظتی پیچ لگانے کا موقع نہیں ہوتا۔</p>
<p>یہ رپورٹس کہ غیر مجاز افراد نے ممکنہ طور پر مائتھوس تک رسائی حاصل کر لی، ان خدشات کو مزید بڑھا رہی ہیں کہ حتیٰ کہ ان ٹیکنالوجیز کو تیار کرنے والی کمپنیاں بھی انہیں مکمل طور پر قابو میں نہیں رکھ سکتیں۔</p>
<p>یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں اور ریگولیٹرز کو ٹیکنالوجی کمپنیوں کی طاقت اور خودمختاری کو زیادہ مؤثر اور تیزی سے چیلنج کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ برسوں سے انہیں تقریباً بغیر نگرانی کے تیزی سے جدت لانے کی اجازت دی گئی ہے۔ مسئلہ مزید اس وجہ سے بھی بڑھ جاتا ہے کہ اے آئی میں ہونے والی پیشرفت بہت تیزی سے مختلف شعبوں میں نقل ہو سکتی ہے، خصوصاً اوپن سورس ڈویلپرز کے ذریعے جن کے ماڈلز کم یا بغیر حفاظتی اقدامات کے دستیاب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>عالمی مالیات کے تناظر میں یہ خطرات خاص طور پر شدید ہیں کیونکہ مالیاتی نظام انتہائی باہم مربوط  ہے۔</p>
<p>اگر کسی ایک ادارے، پلیٹ فارم یا کلاؤڈ فراہم کنندہ میں کوئی کمزوری استعمال کر لی جائے تو یہ پورے بینکنگ نیٹ ورکس، ادائیگی کے نظام اور سرمایہ مارکیٹوں میں سلسلہ وار خلل  پیدا کر سکتی ہے۔</p>
<p>جیسا کہ آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے، یہ خطرات نظامی  نوعیت کے ہیں اور پورے شعبوں اور سرحدوں کے پار اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ چند بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں پر بڑھتا ہوا انحصار کسی ایک نظام کی خرابی کے اثرات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اس لیے حکومتوں کی جانب سے زیادہ مضبوط ریگولیٹری اور پالیسی ردعمل کی ضرورت ہے، جس میں سائبر سیکیورٹی کو مالیاتی استحکام کا مرکزی ستون سمجھا جائے۔</p>
<p>اگرچہ ترقی یافتہ معیشتیں اب بھی ان خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ وسائل اور ادارہ جاتی صلاحیت رکھتی ہیں، مگر کمزور ڈیجیٹل دفاع، محدود تکنیکی مہارت اور مالی وسائل رکھنے والی ابھرتی ہوئی معیشتیں کہیں زیادہ خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔ یہی حقیقت بین الاقوامی تعاون کی ضرورت کو مزید بڑھا دیتی ہے، اس سے پہلے کہ اے آئی سے متعلق ریگولیٹری تاخیر کے نتائج قابو سے باہر ہو جائیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286219</guid>
      <pubDate>Wed, 13 May 2026 11:15:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/1311125542ebc11.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/1311125542ebc11.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
