<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 18:14:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 18:14:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملائیشیا کے قریب تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی، 14 افراد لاپتہ، 23 کو بچا لیا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40286181/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملائیشیا کے مغربی ساحل پر واقع پنگکور جزیرے کے قریب ایک کشتی ڈوبنے سے کم از کم 14  تارکین وطن لاپتہ ہو گئے ہیں، جبکہ 23 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کشتی میں سوار افراد کا تعلق انڈونیشیا سے ہونے کا شبہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشین میری ٹائم انفورسمنٹ ایجنسی  کے مطابق واقعے کی اطلاع پیر کی صبح ایک مقامی ماہی گیر نے دی، جس نے سمندر میں تیرتے ہوئے چند زندہ بچ جانے والے افراد کو دیکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایجنسی کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کشتی میں مجموعی طور پر 37 افراد سوار تھے۔ اب تک 23 افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے جبکہ باقی 14 کی تلاش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیرک ریاست کے ڈائریکٹر محمد شکرئی خطاب کے مطابق تارکین وطن 9 مئی کو انڈونیشیا کے شہر کساران سے روانہ ہوئے تھے اور ان کی منزل ملائیشیا کے مختلف علاقے تھے جن میں پینانگ، ترنگانو، سیلانگور اور کوالالمپور شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کشتیوں، ہیلی کاپٹر اور نگرانی کے طیاروں کی مدد سے سرچ آپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچائے گئے افراد کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملائیشیا میں لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کام کرتے ہیں، تاہم انسانی اسمگلنگ کے باعث ایسے سمندری سفر اکثر خطرناک ثابت ہوتے ہیں اور کشتیوں کے الٹنے کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملائیشیا کے مغربی ساحل پر واقع پنگکور جزیرے کے قریب ایک کشتی ڈوبنے سے کم از کم 14  تارکین وطن لاپتہ ہو گئے ہیں، جبکہ 23 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کشتی میں سوار افراد کا تعلق انڈونیشیا سے ہونے کا شبہ ہے۔</strong></p>
<p>ملائیشین میری ٹائم انفورسمنٹ ایجنسی  کے مطابق واقعے کی اطلاع پیر کی صبح ایک مقامی ماہی گیر نے دی، جس نے سمندر میں تیرتے ہوئے چند زندہ بچ جانے والے افراد کو دیکھا۔</p>
<p>ایجنسی کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کشتی میں مجموعی طور پر 37 افراد سوار تھے۔ اب تک 23 افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے جبکہ باقی 14 کی تلاش جاری ہے۔</p>
<p>پیرک ریاست کے ڈائریکٹر محمد شکرئی خطاب کے مطابق تارکین وطن 9 مئی کو انڈونیشیا کے شہر کساران سے روانہ ہوئے تھے اور ان کی منزل ملائیشیا کے مختلف علاقے تھے جن میں پینانگ، ترنگانو، سیلانگور اور کوالالمپور شامل تھے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کشتیوں، ہیلی کاپٹر اور نگرانی کے طیاروں کی مدد سے سرچ آپریشن جاری ہے۔</p>
<p>بچائے گئے افراد کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>ملائیشیا میں لاکھوں غیر قانونی تارکین وطن کام کرتے ہیں، تاہم انسانی اسمگلنگ کے باعث ایسے سمندری سفر اکثر خطرناک ثابت ہوتے ہیں اور کشتیوں کے الٹنے کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40286181</guid>
      <pubDate>Tue, 12 May 2026 12:29:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/05/121228389d8623c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/05/121228389d8623c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
